Express News:
2026-06-03@08:10:54 GMT

ٹرمپ اور ان کے فیصلے

اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT

  ڈونلڈ ٹرمپ وہ خوش نصیب شخص ہیں جنھیں امریکی قوم نے اُن کی قابلیت اور ذہانت کے برعکس مظلومیت کے ووٹ سے نوازا ہے۔ 2024کے انتخابات میں ہمارے یہاں کی طرح امریکا میں بھی مظلومیت کے فیکٹر نے بڑا کام کیا اور ڈونلڈ ٹرمپ جن پر وہاں کیپٹل ہلز پر حملہ کرنے کا الزام بھی تھا اور وہ اس سے متعلق ایک مقدمے میں نامزد بھی تھے کہ عوامی حمایت کا یہ کرشمہ رونما ہوگیا اور وہ اپنے آپے میں نہ رہے۔

وہ سمجھ بیٹھے کہ وہ صرف امریکا کے ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کے صدر منتخب ہوچکے ہیں۔ روس، جرمنی، فرانس اور جاپان سمیت سارے ممالک اب اُن کے حکم اور فرمان امروز کے تابع دار بن چکے ہیں، وہ جو فیصلہ کریں گے اور جو حکم بھی دیں گے، ساری دنیا ان کے حکم کے آگے سرنگوں ہوجائے گی اور بلا چوں وچرا اس پر عمل پیرا ہوجائے گی۔

اقتدار سنبھالتے ہی انھوں نے بہت جلد بازی میں بڑے بڑے عاجلانہ فیصلے کر ڈالے جن پر انھیں فوراً ہی یوٹرن بھی لینا پڑا لیکن وہ پھر بھی اپنی اس جذباتی عادت اور فطرت سے باز نہیں آئے۔ سب سے پہلا فیصلہ انھوں نے تارکین وطن کے حوالے سے کیا اور اپنے ملک سے اُن تمام غیر ملکی افراد کو ملک بدرکرنے کا حکم جاری کر ڈالا جو وہاں برسوں سے آباد تھے اور جنھیں وہاں کی پچھلی حکومتوں نے اپنے یہاں رہنے اورکام کرنے کی اجازت بھی دے رکھی تھی۔

اعلیٰ تعلیم کی غرض سے آنے والے غیر ملکی طلبا کو بھی اپنے اس فیصلے کے تحت نکال باہرکرنے کا عندیہ دے ڈالا۔ یہ ایک ایسا بے تکا فیصلہ تھا جس پر مکمل عمل درآمد ممکن ہی نہیں تھا، لیکن بہرحال اسے واپس لینے میں ٹرمپ کو پشیمانی اور سبکی اٹھانے کا سامنا ہے، لٰہذا اسے وہ اعلانیہ واپس لینے میں پس و پیش سے کام لے رہے ہیں۔ اسی طرح انھوں نے اپنی جذباتی اور جلد باز فطرت کی وجہ سے تمام ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کا ایک بہت ہی بڑا فیصلہ کر ڈالا جس کے نتائج کے بارے میں انھوں نے پہلے سے ہوم ورک ہی نہیں کیا اور ساری دنیا سے دشمنی مول لی۔

حالانکہ بعد ازاں انھوں نے اس پر بات چیت کرنے اور ٹیرف کو کم کرنے پر رضا مندی بھی ظاہرکر دی، مگر اس غیر ذمے دارانہ فیصلے نے اُن کی قابلیت پر شک و شبہات ضرور پیدا کردیے۔ وہ اب اس مجوزہ ٹیرف کو کسی نہ کسی بہانے سے واپس لینے کے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔ انھیں معلوم ہوگیا کہ یہ یکطرفہ ٹیرف اس طرح زبردستی لاگوکیا ہی نہیں جاسکتا ہے۔ ایسا کرنے سے وہ ساری دنیا میں اکیلے رہ جائیں گے اور کوئی ملک اُن سے تجارت نہیں کرے گا۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ انھیں دنیا کی ضرورت نہیں ہے بلکہ دنیا کو امریکا کی ضرورت ہے، مگر بہت جلد اُن کی یہ خام خیالی بھی دور ہوگئی، وہ اب تجارت اور بات چیت کے نام پر اپنی غلطیاں سدھارنے میں لگے ہوئے ہیں۔

اسی طرح انھوں نے عہدہِ صدارت سنبھالتے ہی دنیا کو یہ تاثر دیا کہ وہ ساری دنیا میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں اور خود کو امن کا پیامبر ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ روس اور یوکرین کی جنگ میں جب انھوں نے دیکھا کہ وہاں کامیابی کے امکانات بہت ہی کم رہ گئے ہیں اور ایسا نہ ہوکہ روس یوکرین پر قابض ہوجائے انھوں نے یوکرینی صدر زیلنسکی کو جنگ نہ بند کرنے پر اپنے یہاں بلا کر خوب عزت افزائی بھی کر ڈالی۔ یوکرین کو روس سے بھڑانے اور اسے ہر طرح کی مدد اور امداد کرنے کے دعوے کرنے والے امریکا اور اس کے حواری اس طرح اچانک نظریں پھیر لیں گے، یوکرین نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ ہم اور ہماری قوم ہمیشہ سمجھا کرتی تھی اور اب بھی سمجھا کرتی ہے کہ امریکا انتہائی بے اعتبار ملک ہے۔ یوکرینی قوم کو بھی اب شاید سمجھ آگیا ہے کہ امریکا پر اعتبار کر کے کسی دوسرے ملک سے لڑائی مول نہیں لی جا سکتی ہے، امریکا اس وقت تک کسی کی مدد نہیں کرتا جب تک اس کے اپنے مفادات خطروں میں نہ گھر جائیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا انداز حکومت عاجلانہ اور بچکانہ فیصلوں سے عبارت ہے، اس نے اپنے پہلے دور میں بھی کچھ ایسے ہی فیصلے کیے تھے جس کے بعد ہم سمجھ رہے تھے کہ امریکی قوم اسے دوبارہ حق حکمرانی عطا نہیں کرے گی۔ مگر سابقہ امریکی صدرکی کچھ کمزوریوں اور ٹرمپ کے لیے ہمدردی کے فیکٹر نے اسے ایک بار پھر یہ کامیابی دلا دی۔ انھیں معلوم ہے یہ ان کا آخری موقعہ ہے، وہ ایسے فیصلے کر کے جانا چاہتے ہیں کہ دنیا انھیں کسی طرح یاد کرتی رہے چاہے اچھے نام سے یا برے نام سے۔ غزہ کے معاملے میں انھوں نے اپنی امن پسندی بھی نہ صرف بھلا دی بلکہ جھٹک کے رکھ دی۔

یہ شخص غزہ کو نیست و نابود کر دینے پر تلا ہوا ہے۔ اس مقصد کے لیے اس نے اسرائیل کی پشت پناہی میں کوئی کثرت اٹھا نہ رکھی۔ اسے یہاںسیز فائر کی اپنی پالیسی بھی یاد نہ رہی۔ کہنے کو دنیا وہ بھر میں سیز فائرکرواتا پھر رہا ہے مگر غزہ اور فلسطین کے معاملے میں اس کا طریقہ اور طرز عمل بہت ہی افسوس ناک ہے، وہ وہاں اسرائیل کا قبضہ دیکھنا چاہتا ہے اور یہاں تک کہہ چکا ہے کہ فلسطینی ریاست اگر بنانی ہے تو کسی اور عرب ملک میں بنا لی جائے مگر یہاں نہیں۔ گریٹر اسرائیل کی خواہش میں وہ پوری طرح نیتن یاہو کے ساتھ کھڑا ہے۔

غزہ میں فلسطینی قوم کے ساتھ کوئی اور اسلامی ملک بھی لڑ نہیں رہا، وہ قوم اکیلی تنہا اسرائیلی زیادتیوں کو جھیل رہی ہے ۔ وہاں اسرائیل فوج کا سامنا کسی اور فوج سے نہیں ہے بلکہ بے آسرا نہتے فلسطینیوں سے ہے، جن کے تمام افراد یا تو مارے جاچکے ہیں یا زخمی ہو کر اسپتالوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ کوئی دوسرا اسلامی ملک بھی اُن کی مدد کو نہیں آرہا، ساری دنیا بے حس ہوچکی ہے۔ یو این او میں مذمتی قرارداد بھی اس لیے پاس نہیں ہوسکتی کہ امریکا اسے ویٹو کر دیتا ہے۔

 ٹرمپ کی امن پسندی کا بھانڈا تو اسی وقت پھوٹ چکا تھا جب اس کی طرف سے غزہ میں اسرائیلی زیادتیوں کی قرارداد ویٹو کر دی گئی تھی۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ اس نے پاک بھارت جنگ اور ایران اسرائیل جنگ بند کروائی ہے، حالانکہ دنیا کے اخبارات گواہ ہیں کہ پاک بھارت جنگ جب شروع ہوئی تو ٹرمپ نے یہ کہہ کر اس میں کوئی کردار ادا کرنے سے معذرت کر لی تھی کہ میرا اس جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہاں تک کہدیا کہ امریکا اس جنگ میں کوئی کردار ادا نہیں کرتا جس میں اس کے اپنے مفادات شامل نہ ہوں، مگر جب اس نے دیکھا کہ اس کا بہت بڑا قریبی دوست ملک اور اسٹرٹیجک پارٹنر بھارت مار کھانے لگا ہے تو اس نے سیز فائر کا حکم صادر فرما دیا۔

اسی طرح جب ایران کے ہاتھوں اسرائیل کی ٹھکائی ہونے لگی تو وہاں بھی سیز فائر کروا دیا گیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے اس چھ ماہ کے دور میں ہم نے عالمی میڈیا میں صرف اسی کی خبریں دیکھی بھی ہیں اور سنی بھی ہیں۔ اس نے خود کو دنیا کی خبروں کا محور بنایا ہوا ہے۔ اس نے ابھی تک تدبر اور اعلیٰ حکمت عملی والا کوئی بڑا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اسے دنیا کے ایک بہت ہی پاروفل ملک کے صدر ہونے کا زعم ہے، وہ چاہتا ہے کہ روس اور چین سمیت سارے ممالک بھی اس کے تابعدار بن جائیں، اس کی یہی خوش فہمی اسے تباہ بھی کرسکتی ہے، وہ اگر چاہتے ہیں کہ دنیا انھیں اچھے نام سے یاد کرے یا انھیں امن کے نوبل انعام سے نوازا جائے تو انھیں اپنا طرز عمل بدلنا ہوگا۔ سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ دانش مندانہ اور بصیرت افروز مستحکم فیصلے کرنا ہونگے، تبھی جا کر وہ ایک مقبول عالمی رہنما کے طور پر یاد کیے جاسکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے

امریکا میں آپریشن چیک میٹ کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری سخت کریک ڈاؤن کی لپیٹ میں ہیں۔

دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کے لیے وبال جان بن  چکے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا نے وفاقی امیگریشن نافذ کرنے کی مہم ’آپریشن چیک میٹ‘ کے تحت سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔

امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق آپریشن چیک میٹ کے تحت  گرفتار کیے گئے 36 ٹرک ڈرائیوروں میں سے کم از کم 30 بھارتی شہری تھے۔

خود بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد افراد کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس  تک موجود نہیں   تھے ۔ تمام افراد کیخلاف امریکی  قانون کے تحت کارروائی کر کے  امریکا سے نکالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

یوما سیکٹر کے قائم مقام چیف پٹرول ایجنٹ ڈسٹن کاڈل نے کہا ہے کہ  غیر قانونی طور پر موجود  بھارتی  ڈرائیورعوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں ۔

سعودی عرب، کینیڈا اور امریکا سمیت بیشتر ممالک جعلی دستاویزات اورفراڈ سمیت متعدد وجوہات کی بنیاد پر بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کو ملک بدر کر چکے ہیں ۔ بھارتی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق2021 سے 2025 کے دوران 52 مختلف ممالک سے  171,150 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا ہے۔

عالمی ماہرین کے مطابق مودی کے نام نہاد شائننگ انڈیا کے دعووں کے باوجود بھارتی شہریوں نےغیر قانونی طور پر ملک سے بھاگ کر بھارت کا پول کھول دیا  ہے۔ مختلف ممالک میں ریاست مخالف سرگرمیوں اور سنگین جرائم میں ملوث  بھارتی تارکین عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتالیں غیر قانونی قرار؛ وفاقی آئینی عدالت کا حکم
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ