Express News:
2026-07-24@06:13:14 GMT

ٹرمپ اور ان کے فیصلے

اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT

  ڈونلڈ ٹرمپ وہ خوش نصیب شخص ہیں جنھیں امریکی قوم نے اُن کی قابلیت اور ذہانت کے برعکس مظلومیت کے ووٹ سے نوازا ہے۔ 2024کے انتخابات میں ہمارے یہاں کی طرح امریکا میں بھی مظلومیت کے فیکٹر نے بڑا کام کیا اور ڈونلڈ ٹرمپ جن پر وہاں کیپٹل ہلز پر حملہ کرنے کا الزام بھی تھا اور وہ اس سے متعلق ایک مقدمے میں نامزد بھی تھے کہ عوامی حمایت کا یہ کرشمہ رونما ہوگیا اور وہ اپنے آپے میں نہ رہے۔

وہ سمجھ بیٹھے کہ وہ صرف امریکا کے ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کے صدر منتخب ہوچکے ہیں۔ روس، جرمنی، فرانس اور جاپان سمیت سارے ممالک اب اُن کے حکم اور فرمان امروز کے تابع دار بن چکے ہیں، وہ جو فیصلہ کریں گے اور جو حکم بھی دیں گے، ساری دنیا ان کے حکم کے آگے سرنگوں ہوجائے گی اور بلا چوں وچرا اس پر عمل پیرا ہوجائے گی۔

اقتدار سنبھالتے ہی انھوں نے بہت جلد بازی میں بڑے بڑے عاجلانہ فیصلے کر ڈالے جن پر انھیں فوراً ہی یوٹرن بھی لینا پڑا لیکن وہ پھر بھی اپنی اس جذباتی عادت اور فطرت سے باز نہیں آئے۔ سب سے پہلا فیصلہ انھوں نے تارکین وطن کے حوالے سے کیا اور اپنے ملک سے اُن تمام غیر ملکی افراد کو ملک بدرکرنے کا حکم جاری کر ڈالا جو وہاں برسوں سے آباد تھے اور جنھیں وہاں کی پچھلی حکومتوں نے اپنے یہاں رہنے اورکام کرنے کی اجازت بھی دے رکھی تھی۔

اعلیٰ تعلیم کی غرض سے آنے والے غیر ملکی طلبا کو بھی اپنے اس فیصلے کے تحت نکال باہرکرنے کا عندیہ دے ڈالا۔ یہ ایک ایسا بے تکا فیصلہ تھا جس پر مکمل عمل درآمد ممکن ہی نہیں تھا، لیکن بہرحال اسے واپس لینے میں ٹرمپ کو پشیمانی اور سبکی اٹھانے کا سامنا ہے، لٰہذا اسے وہ اعلانیہ واپس لینے میں پس و پیش سے کام لے رہے ہیں۔ اسی طرح انھوں نے اپنی جذباتی اور جلد باز فطرت کی وجہ سے تمام ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کا ایک بہت ہی بڑا فیصلہ کر ڈالا جس کے نتائج کے بارے میں انھوں نے پہلے سے ہوم ورک ہی نہیں کیا اور ساری دنیا سے دشمنی مول لی۔

حالانکہ بعد ازاں انھوں نے اس پر بات چیت کرنے اور ٹیرف کو کم کرنے پر رضا مندی بھی ظاہرکر دی، مگر اس غیر ذمے دارانہ فیصلے نے اُن کی قابلیت پر شک و شبہات ضرور پیدا کردیے۔ وہ اب اس مجوزہ ٹیرف کو کسی نہ کسی بہانے سے واپس لینے کے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔ انھیں معلوم ہوگیا کہ یہ یکطرفہ ٹیرف اس طرح زبردستی لاگوکیا ہی نہیں جاسکتا ہے۔ ایسا کرنے سے وہ ساری دنیا میں اکیلے رہ جائیں گے اور کوئی ملک اُن سے تجارت نہیں کرے گا۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ انھیں دنیا کی ضرورت نہیں ہے بلکہ دنیا کو امریکا کی ضرورت ہے، مگر بہت جلد اُن کی یہ خام خیالی بھی دور ہوگئی، وہ اب تجارت اور بات چیت کے نام پر اپنی غلطیاں سدھارنے میں لگے ہوئے ہیں۔

اسی طرح انھوں نے عہدہِ صدارت سنبھالتے ہی دنیا کو یہ تاثر دیا کہ وہ ساری دنیا میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں اور خود کو امن کا پیامبر ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ روس اور یوکرین کی جنگ میں جب انھوں نے دیکھا کہ وہاں کامیابی کے امکانات بہت ہی کم رہ گئے ہیں اور ایسا نہ ہوکہ روس یوکرین پر قابض ہوجائے انھوں نے یوکرینی صدر زیلنسکی کو جنگ نہ بند کرنے پر اپنے یہاں بلا کر خوب عزت افزائی بھی کر ڈالی۔ یوکرین کو روس سے بھڑانے اور اسے ہر طرح کی مدد اور امداد کرنے کے دعوے کرنے والے امریکا اور اس کے حواری اس طرح اچانک نظریں پھیر لیں گے، یوکرین نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ ہم اور ہماری قوم ہمیشہ سمجھا کرتی تھی اور اب بھی سمجھا کرتی ہے کہ امریکا انتہائی بے اعتبار ملک ہے۔ یوکرینی قوم کو بھی اب شاید سمجھ آگیا ہے کہ امریکا پر اعتبار کر کے کسی دوسرے ملک سے لڑائی مول نہیں لی جا سکتی ہے، امریکا اس وقت تک کسی کی مدد نہیں کرتا جب تک اس کے اپنے مفادات خطروں میں نہ گھر جائیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا انداز حکومت عاجلانہ اور بچکانہ فیصلوں سے عبارت ہے، اس نے اپنے پہلے دور میں بھی کچھ ایسے ہی فیصلے کیے تھے جس کے بعد ہم سمجھ رہے تھے کہ امریکی قوم اسے دوبارہ حق حکمرانی عطا نہیں کرے گی۔ مگر سابقہ امریکی صدرکی کچھ کمزوریوں اور ٹرمپ کے لیے ہمدردی کے فیکٹر نے اسے ایک بار پھر یہ کامیابی دلا دی۔ انھیں معلوم ہے یہ ان کا آخری موقعہ ہے، وہ ایسے فیصلے کر کے جانا چاہتے ہیں کہ دنیا انھیں کسی طرح یاد کرتی رہے چاہے اچھے نام سے یا برے نام سے۔ غزہ کے معاملے میں انھوں نے اپنی امن پسندی بھی نہ صرف بھلا دی بلکہ جھٹک کے رکھ دی۔

یہ شخص غزہ کو نیست و نابود کر دینے پر تلا ہوا ہے۔ اس مقصد کے لیے اس نے اسرائیل کی پشت پناہی میں کوئی کثرت اٹھا نہ رکھی۔ اسے یہاںسیز فائر کی اپنی پالیسی بھی یاد نہ رہی۔ کہنے کو دنیا وہ بھر میں سیز فائرکرواتا پھر رہا ہے مگر غزہ اور فلسطین کے معاملے میں اس کا طریقہ اور طرز عمل بہت ہی افسوس ناک ہے، وہ وہاں اسرائیل کا قبضہ دیکھنا چاہتا ہے اور یہاں تک کہہ چکا ہے کہ فلسطینی ریاست اگر بنانی ہے تو کسی اور عرب ملک میں بنا لی جائے مگر یہاں نہیں۔ گریٹر اسرائیل کی خواہش میں وہ پوری طرح نیتن یاہو کے ساتھ کھڑا ہے۔

غزہ میں فلسطینی قوم کے ساتھ کوئی اور اسلامی ملک بھی لڑ نہیں رہا، وہ قوم اکیلی تنہا اسرائیلی زیادتیوں کو جھیل رہی ہے ۔ وہاں اسرائیل فوج کا سامنا کسی اور فوج سے نہیں ہے بلکہ بے آسرا نہتے فلسطینیوں سے ہے، جن کے تمام افراد یا تو مارے جاچکے ہیں یا زخمی ہو کر اسپتالوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ کوئی دوسرا اسلامی ملک بھی اُن کی مدد کو نہیں آرہا، ساری دنیا بے حس ہوچکی ہے۔ یو این او میں مذمتی قرارداد بھی اس لیے پاس نہیں ہوسکتی کہ امریکا اسے ویٹو کر دیتا ہے۔

 ٹرمپ کی امن پسندی کا بھانڈا تو اسی وقت پھوٹ چکا تھا جب اس کی طرف سے غزہ میں اسرائیلی زیادتیوں کی قرارداد ویٹو کر دی گئی تھی۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ اس نے پاک بھارت جنگ اور ایران اسرائیل جنگ بند کروائی ہے، حالانکہ دنیا کے اخبارات گواہ ہیں کہ پاک بھارت جنگ جب شروع ہوئی تو ٹرمپ نے یہ کہہ کر اس میں کوئی کردار ادا کرنے سے معذرت کر لی تھی کہ میرا اس جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہاں تک کہدیا کہ امریکا اس جنگ میں کوئی کردار ادا نہیں کرتا جس میں اس کے اپنے مفادات شامل نہ ہوں، مگر جب اس نے دیکھا کہ اس کا بہت بڑا قریبی دوست ملک اور اسٹرٹیجک پارٹنر بھارت مار کھانے لگا ہے تو اس نے سیز فائر کا حکم صادر فرما دیا۔

اسی طرح جب ایران کے ہاتھوں اسرائیل کی ٹھکائی ہونے لگی تو وہاں بھی سیز فائر کروا دیا گیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے اس چھ ماہ کے دور میں ہم نے عالمی میڈیا میں صرف اسی کی خبریں دیکھی بھی ہیں اور سنی بھی ہیں۔ اس نے خود کو دنیا کی خبروں کا محور بنایا ہوا ہے۔ اس نے ابھی تک تدبر اور اعلیٰ حکمت عملی والا کوئی بڑا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اسے دنیا کے ایک بہت ہی پاروفل ملک کے صدر ہونے کا زعم ہے، وہ چاہتا ہے کہ روس اور چین سمیت سارے ممالک بھی اس کے تابعدار بن جائیں، اس کی یہی خوش فہمی اسے تباہ بھی کرسکتی ہے، وہ اگر چاہتے ہیں کہ دنیا انھیں اچھے نام سے یاد کرے یا انھیں امن کے نوبل انعام سے نوازا جائے تو انھیں اپنا طرز عمل بدلنا ہوگا۔ سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ دانش مندانہ اور بصیرت افروز مستحکم فیصلے کرنا ہونگے، تبھی جا کر وہ ایک مقبول عالمی رہنما کے طور پر یاد کیے جاسکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم