ڈونلڈ ٹرمپ نے سیمی کنڈیکٹرز پر بھاری ٹیرف عدائد کرنے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیمی کنڈکٹرز پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ وہ آئندہ 2 ہفتوں میں اسٹیل اور سیمی کنڈکٹرز (چِپس) پر بھاری درآمدی ٹیرف عائد کرنے جارہے ہیں، جس کا مقصد کلیدی صنعتوں کی پیداوار کو امریکا منتقل کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیمی کنڈکٹرز : چھوٹی سی چپ جو پاکستان کو آئی ٹی شعبے میں ہارڈ ویئر پاور ہاؤس بنا سکتی ہے
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، جب وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ الاسکا میں ایک سربراہی اجلاس کے لیے روانہ تھے، ٹرمپ نے کہا کہ وہ اگلے ہفتے اور اس کے بعد والے ہفتے میں اسٹیل اور سیمی کنڈکٹرز پر ٹیرف کا اعلان کریں گے۔ ان کے بقول یہ شرح ابتدائی طور پر نسبتاً کم ہوگی لیکن کچھ عرصے بعد بہت زیادہ کر دی جائے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس پالیسی کا مقصد کمپنیوں کو دباؤ میں لا کر اپنی فیکٹریاں اور پیداوار امریکا منتقل کرانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹوموبائل، مصنوعی ذہانت (AI) اور دیگر ہائی ٹیک شعبوں سے منسلک کمپنیاں اس پالیسی کے تحت اپنی پیداوار امریکا لانے پر مجبور ہوں گی، کیونکہ ٹیرف 200 سے 300 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ یہی حکمت عملی دواسازی (Pharmaceuticals) کی صنعت پر بھی لاگو کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ اس شعبے میں بھی اندرونِ ملک سرمایہ کاری بڑھے۔
یہ بھی پڑھیں: مائیکروچپس کیا ہیں اور ان پر ٹرمپ 100 فیصد ٹیکس کیوں لگا رہے ہیں؟
صدر ٹرمپ اس سے قبل 6 اگست کو ان سیمی کنڈکٹر کمپنیوں پر 100 فیصد ٹیرف لگا چکے ہیں جو امریکا میں سرمایہ کاری نہیں کرتیں۔ اس سے پہلے وہ اسٹیل کی درآمد پر بھی پابندیاں لگا چکے ہیں، جس میں ابتدائی طور پر 25 فیصد ٹیرف شامل تھا، جو بعد میں بڑھا کر 50 فیصد کردیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ نئے ٹیرف نافذ ہو گئے تو اس کے عالمی سپلائی چین پر گہرے اثرات پڑسکتے ہیں، خاص طور پر سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں، جہاں امریکا، چین، تائیوان، جنوبی کوریا اور جاپان جیسے ممالک بڑے کھلاڑی ہیں۔ سیمی کنڈکٹر چپس جدید گاڑیوں، اسمارٹ فونز، کمپیوٹرز، AI سسٹمز اور دفاعی آلات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ اسٹیل تعمیرات، بنیادی ڈھانچے، دفاعی صنعت اور بھاری مشینری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ نے کمپیوٹر چپس پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کر دیا
ماہرین کا خیال ہے کہ اس پالیسی سے مہنگائی میں اضافہ ہوسکتا ہے، لیکن طویل مدتی میں یہ امریکی مینوفیکچرنگ کے لیے ایک بڑا بوسٹ ثابت ہوسکتی ہے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنے زیادہ ٹیرف سے عالمی تجارتی تعلقات میں تناؤ پیدا ہوگا، خاص طور پر چین اور یورپی یونین کے ساتھ جو امریکا کی درآمدات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسٹیل امریکا ٹیرف سیمی کنڈیکٹر صدر ڈولڈ ٹرمپ مہنگائی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیل امریکا ٹیرف سیمی کنڈیکٹر مہنگائی سیمی کنڈکٹرز کا اعلان کر
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔