پروازوں پر اب یہ الیکٹرانک آلات لے جانے پر پابندی ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چین میں لیتھیم بیٹری سے چلنے والے آلات میں آتشزدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد حکام نے اندرونِ ملک پروازوں میں غیر تصدیق شدہ پاور بینک لانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، چین کی سول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے اعلان کیا ہے کہ اب صرف وہی پاور بینک مسافروں کے ساتھ لے جانے کی اجازت ہوگی جو چین کے لازمی سرٹیفیکیشن سسٹم (3C) سے منظور شدہ ہوں۔
اس پابندی کا اطلاق اُن پاور بینکس پر بھی ہوگا جن پر لیبلنگ غیر واضح ہو یا جو ماڈلز مینوفیکچررز کی جانب سے واپس منگوائے جا چکے ہوں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پروازوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اُٹھایا گیا ہے، خاص طور پر ان واقعات کے بعد جہاں بیٹریاں حد سے زیادہ گرم ہو کر آگ لگنے کا سبب بنیں۔
یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب حالیہ دنوں میں دو بڑے برانڈز کو اپنی مصنوعات مارکیٹ سے واپس منگوانی پڑیں، جس کے نتیجے میں پورٹیبل چارجرز کی حفاظت پر سنگین خدشات پیدا ہو گئے۔
رواں ماہ کے آغاز میں، شینزین میں قائم کمپنی روموس کو اپنے 20,000mAh کے تقریباً 4,92,000 پاور بینک واپس منگوانے کا حکم دیا گیا، جب کہ مختلف چینی یونیورسٹیوں نے ان سے جڑے آتشزدگی کے خطرات کی شکایت کی۔ یہ یونٹس جون 2023 سے جولائی 2024 کے درمیان تیار کیے گئے تھے۔
اسی طرح، عالمی الیکٹرانکس برانڈ Anker Innovations نے بھی 20 جون کو بیٹری سیل کے مواد میں ممکنہ خرابی کے باعث اپنے تقریباً 7,10,000 پاور بینکس دنیا بھر سے واپس منگوانے کا اعلان کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس(Bluetooth) کا نام “بم” ظاہر ہونے کے باعث امریکی ایئر لائن کی بین الاقوامی پرواز کو دورانِ سفر واپس موڑ کر ہنگامی لینڈنگ کرانا پڑی۔
ایئر لائن ذرائع کے مطابق یونائیٹڈ ایئر لائنز کی پرواز یو اے 236 نے 30 مئی کی شام نیوارک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسپین کے جزیرے پالما ڈی میلورکا کے لیے روانگی اختیار کی تھی۔ پرواز معمول کے مطابق اپنے سفر پر گامزن تھی اور تقریباً دو گھنٹے بعد بحر اوقیانوس کے اوپر پرواز کر رہی تھی۔
اسی دوران ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس کا نام “بم” کے طور پر ظاہر ہوا، جس کے بعد کیبن میں موجود بعض مسافروں اور عملے میں تشویش پھیل گئی۔ واقعے کی اطلاع فوری طور پر پائلٹ کو دی گئی جس نے حفاظتی ضوابط اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے تحت صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پرواز کو واپس موڑنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ سیکیورٹی خطرے کے پیش نظر طیارے نے نیوارک واپس جانے کا رخ کیا اور تقریباً پونے چار گھنٹے بعد ہنگامی بنیادوں پر بحفاظت لینڈنگ کی۔
مزیدپڑھیں:دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
لینڈنگ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی حکام نے طیارے کا تفصیلی معائنہ کیا جبکہ مشتبہ ڈیوائس اور اس کے مالک کے بارے میں تحقیقات بھی کی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی قسم کا دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا، تاہم حکام نے واقعے کو فضائی سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی سنجیدگی سے لیا۔
ہوائی سفر کے دوران بم یا دیگر خطرناک الفاظ کا استعمال، خواہ مذاق یا غیر سنجیدگی کے طور پر ہی کیوں نہ کیا جائے، سخت سیکیورٹی ردعمل کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں پروازوں میں تاخیر، ہنگامی لینڈنگ اور قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔