پیٹرول کے بعد مٹی کا تیل بھی مہنگا، عوام پر مہنگائی کا نیا بوج
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد میں عوام کے لیے مہنگائی کا ایک اور جھٹکا سامنے آیا ہے جہاں پیٹرول اور ڈیزل کے بعد اب مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 15 روپے 23 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 184 روپے 43 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جو اس سے پہلے 169 روپے 20 پیسے فی لیٹر تھی۔
اس سے قبل حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا تھا جس کے تحت پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے 36 پیسے کا اضافہ ہوا اور نئی قیمت 266 روپے 79 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے 39 پیسے کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 272 روپے 98 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔ تمام مصنوعات پر ڈھائی روپے فی لیٹر کاربن لیوی بھی لاگو کر دی گئی ہے، جس سے صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیسے فی لیٹر کی قیمت میں کے بعد
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔