مائیکروسافٹ کا نیا اے آئی ماڈل ڈاکٹروں سے بھی چار گنا بہتر تشخیص کرنے کے قابل
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مائیکروسافٹ نے صحت کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت کا اعلان کیا ہے، کمپنی کے مطابق اس نے ایک ایسا جدید آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ماڈل تیار کیا ہے جو انسانی ڈاکٹر کے مقابلے میں چار گنا بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔
“AI Diagnostic Orchestrator” نامی یہ ماڈل مختلف امراض کی تشخیص میں 85.
یہ دعویٰ معروف طبی جریدے “نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن” میں شائع ایک تحقیقی مقالے میں سامنے آیا، جس کے مطابق ماڈل نے 10 میں سے 8 ریسرچ رپورٹس میں 304 کیسز کی کامیاب تشخیص کی۔ اس دوران اس نے مریض سے سوالات کیے، ضروری ٹیسٹ تجویز کیے اور حتمی تشخیص بھی فراہم کی۔
مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں ڈاکٹروں کے لیے ایک قیمتی معاون بن سکتی ہے، خصوصاً مشکل یا نایاب امراض کی تشخیص میں۔ تاہم کمپنی نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ماڈل فی الحال کلینیکل ٹرائلز کے لیے تیار نہیں اور اسے مزید جانچ کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب گوگل بھی اسی میدان میں پیش قدمی کر رہا ہے۔ اگست 2024 میں گوگل نے ایک “Health Acoustic Representations” نامی ماڈل متعارف کرایا تھا جو کھانسی کی آواز کا تجزیہ کرکے تپ دق (ٹی بی) اور دیگر پھیپھڑوں کی بیماریوں کی تشخیص میں مدد دیتا ہے۔
یہ ماڈل مشین لرننگ الگورتھمز کے ذریعے کھانسی کی آوازوں میں چھپے معمولی فرق کو پہچانتا ہے اور ابتدائی مرحلے میں بیماری کی شناخت کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
صحت کے شعبے میں اے آئی کی یہ پیش رفتیں مستقبل میں طب کی دنیا کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی بے چینی اس بات کی غماز ہے کہ اسے آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کا واضح خدشہ ہے، اسی لیے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناءاللہ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثناءاللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے۔ اپنے بیان میں سعدیہ جاوید نے کہا کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے عناصر کو اخلاقیات، دیانت داری اور شفافیت پر بات کرنے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ ہوش کے ناخن لیں اور سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے بے بنیاد بیانات دینے سے گریز کریں کیونکہ پیپلز پارٹی کے خلاف ہر الزام اور ہر بیان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ سندھ کے خلاف زہر اگلنے والوں کو پہلے شریف خاندان کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں، بیرون ملک جائیدادوں اور دیگر معاملات کا جواب دینا چاہیئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی رہنما اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بے بنیاد کہانیاں گھڑ رہے ہیں، جبکہ ان کی سیاست ہمیشہ سہاروں، ڈیلز اور مفاہمت پر قائم رہی ہے۔ سعدیہ جاوید نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی بے چینی اس بات کی غماز ہے کہ اسے آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کا واضح خدشہ ہے، اسی لیے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے وسائل پر نظر رکھنے والے سیاسی عناصر پہلے اپنے طرزِ سیاست کا جائزہ لیں، جس جماعت کی بنیاد، ان کے بقول، جمہوری اقدار کی مخالفت پر استوار رہی ہو، وہ پیپلز پارٹی کو عوامی مینڈیٹ اور سیاسی شعور کا درس نہ دے۔ ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ عوام اب سیاسی نعروں اور الزامات کی سیاست سے بخوبی آگاہ ہو چکے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کو مسترد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شعور میں اضافے کے بعد اس نوعیت کی سیاست مزید کامیاب نہیں ہو سکے گی۔