2025برکس گورننس کے سیمینار اور عوامی و ثقافتی تبادلے کے فورم کا برازیل میں انعقادبرکس میکانزم کو تاریخی توسیع دی گئی ہے، چینی نمائندہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
ریو ڈی جنیرو : 2025برکس گورننس کا سیمینار اور عوامی و ثقافتی تبادلے کا فورم برازیل کے ریو ڈی جنیرو میں منعقد ہوا، جس میں چین، برازیل، روس، بھارت، جنوبی افریقہ، مصر، انڈونیشیا سمیت دیگر برکس ممالک اور متعلقہ بین الاقوامی تنظیموں کے 120 سے زیادہ نمائندوں نے شرکت کی۔چینی نمائندوں نے کہا کہ برکس میکانزم کو تاریخی توسیع دی گئی ہے، “گریٹر برکس تعاون” کا نمونہ تشکیل دیا گیا ہے، اور برکس میکانزم میں نمائندگی اور اثر و رسوخ کو مزید وسعت دی گئی ہے، جو افراتفری کی دنیا میں ایک مستحکم قوت بن گئی ہے۔ برکس تعاون کو ایک مساوی اور منظم کثیر القطبی دنیا اور جامع اقتصادی عالمگیریت کی فعال طور پر وکالت کرنی چاہئے ، گلوبل ساؤتھ میں گورننس کے حوالے سے تبادلوں کومضبوط بنانا چاہئے ، منصفانہ اور معقول عالمی گورننس سسٹم کی تعمیر کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے ، تہذیبوں کے مابین تبادلوں اور باہمی سیکھنے کے عمل کو فروغ دینا چاہئے ، گلوبل ساؤتھ میں یکجہتی اور تعاون کی قیادت کرنی چاہئے ، اور عالمی ترقی میں حصہ ڈالنا چاہئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔