بانی نے 10 محرم کے بعد تحریک چلانے کی ہدایت کردی، علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ بانی کہتے ہیں حکومت 27ویں ترمیم کے بجائے بادشاہت کا اعلان کردے۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان نے کہا کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کو مائنس کرنا چاہتی ہے، بانی چیئرمین نے 10 محرم کے بعد تحریک شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نےکہہ رہے ہیں کہ 27ویں ترمیم کے بجائے بادشاہت کا اعلان کردیں، انہوں نے پنجاب کے 26 ایم پی ایز کو اسمبلی کے باہر اسمبلی لگانے کی ہدایت کی ہے۔
علیمہ خان نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے انہیں آج بھی ملاقات کی اجازت نہیں مل سکی، دیگر 2 بہنوں ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو ملاقات کی اجازت ملی، جو ایک گھنٹہ جاری رہی۔
انہوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے میڈیا کی آواز بند کردی گئی ہے، غلامی کے بجائے جیل میں بیٹھنا بہتر ہے۔
عظمیٰ خان نے میڈیا کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے جیل سہولیات سے متعلق کوئی شکایت نہیں کی، انہوں نے اپنے بھائی سے پوچھا کہ آپ کا وزن کیوں کم لگ رہاہے تو انہوں نے بتایاکہ نیند پوری نہیں ہورہی گرمی بھی بہت زیادہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کہ بانی پی ٹی ا ئی علیمہ خان انہوں نے نے کہا
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔