سیاسی سیٹ اپ میں اسٹیبلشمنٹ کا اہم کردار ہے،وزیردفاع
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
اسلام آباد: وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اسٹیبلشمنٹ کا اہم کردار ہوتا ہے، جو اب باضابطہ طور پر تسلیم شدہ ہے ،اس کی سب سے بڑی مثال تو امریکا خود ہے، اندرونی حالات، معیشت سمیت تمام شعبوں میں انکا کردار ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کا کردار دنیا کے تمام ممالک میں ہوتا ہے، اس کی سب سے بڑی مثال تو امریکا خود ہے، جہاں بھی ضروت پڑی امریکی اسٹیبلشمنٹ نے مداخلت کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سیاسی سیٹ اپ میں اسٹیبلشمنٹ کا اہم کردار ہے، اندرونی حالات، معیشت سمیت تمام شعبوں میں ان کا کردار ہے، اسٹیبلشمنٹ کا یہ کردار اب فارملائز ہوگیا ہے، آج بھی ٹیم کے کیپٹن شہبازشریف ہے۔
وزیر دفاع نےکہا کہ آج عدلیہ پر لوگ حملے کر رہے ہیں، 3 سال عدلیہ کمپرومائزڈ ہو چکی تھی۔
انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج سوات میں دریا کے قریب تجاوزات گرائی جا رہی ہیں، یہ سب کچھ انہیں پہلے نظرنہیں آیا تھا؟
خواجہ آصف نے کہا کہ سیالکوٹ کی ایک نہر کے پورے کنارے پر افغانیوں کا قبضہ ہے، افغانی وہاں ڈمپر لے کر آئے ہوئے ہیں، ڈمپر کراچی میں بھی بندے مار رہا ہے، لاہور میں بھی مار رہا ہے، ڈمپر سیالکوٹ میں بھی بندے ماررہا ہے۔
وزیر دفاع نےکہا کہ ڈمپرجاپان سے اسکریپ کے ریٹ پر منگوائے جاتے ہیں، ڈمپرز 3 کنٹینرز میں منگوائے جاتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔