گلستان جوہر میں شہری کے تشدد پر خواجہ سراؤں کا تھانے کے باہر احتجاج، مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
شہر قائد کے علاقے گلستان جوہر میں شہری کے تشدد پر خواجہ سراؤں نے تھانے کے باہر احتجاج کیا، پولیس نے شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق گلستان جوہر میں شہری کی جانب سے مبینہ تشدد کے بعد خواجہ سراؤں کی بڑی تعداد تھانے کے باہر پہنچی اور مقدمہ اندراج کا مطالبہ کیا۔
ایف آئی آر درج نہ ہونے پر خواجہ سراؤں نے تھانے کے باہر احتجاج کیا اور گیٹ زبردستی کھول کر اندر گھس کر توڑ پھوڑ بھی کی۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر ایس پی گلشن احمد اقبال تھانے پہنچے اور خواجہ سراؤں سے مذاکرات کیے جس کےبعد مقدمہ درج کرلیا گیا۔
ایس پی کے مطابق ایک خواجہ سرا کا علاقے میں کسی سے جھگڑا ہوا، جس کے بعد متاثرہ کے ساتھ متعدد خواجہ سرا تھانے آگئے، واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ایک خواجہ سرا کے بھائی پر دو ملزمان کی جانب سے تشدد کیا گیا تھا، جس میں سے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ دوسرے کی تلاش جاری ہے۔
خواجہ سراؤں نے مفرور ملزم کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ایف آئی آر میں گرفتار اور مفرور ملزم دونوں کو نامزد کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ترجمان ایسٹ پولیس نے کہا ہے کہ گلستان جوہر کی حدود میں خواجہ سراؤں کے واقعے کے حوالے سے معلومات طلب لی گئیں جس کے کے مطابق ایک خواجہ سرا کے بھائی کو کسی نے زدوکوب کیا تھا۔ اس پر خواجہ سراؤں کی منڈلی نے تھانے کے باہر احتجاج کیا۔
پولیس موقع پہ پہنچی اور مبینہ طور پر زدوکوب کرنے والے کو حراست میں لے کر تھانے لایا گیا جس پر خواجہ سرا تھانے آئے اور اپنے روایتی و مخصوص انداز میں شکوہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔
ترجمان کے مطابق ایس ایچ او گلستان جوہر نے خواجہ سراؤں کی بات کو سنا اور انہیں ضابطے کی کارروائی کی یقین دہانی بھی کروائی جس پر وہ منتشر ہوگئے۔
ترجمان ایسٹ پولیس کے مطابق خواجہ سرا اس وقت مشاورت کررہے ہیں اور ان کی شکایت کی روشنی میں کاروائی کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تھانے کے باہر احتجاج پر خواجہ سرا گلستان جوہر خواجہ سراؤں احتجاج کیا کے مطابق
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.