ارجنٹینا میں فٹبال کلب کے شائقین کے فلسطین کے حق میں نعرے، اسرائیل کا علامتی جنازہ نکال دیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
BUENOS AIRES:
ارجنٹینا کے دارالحکومت بیونس آئرس میں نیشنل بی فرسٹ ڈویژن کے میچ سے قبل آل بوائز کے شائقین نے دوسرے کلب اٹلانٹا کے خلاف میچ سے قبل فری فلسطین کے نعرے لگائے، فلسطین اور ایران کے جھنڈے تھامے نظر آئے اور اسی دوران اسرائیل کا علامتی جنازہ بھی نکالا گیا۔
غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ارجنٹینا فٹ بال ایسوسی ایشن (اے ایف اے) نے آل بوائز کے شائقین کے اس اقدام کی مذمت بھی کی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کی تحقیقات بھی کردی۔
ارجنٹینا کے کلب کے شائقین کے منفرد احتجاج کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ویڈیو بھی وائرل ہوئیں، جس میں متعدد لوگوں کو فٹ بال کلب اٹلانٹا اور اسرائیلی پرچم میں لپٹا تابوت اٹھائے ہوئے دیکھایا گیا ہے۔
Fans of All Boys, an Argentine football team, created a fiery pro-Palestine atmosphere before their National B First Division match against Atlanta by flying a drone with a Palestinian flag and carrying a coffin draped in the Israeli flag, while waving Palestinian and Iranian… pic.
رپورٹس میں بتایا گیا کہ فٹ بال کلب اٹلانٹا ارجنٹینا میں ایسے علاقے میں واقع ہے جہاں یہودی آبادی کی اکثریت ہے اور اسی لیے آل بوائز کے شائقین نے بظاہر انہیں اسرائیل کے حامی قرار دیا اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی۔
میچ کے دوران ڈرون کے ذریعے فلسطین کا پرچم بھی میدان کے اوپر لہرایا گیا اور اسی دوران آل بوائز کے شائقین اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی، اسی طرح پمفلٹس بھی تقسیم کیے گئے، جن میں درج تھا اسرائیل خاک ہو اور ایک بینر بھی آویزاں کیا گیا تھا اور اس میں نسل کشی کی ذمہ دار ریاست اسرائیل مردہ باد لکھا گیا تھا۔
دونوں ٹیموں کے درمیان میچ بغیر کسی گول کے برابری پر ختم ہوا۔
بعد ازاں ارجنٹیا کی سیکیورٹی کی وزارت نے بیان میں کہا کہ توڑ پھوڑ اور نفرت انگیزی کے الزام میں شکایت درج کرادی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ارجنٹینا میں یہودی کمیونٹی ایک اندازے کے مطابق 3 لاکھ افراد پر مشتمل ہے جو لاطینی امریکا میں واقع کسی بھی ملک میں سب سے زیادہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آل بوائز کے شائقین
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔