ونڈوز صارفین کی تعداد میں 40 کروڑ کی کمی، سبب کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
مائیکروسافٹ کے ایگزیکٹو نائب صدر یوسف مہدی نے گزشتہ ہفتے ایک بلاگ پوسٹ میں انکشاف کیا کہ اس وقت دنیا بھر میں ونڈوز ایک ارب سے زائد فعال ڈیوائسز پر چل رہی ہے، اگرچہ یہ تعداد بظاہر متاثر کن محسوس ہوتی ہے، مگر گزشتہ اعداد و شمار کے مقابلے میں یہ ایک نمایاں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ ZDNET کے مطابق، مائیکروسافٹ کی 2022 کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اُس وقت ونڈوز 10 یا 11 تقریباً 1.
یہ بھی پڑھیں: ونڈوز 10 کب ختم ہو رہی ہے، دنیا بھر میں کتنے کمپیوٹرز ضائع ہو جائیں گے؟
صارفین کی خاموشی سے ہونے والی اس کمی کو دیکھتے ہوئے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مائیکروسافٹ نے حالیہ مہینوں میں صارفین پر ونڈوز 11 میں اپ گریڈ کرنے کے لیے دباؤ کیوں بڑھایا ہے۔ پرانے ورژنز کی اسپورٹ ختم ہونے کے ساتھ کمپنی کی حکمت عملی یہ لگتی ہے کہ صارفین یا تو موجودہ سسٹمز اپ گریڈ کریں یا نئے کمپیوٹرز خریدیں جو ونڈوز 11 کے تقاضے پورے کرتے ہوں۔
اگرچہ ایپل کا macOS، خاص طور پر ایپل سلیکون کی آمد کے بعد، ونڈوز کے لیے ایک بڑھتا ہوا چیلنج ہے، لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ تمام کھوئی گئی ونڈوز صارفین میک پر منتقل ہوگئے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ میک کی فروخت بھی گراوٹ کا شکار ہے۔ 2023 میں اسٹیٹسٹا کی ایک رپورٹ کے مطابق، میک جو پہلے ایپل کی آمدنی کا 85 فیصد تک تھی، اب صرف 7.7 فیصد رہ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یورپ سمیت دنیا بھر میں آئی ٹی بندش سے کاروبار زندگی متاثر، بیشتر پروازیں معطل
ونڈوز صارفین کی تعداد میں کمی کی ایک بڑی وجہ دنیا بھر میں موبائل فرسٹ کمپیوٹنگ کی جانب رجحان ہے۔ جیسے جیسے اسمارٹ فونز اور ٹیبلیٹس روزمرہ کے کاموں میں کمپیوٹرز کی جگہ لے رہے ہیں، ڈیسک ٹاپ آپریٹنگ سسٹمز پر انحصار کم ہوتا جارہا ہے۔
مسئلے کو مائیکروسافٹ کی وہ پالیسی مزید سنگین بناتی ہے جس کے تحت ونڈوز 11 کے لیے سخت ہارڈویئر شرائط رکھی گئیں۔ اس کی وجہ سے بہت سی صارفین جو پرانے مگر کارآمد کمپیوٹر استعمال کررہے تھے، ونڈوز 11 پر اپ گریڈ نہیں کرسکے۔ نتیجتاً یا تو وہ پرانے غیر محفوظ ورژنز پر اٹکے رہ گئے یا پھر ونڈوز کا استعمال ہی چھوڑ بیٹھے۔
اس کے علاوہ ونڈوز 11 کو صارف دوست نہ ہونے پر بھی تنقید کا سامنا ہے۔ کئی صارفین اس کے انٹرفیس میں تبدیلیوں، بڑھتی ہوئی ڈیٹا کلیکشن پر مبنی پالیسیوں، اور ایپل جیسے ڈیزائن عناصر پر نالاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: استعمال شدہ کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس اور پرنٹرز کی قیمتوں میں کتنی کمی ہونے جا رہی ہے؟
ونڈوز کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ جب اُس کی صارف بنیاد سکڑ رہی ہے، اور کمپنی کو نئی حکمت عملی اپنانے کی فوری ضرورت ہے تاکہ وہ ان صارفین کا اعتماد دوبارہ حاصل کرسکے جو یا تو مایوس ہو چکے ہیں یا متبادل تلاش کررہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسمارٹ فونز ایپل ایس او ٹیکنالوجی مائیکروسافٹ میک او ایس ونڈوز یوسف مہدی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسمارٹ فونز ایپل ایس او ٹیکنالوجی مائیکروسافٹ میک او ایس ونڈوز یوسف مہدی دنیا بھر میں ونڈوز 11 رہی ہے کے لیے
پڑھیں:
ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے لیے نیا ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے صارفین کسی بھی پوسٹ پر براہِ راست ویڈیو ردِعمل ریکارڈ کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کے لیے نیا لیبل متعارف کروانے کا اعلان کردیا
نئے فیچر کو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر مقبول ری ایکشن ویڈیوز کے تصور سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو اپنے خیالات اور تبصروں کے اظہار کے لیے مزید تخلیقی اور بصری طریقہ فراہم کرنا ہے۔
ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر نے فیچر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تبصرہ اور رائے کا اظہار ایکس کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے اور بعض اوقات خیالات کے اظہار کا بہترین طریقہ ویڈیو ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب صارفین ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ کے ذریعے کسی بھی پوسٹ پر فوری ویڈیو ردعمل دے سکیں گے۔
فیچر کیسے کام کرتا ہے؟صارفین کو کسی پوسٹ کے نیچے موجود ری پوسٹ بٹن پر کلک کرنا ہوگا جہاں انہیں ویڈیو ری ایکشن ریکارڈ کرنے کا آپشن ملے گا۔
مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو ایک ہفتے میں دوسری بار عالمی سطح پر تکنیکی خرابی کا سامنا
ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت صرف آئی او ایس صارفین کے لیے دستیاب کی گئی ہے۔
ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران اصل پوسٹ پس منظر میں نظر آتی ہے جبکہ صارف اپنی رائے یا ردعمل ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کر سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران ویڈیو کو عارضی طور پر روکنے اور دوبارہ شروع کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
ویڈیو مکمل ہونے کے بعد صارف اسے پوسٹ کرنے سے قبل دیکھ اور جانچ بھی سکتا ہے۔
مختلف ڈسپلے موڈزنئے فیچر میں متعدد ویژول آپشنز شامل کیے گئے ہیں۔
پکچر اِن پکچر: ویڈیو اصل پوسٹ کے اوپر نظر آتی ہے۔
اسپلٹ اسکرین : اسکرین 2 حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ایک جانب صارف اور دوسری جانب اصل پوسٹ۔
مزید پڑھیں: انسٹاگرام کا نیا فیچر ’انسٹاگرام میپ‘، اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کی کوشش
فل اسکرین میڈیا: اصل پوسٹ کے متن کو چھپا کر صرف تصویر یا ویڈیو پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔
گرین اسکرین: پس منظر تبدیل یا ہٹانے کی سہولت۔
صارفین ویڈیو کے سائز اور اس کی پوزیشن کو بھی اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔
بیرونی ایڈیٹنگ ٹولز کی ضرورت ختمایکس کے مطابق اس فیچر کی بدولت صارفین کو ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے، الگ سے ایڈیٹنگ کرنے یا پیچیدہ ورک فلو اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ بیشتر بنیادی ایڈیٹنگ سہولیات ایپ کے اندر ہی دستیاب ہوں گی۔
صارفین کا ردعملفیچر کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
کئی صارفین نے اسے ایکس کے لیے مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ری ایکشنز پلیٹ فارم پر گفتگو کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنائیں گے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شاندار فیچر ہے، ایکس پر تبصرے اور اظہارِ خیال کے لیے یہی چیز درکار تھی‘۔
تاہم بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ایکس بھی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح ہو جائے گا۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’ فیچر دلچسپ تو ہے لیکن امید ہے کہ ایکس فیس بک یا یوٹیوب جیسا پلیٹ فارم نہیں بن جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: انسٹاگرام کا نیا فیچر ‘انسٹنٹس’ متعارف: غیر فلٹر شدہ اور عارضی تصاویر کا نیا تجربہ
ماہرین کے مطابق ویڈیو ری ایکشنز کا یہ نیا فیچر ایکس کو روایتی ٹیکسٹ بیسڈ پلیٹ فارم سے بڑھ کر ایک ملٹی میڈیا اور ویڈیو سینٹرک سوشل نیٹ ورک میں تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ ایکس ایکس کا نیا فیچر