شیخ حسینہ واجد نے انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کی تردید کر دی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے اپنے اوپر لگنے والے انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کو بے بنیاد اور سیاسی انتقام قرار دے دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی اور اگست 2024 کے دوران بنگلہ دیش میں حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں 1,400 مظاہرین ہلاک ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر نوجوان طلبہ شامل تھے۔
شیخ حسینہ، جو طلبہ بغاوت کے بعد بھارت فرار ہو گئی تھیں، پر ڈھاکا کی عدالت میں 1 جون 2025 سے پانچ سنگین الزامات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے، جن میں اکسانا، سہولت کاری، اجتماعی قتل اور کمان کی ذمہ داری میں ناکامی شامل ہیں۔
ان کی جماعت، کالعدم عوامی لیگ نے ایک بیان میں مقدمے کو “شو ٹرائل” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ “حسینہ ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتی ہیں”۔
استغاثہ کے مطابق، حسینہ پر ہیلی کاپٹر حملوں کا حکم دینے، مظاہرین پر مہلک ہتھیاروں کے استعمال، اور جلاؤ گھیراؤ کی اجازت دینے جیسے الزامات بھی عائد ہیں۔ ان پر تین مخصوص کیسز میں براہ راست کمانڈ کی ذمہ داری کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ان مقدمات میں ایک طالبعلم ابو سعید کا قتل، چنکھر پل اور اشولیہ میں اجتماعی ہلاکتیں شامل ہیں۔
شیخ حسینہ کے وکیل امیر حسین کا کہنا ہے کہ ان کی موکلہ “مکمل قانونی دلائل کے ساتھ اپنی بے گناہی ثابت کریں گی۔”
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
(شاہین عتیق) فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ریاست کے خلاف ٹویٹ کیس کی سماعت دس ستمبر تک ملتوی ہوگئی۔
ایڈیشنل سیشن جج نصرت صدیقی نے فلک جاوید اور صنم جاوید کے کیس کی سماعت کی،عدالت میں اس بار بھی صنم جاوید کو جیل سے لاکر پیش نہیں کیا گیا جبکہ فلک جاوید کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت میں نیشنل کرائم ایجنسی ایف آئی اے نے درخواست دی کہ دونوں کے کیس کی سماعت جیل میں کی جاے،عدالت نے درخواست کو خارج کر تے ہوے قرار دیا کہ یہ کام ہوم ڈیپارٹمنٹ کا ہے ان سے رابطہ کریں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
عدالت میں ایف آئی اے نے صنم جاوید اور فلک جاوید کے خلاف چالان پیش کر رکھا ہے۔