تخیل سے حقیقت تک،پاکستان کا خاموش سفر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
(گزشتہ سے پیوستہ)
خاموش قاتل،ففتھ جنریشن سٹیلتھ طیاروں کی حقیقت آخرہے کیاکہ پاک وہندہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اس طیاروں میں دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔ دراصل یہ طیارے’’خاموش قاتل‘‘کہلاتے ہیں،نہ دکھائی دیتے ہیں،نہ آسانی سے روکے جاسکتے ہیں،اورنہ ہی ان کی نقل و حرکت کوآسانی سے سمجھا جا سکتاہے۔جدیدترین خوبیوں نے اس طیارے کو پانچویں نسل کی فضائی بالادستی کا نشان بنادیاہے۔یادرہے کہ ففتھ جنریشن اورسٹیلتھ طیارہ اس وقت’’ففتھ جنریشن‘‘کہلاتاہے جب وہ سٹیلتھ ہو، سپرکروز کرے،نیٹ ورکڈ ہو،ملٹی رول ہو اورایویانکس میں ہم آہنگی ہواورسب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ سٹیلتھ اس وقت معتبرہے جب دشمن کوطیارہ دیکھنے سے پہلے مارکھا جائے۔
اس کی پہلی خوبی اس کی سٹیلتھ صلاحیت ہے جواسے ریڈارسے اوجھل اوردشمن کے ہرقسم کے نظاموں سے چھپادیتی ہے۔دوسری اہم خوبی یہ ہے کہ اس کی سپرکروزپروازہے یعنی آوازکی رفتارسے بھی کہیں زیادہ تیز،کم ایندھن کے ساتھ طویل فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت موجودہے۔تیسری خوبی ایویانکس اور سینسر فیوژن کی ہے،تمام سسٹمزکاہم آہنگ ہونا یعنی جیسے انسان کی پانچوں حواس ایک مرکب شعورمیں ڈھل جائیں،ویسے ہی یہ طیارے اپنے تمام نظاموں کوہم آہنگ کرکے دشمن پرکاری ضرب لگاتے ہیں۔چوتھی خوبی اس کی سپر کروزیعنی بغیرایندھن کے ضیاع کے تیزرفتاری سے ہدف کوتباہ کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اورپانچویں خوبی نیٹ ورکڈوارفیئرکی ہے تمام فضائی وزمینی نظام سے ربط باقی رہتا ہے جیسے ہرمشین، ہرڈرون، ہرریڈارکے ساتھ جڑے،گویافضامیں ایک جال بچھا دیا ہو ۔
فضائی توازن کی نئی بساط میں اس وقت دنیامیں محض پانچ اقوام کے پاس ایسے طیارے موجود ہیں۔امریکاکے ایف22ریپٹراورایف 35،روس کا ایس یو57،اورچین کے جے 20 اورجے35 ہیں۔ ان کے بعدکی قطارمیں برطانیہ،اٹلی، جاپان، ترکی، فرانس،جرمنی اوراسپین کے تیارکردہ طیارے ہیں جوابھی تیاری کے مراحل میں ہیںجیسے ’’ٹیمپسٹ‘‘ ،’’ایف سی اے ایس‘‘اور’’کے اے اے این‘‘لیکن پاک چین کے اشتراک سے بنے طیاروں نے حالیہ پاک وہندکی جنگ میں جونمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں،اس کے بعد پاکستان کی فضائی کارکردگی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تکنیکی مہارت نے بھی اپنالوہامنوالیاہے۔
عالمی میڈیاکے مطابق پاکستان نے جہاں میدان جنگ میں فتوحات حاصل کی ہیں وہاں کامیاب سفارتی کوششوں سے میدان مارلیاہے جس کی واضح مثال جے35،ایچ کیو19، کے جے 500کے حصول اورقرضوں میں نرمی کی شرائط سے ملتی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر قیادت چین سے مؤخرادائیگی جیسے معاملات فقط فوری عسکری فائدے نہیں بلکہ ایک طویل المیعادحکمت عملی کی علامت ہیں۔یہ وہ مقام ہے جہاں عسکری فیصلے، اقتصادی وسعت اور سفارتی بصیرت ایک مثلثی توازن میں داخل ہوچکے ہیں۔یہ کامیابیاں اس امر کی بھی غمازہیں کہ پاکستان اب سفارت کاری کوفقط بیانات تک محدودنہیں بلکہ 3.
جب پاکستان نے چینی دفاعی سامان خریدنے کاعندیہ دیا،توپاکستان کی چینی اسلحہ میں گہری دلچسپی نے چینی معیشت میں زبردست قسم کی جنبش پیداکردی بلکہ بیجنگ کی دفاعی صنعت ’’ایوک‘‘میں زندگی کی لہر دوڑ گئی۔ یہ اقتصادی جھٹکادراصل ایک سیاسی ارتعاش تھا۔ گویاپاکستان کی عسکری پسندیدگی نے چین کی اسٹاک مارکیٹ کے بازارِحصص کو جھنجھوڑڈالابلکہ جھومنے پر مجبور کردیااور حالیہ پاک بھارت جنگ کے بعداقوام عالم کے کئی ممالک نے مغربی اسلحہ سے مشرق کے اسلحہ کوخریدنے کے لئے انتہائی سنجیدگی سے دلچسپی لیناشروع کردی ہے۔ جب ایوک شینیینگ ایئرکرافٹ کمپنی کی قیمتوں میں9.3اضافہ ہوا،تواس کے پیچھے فقط ایک معاشی حقیقت نہیں،بلکہ ایک عالمی اعتمادکی جھلک تھی،یہ سرمایہ دارانہ دنیاکاوہ لمحہ تھا جب جنگی تیاری نے معیشت کونئی روح بخشی اورچینی اسلحہ اورجہازوں کی سٹاک ویلیومیں اضافہ دیکھنے کوملا۔چینی اسلحہ سازکمپنی ایوک کے حصص میں اضافہ اس بات کی دلیل ہے کہ دفاع صرف میدان جنگ کامعاملہ نہیں،بلکہ بازارِمعیشت کی دھڑکن بھی ہے۔
اگرچہ چہ مگوئیاں برسوں سے جاری تھیں،مگر پاکستان کی باضابطہ لب کشائی،جوایک نئے دورکے آغازکاپتہ دیتی ہے،پاکستانی حکومت کی پہلی باضابطہ تصدیق نے ان افواہوں کو ایک رسمی شکل دیتے ہوئے اپنے قومی عزم کااعلان کرتے ہوئے فیصلہ سنادیاکہ ہم نے خاموشی کوترک کرکے اپنی ملکی دفاعی تیاری کوترجیح دی ہے اورہم وطنِ عزیزکے لئے ہرقسم کی جدید تیاری کو اولیت اور فوقیت دیتے ہوئے سٹیلتھ ٹیکنالوجی کے حصول کواپنی منزل قراردے دیاہے۔
اب سوال یہ ہے کہ آخرسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے مزین ان طیاروں میں خاص کیابات ہے؟سٹیلتھ ٹیکنالوجی کیوں ضروری ہے؟دنیاکی جنگیں اب میدانِ کارزارمیں نہیں بلکہ اسکرینوں اورسینسرزپرلڑی جارہی ہیں۔سٹیلتھ ٹیکنالوجی دشمن کی آنکھ میں دھول جھونکنے کا فن ہے۔جس کے پاس یہ صلاحیت نہیں،وہ گویارات کے اندھیرے میں چراغ جلائے جنگ لڑنے نکلے،بے وقت،بے فائدہ،اورخطرناک۔یہ سوال فقط تکنیکی تجسس نہیں،بلکہ اس عہدکااستفسارہے جس میں جنگ زمینی نہیں رہی۔یہ طیارے دشمن کی آنکھ سے اوجھل، اس کے ریڈارسے پوشیدہ،اوراس کے دماغ سے پہلے حملہ آور ہوتے ہیںگویاہواسے باتیں کرتے ہیں،لیکن دشمن کوسننے بھی نہیں دیتے۔ جدیدجنگ میں کامیابی کا راز چھپنے اور دیکھنے کی طاقت میں ہے۔جودکھائی دے،وہ ماراجائے۔سٹیلتھ اسی فلسفے کاعملی اظہارہے۔
دنیامیں صرف تین ممالک امریکا، روس اور چین ایسے ہیں جنہوں نے اس نایاب ٹیکنالوجی کوعملی جامہ پہنایا۔یہ وہ اقوام ہیں جونہ صرف عسکری برتری رکھتی ہیں،بلکہ عالمی سیاست میں بھی اونچابولتی ہیں۔ مستقبل میں سٹیلتھ ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے کے لئے برطانیہ،یورپ،اورترکی کی کاوشیں بھی منظرعام پرآرہی ہیں۔اس کے علاوہ برطانیہ، جاپان، اٹلی مستقبل کے طیارے’’ٹیمپسٹ‘‘کی تیاری پرکام کررہے ہیں اورفرانس،جرمنی،اسپین مستقبل کے ایف سی اے ایس طیاروں کی تیاری کے لئے بڑی سرگرمی سے کام کر رہے ہیں اور مسلمان ملک ترکی بھی ’’کان‘‘ نامی طیارے کی تیاری میں آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔یادرہے کہ ترکی واحدمسلمان ملک ہے جس کے تیارکردہ ڈرونزکی بڑی تعدادکے خریدار روس اورچین ہیں۔گویااس طرح مستقبل کی جنگوں کی تیاری میں آنے والی صدی کی فضائی شہنشاہی کی بنیادیں ڈالنے کاعمل جاری ہے۔
آنے والے وقتوں میں جنگ کامطلب ہوگا فضا کی وہ خاموش آندھی جوکسی کی آنکھ کونظرنہ آئے مگربستی اجاڑجائے۔پاکستان جیسے ملک کے لئے ایسی ٹیکنالوجی کاحصول محض عسکری نہیں،بلکہ قومی سلامتی، تہذیبی وقار،اورخودانحصاری کی علامت ہے۔جب مکار دپڑوسی ہرقسم کی جارحیت کے لئے متکبرانہ اندازمیں دہمکیاں دیکرمرعوب کرنے کی احمقانہ کوششوں میں مبتلاہوتوان حالات میں ضروری ہوگیاہے کہ پاکستان بھی موجودہ ففتھ جنریشن طیاروں کے نہ صرف حصول بلکہ چین کے اشتراک سے اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کارخ کرے۔اس وقت امریکاکے ایف35لائٹننگ، ریپٹر اورایف22،روس کاایس یو57ففتھ جنریشن طیاروں کی تمام خوبیوں کا دعویٰ کررہے ہیں لیکن چین کا جے 35 اورجے20طیارے جونسبتاً نئے ہیں، مگرانتہائی خطرناک اورقیمت میں معتدل،یعنی موزوں ہیں اورپاکستاان جے35میں اپنی دلچسپی لے رہاہے تاکہ مستقبل میں چین کے اشتراک سے جے ایف17 تھنڈر کی طرح اسے بھی خودتیارکرکے خودکفالت کی طرف قدم بڑھا سکے۔
ففتھ جنریشن اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے مزین طیارے یہ فقط دفاع نہیں،بلکہ نکتہ آغازہے جوپیشگی حملہ کی صلاحیت رکھتے ہوئے دشمن کے جہازوں کواڑان بھرتے ہی دبوچ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ کم خرچ کے ساتھ زیادہ نفسیاتی دباؤکی تکنیک سے دشمن کی مکمل بصارت پرپردہ ڈال کران کوتباہ کرنے پرقدرت رکھتاہے۔ حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستانی شاہینوں کی یہی پالیسی نے اس کے رافیل اورروسی طیاروں کواپنے ملکی حدودسے ہی بھارتی سرزمین پرتباہ کرکے دنیاکودنگ کردیاتھا۔اب سٹیلتھ کی ضرورت اس لئے ضروری ہوگئی ہے کہ جدید جنگ میں جودکھائی دیا،وہ ماراگیا۔ جو چھپارہا،وہ جیتا۔سٹیلتھ ٹیکنالوجی،گویا غارِحراکی خلوت کی مانند،خامشی سے اپنی تاثیردکھاتی ہے۔
مستقبل کی فضائی جنگ گویاایک ایسی ہولناک جنگ ہوگی جہاں پائلٹ ہویانہ ہو،مگرطیارہ خوداپنے ہدف کونہ صرف تلاش کرکے مار گرانے کی صلاحیت رکھتاہوگابلکہ دشمن کے راڈار کوبھی چکمہ دیکرآنکھوں سے اوجھل ہوکراپنے ٹارگٹ کوتباہ کرکے واپس اپنی منزلِ مقصودپرلوٹ آئے گا۔فضامیں خاموشی ہوگی،مگرزمین پرشوربرپاہوگا۔دشمن کوپتہ بھی نہ چلے گا، اوراس کادفاعی نظام ناکارہ ہو چکاہوگا۔مستقبل کی جنگ کی جھلک کااس بات سے اندازہ لگالیں کہ مصنوعی ذہانت،بغیرپائلٹ کے جہاز،اورنیٹ ورک پرمبنی لڑائی ہوگی گویامستقبل کی جنگ میں فضاخاموش ہوگی،مگرموت کی آہٹ تیز تر ہوجائے گی اورپتہ بھی نہ چل سکے گاکہ ساراعلاقہ پلک جھپکتے ہی راکھ کامنظرپیش کررہاہوگا۔
پاکستان کایہ فیصلہ کہ وہ جے35جیسے جدید طیارے حاصل کرے،ایک نئی دفاعی حکمت عملی کی بنیادہے،یہ فقط عسکری طاقت نہیں،بلکہ سفارتی حکمت، اقتصادی فائدے اورعالمی سیاسی نقشے پرمقام حاصل کرنے کی کاوش ہے۔آنے والاوقت بتائے گاکہ پاکستان اس فضائی دوڑمیں محض تماشائی رہے گایامعرکہ آرائی کاعلمبردار۔
یادرکھیں جب قوموں کی فکری سطح بلند ہو جائے توان کی توپیں بھی تدبرسے گولہ داغتی ہیں۔ پس،وقت آگیاہے کہ ہم فضاؤں کی جنگ کومحض جنگ نہ سمجھیں، بلکہ تہذیبوں کے مکالمے کاایک باب جانیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ففتھ جنریشن پاکستان کی کی صلاحیت نہیں بلکہ مستقبل کی ہیں بلکہ کی تیاری کی فضائی کے ساتھ ہیں اور کرنے کی کے لئے چین کے کی جنگ
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔