---فائل فوٹوز

جمعیت علماء اسلام (ف) نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔

سینٹیر کامران مرتضیٰ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایکٹ کی بلوچستان اسمبلی سے منظوری پر تحفظات ہیں، ہر آئینی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرمین شپ ہمارے پاس تھی، چیئرمین کی غیرموجودگی میں بل پاس ہوا، مائنز اینڈ منرلز ایکٹ ختم ہو کر رہے گا، بلوچستان کی معدنیات پر وفاق کا حق منظور نہیں، وسائل بلوچستان کے لوگوں کے ہیں، حق تلفی نہیں ہونے دیں گے۔

’ہمارے اراکین سے دھوکا ہوا‘ بلوچستان منرلز ایکٹ 2025 اور خیبرپختونخوا منرلز بل 2025 ،18ویں ترمیم کے خلاف ہیں، رضا ربانی

اسلام آباد سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے.

..

دوسری جانب جے یو آئی (ف) بلوچستان کے امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ آج مائنز اینڈ منرلز ایکٹ بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے، ہر فورم پر مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

مولانا عبدالواسع نے کہا کہ ایکٹ نافذ ہو گیا تو بلوچستان کے لوگ یہاں رہنے کے قابل نہیں رہیں گے، ہماری مخالفت کے باعث قومی اسمبلی، سینیٹ سے بلوچستان کا مائنز اینڈ منرلز بل واپس لیا گیا۔

مولانا عبدالواسع نے یہ بھی کہا ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کی منظوری کے دوران ہمارے اراکین سے دھوکا ہوا۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: مائنز اینڈ منرلز ایکٹ

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور، کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر رواں سال اب تک4727 ملزمان گرفتار
  • کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن تیز، 5600 سے زائد ملزمان گرفتار
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ