اسلام آباد (نیوزڈیسک) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی مخصوص نشستوں سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں کی نشستیں بحال کر دیں۔ اس فیصلے کے بعد واضح ہو گیا ہے کہ کس جماعت کو کتنی مخصوص نشستیں واپس ملی ہیں۔

قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں کی تفصیل
خیبرپختونخوا سے مسلم لیگ ن کو 2 مخصوص نشستیں بحال ہوئیں، پیپلز پارٹی کو بھی 2 نشستیں واپس ملیں جبکہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کو ایک نشست حاصل ہوئی۔ اسی طرح، قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن، جے یو آئی اور پیپلز پارٹی کو ایک ایک مخصوص نشست بحال کی گئی ہے۔

صوبائی اسمبلیوں کی مخصوص نشستیں
خیبرپختونخوا اسمبلی میں جے یو آئی کو 8 مخصوص نشستیں، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو 6-6 نشستیں جبکہ اے این پی کو ایک نشست بحال کی گئی ہے۔
کے پی کے کی صوبائی اسمبلی میں جے یو آئی کو 2 نان مسلم مخصوص نشستیں، جبکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو ایک ایک نشست بحال ہوئی ہے۔

دیگر صوبوں میں مخصوص نشستیں
پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی 21 مخصوص نشستیں بحال ہوئیں، جبکہ پیپلز پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ کو ایک ایک نشست واپس ملی۔ پنجاب اسمبلی کی نان مسلم مخصوص نشستوں میں مسلم لیگ ن کو 2 اور پیپلز پارٹی کو ایک نشست دی گئی ہے۔
سندھ اسمبلی سے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کو ایک ایک مخصوص نشست بحال کی گئی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کی ایک نان مسلم نشست بھی بحال ہوئی ہے۔

مجموعی طور پر نشستوں کی تقسیم
الیکشن کمیشن کے اس حالیہ فیصلے کے مطابق مسلم لیگ ن کی 43 نشستیں، پیپلز پارٹی کی 14، جمعیت علمائے اسلام کی 12، جبکہ دیگر جماعتوں جیسے آئی پی پی، ق لیگ، اے این پی، ایم کیو ایم، اور پی ٹی آئی کو ایک ایک مخصوص نشست بحال ہوئی ہے۔
مزیدپڑھیں:ریٹائرڈ ملازمین کیلئےپنشن کے حوالے سے اہم خبر آگئی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اور پیپلز پارٹی کو مخصوص نشستیں نشستیں بحال اسمبلی میں کو ایک ایک مسلم لیگ ن نشست بحال بحال ہوئی جے یو ا ئی ایک نشست اور پی

پڑھیں:

حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔

پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم  پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔

پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے، بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔

حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان

پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے، بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  •   جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
  • فیصل ممتاز راٹھور سے چوہدری یاسین کی ملاقات
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر