توہینِ عدالت کیس میں سیشن جج حویلی راجہ امتیاز گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے فل بینچ نے توہینِ عدالت کیس کا فیصلہ سنا دیا۔
فیصلہ چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان کی سربراہی میں فل بینچ نے سنایا۔
عدالت نے سیشن جج کو کمرۂ عدالت سے گرفتار کرنے کا حکم دے دیا، جس کے بعد پولیس نے جج کو گرفتار کر لیا۔
جوڈیشل کمیشن اجلاس، 4 ہائیکورٹس کیلئے مستقل چیف جسٹسز کے ناموں کی منظوریاجلاس میں چاروں ہائی کورٹس کے مستقل چیف جسٹسز کی تقرری پر غور کیا جائے گا۔
توہینِ عدالت کیس میں سیشن جج حویلی راجہ امتیاز کو 3 دن کی سزا سنا دی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ سیشن جج نے اعلیٰ عدالتی احکامات کے منافی منشیات کے ملزم کی درخواستِ ضمانت منظور کی، سیشن جج نے عدالت میں جھوٹ بول کر عدالت کے وقار کو مجروح کیا۔
عدالتی ریمارکس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیشن جج راجہ امتیاز نے سپریم کورٹ کی اتھارٹی کو چیلنج کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک