توہینِ عدالت کیس میں سیشن جج حویلی راجہ امتیاز گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے فل بینچ نے توہینِ عدالت کیس کا فیصلہ سنا دیا۔
فیصلہ چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان کی سربراہی میں فل بینچ نے سنایا۔
عدالت نے سیشن جج کو کمرۂ عدالت سے گرفتار کرنے کا حکم دے دیا، جس کے بعد پولیس نے جج کو گرفتار کر لیا۔
جوڈیشل کمیشن اجلاس، 4 ہائیکورٹس کیلئے مستقل چیف جسٹسز کے ناموں کی منظوریاجلاس میں چاروں ہائی کورٹس کے مستقل چیف جسٹسز کی تقرری پر غور کیا جائے گا۔
توہینِ عدالت کیس میں سیشن جج حویلی راجہ امتیاز کو 3 دن کی سزا سنا دی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ سیشن جج نے اعلیٰ عدالتی احکامات کے منافی منشیات کے ملزم کی درخواستِ ضمانت منظور کی، سیشن جج نے عدالت میں جھوٹ بول کر عدالت کے وقار کو مجروح کیا۔
عدالتی ریمارکس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیشن جج راجہ امتیاز نے سپریم کورٹ کی اتھارٹی کو چیلنج کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔