غزہ پر اسرائیلی بمباری ، 109 فلسطینی شہید، مجموعی تعداد 56 ہزار سے تجاوز کرگئی WhatsAppFacebookTwitter 0 2 July, 2025 سب نیوز

(آئی پی ایس )اسرائیل کی جانب سے غزہ میں وحشیانہ فضائی بمباری کا سلسلہ شدت اختیار کرگیا۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پچاس فضائی حملوں میں کم از کم 109 فلسطینی شہید ہوگئے، جن میں امداد کے منتظر 28 شہریوں کو گولیاں مار کر نشانہ بنایا گیا۔فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق، اسرائیل کی غزہ پر جاری جارحیت کے آغاز سے اب تک شہدا کی تعداد 56 ہزار 647 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 228 صحافی بھی شہید ہو چکے ہیں جو جنگی جرائم کے ثبوت اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

صورتحال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ غزہ کے بڑے اسپتالوں میں ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ الشفا اسپتال میں ڈائیلاسز کی سہولت مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، جس سے سینکڑوں مریض موت کے خطرے سے دوچار ہیں۔فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے ایک بار پھر عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ غزہ کے محصور عوام کو فوری طور پر طبی امداد، ایندھن اور ضروری سامان فراہم کیا جائے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان میں سونے کی قیمت میں کمی، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟ علی امین گنڈا پور کا 11 کروڑ کے بسکٹ کھانے کے الزام پر ردعمل سامنے آگیا الیکشن کمیشن فیصلہ؛ کس جماعت کی کتنی مخصوص نشستیں بحال ہوئیں؟ بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو سزا قومی اسمبلی میں کس کا راج؟ مخصوص نشستوں نے گیم بدل دی خیبرپختونخوا حکومت کے ہیلی کاپٹر کی مرمت میں 37 کروڑ کی مالی بے ضابطگی اسلام آباد پولیس کی کامیابی: ثنا یوسف قتل سمیت 15 ہائی پروفائل کیسز ریکارڈ مدت میں ٹریس TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز

وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز ہونے کا خدشہ ہے جب کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے صرف 5 نئے ترقیاتی منصوبے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں۔

ذرائع نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔

ذرائع نے کہنا تھا کہ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے، وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کے لیے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے،41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے بھی شامل ہیں، ان منصوبوں کے لیے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع نے کہا کہ وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید