ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے پیش نظر حکومت بلوچستان نے ایران اور پاکستان کے درمیان گزشتہ ماہ سرحدی آمدورفت کا سلسلہ معطل کر دیا تھا جس کے بعد تفتان، تربت، پنجگور اور گوادر سمیت دیگر کراسنگ پوائنٹس کو پیدل سمیت تمام اقسام کی نقل حرکت کے لیے بند کردیا گیا تھا۔

اس دوران ایران سے متصل علاقوں میں پیٹرولیم مصنوعات اور غذائی اشیاء کی قلت پیدا ہو گئی تھی جس کی وجہ سے علاوہ مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: کیا بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کم قمیت پر دستیاب ہے؟

مقامی افراد کے مطابق سرحد پر آمدرفت بند ہونے سے جہاں غذائی قلت پیدا ہونے لگی تھی وہی بازاروں میں موجود اشیاء کے دام آسمان کو چھونے کے ساتھ ساتھ بے روزگاری نے بھی جنم لے لیا تھا۔

تاہم اب امریکا کی ثالثی میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ہونے کے بعد حکومت بلوچستان کی جانب سے سرحدوں کو کھولنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر تفتان نعیم شاہوانی کے مطابق ایران اور اسرائیل جنگ بندی کے بعد سرحدی علاقے تفتان میں اشیاء خوردونوش کی صورتحال معمول پر آنا شروع گئی۔ ایران سے تفتان کے بازاروں میں اشیاء خوردونوش کی ترسیل شروع ہوگئی ہے۔ جنگ بندی کے بعد بارڈر سے ایرانی پٹرول اور ڈیزل کی ترسیل بھی شروع ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان کے ایران سے متصل کراسنگ پوائنٹس غیر معینہ مدت کے لیے بند

ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی ترسیل ہونے سے ان کی قیمت میں بھی کمی آگئی۔ جنگ کےدوران تفتان میں ایرانی پیٹرول 250 سے 300 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا تھا۔ جنگ بندی کے بعد ایرانی پٹرول کی قیمت 170 سے180روپے فی لیٹر ہوگئی۔

پنجگور کے مقامی شخص برکت مری نے وی نیوز کو بتایا کہ علاقے میں صورتحال معمول پر آنا شروع ہو گئی ہے۔ بازاروں کی رونقیں بحال ہیں جبکہ پیٹرول اور اشیاء خوردونوش علاقے میں دستیاب ہے البتہ اشیاء خوردونوش بالخصوص چاول، چینی اور خوردنی تیل کی قیمتیں کم نہیں ہو رہیں جس سے علاقہ مکین پریشان دیکھائی دیتے ہیں۔

دوسری جانب تربت کے مقیم ماجد صمد نے وی نیوز کو بتایا کہ دیگر سرحدی علاقوں کی طرح تربت میں بھی صورتحال بہتر ہوتی جارہی ہے۔ اشیاء ضرورت بازار میں دستیاب ہیں جبکہ قیمتیں بھی کم  ہونا شروع ہو گئی ہے تاہم پیٹرول کی ترسیل کا سلسلہ باقاعدہ طور پر شروع نہیں ہوا جس کی وجہ سے پیٹرول دستیاب نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایران اسرائیل جنگ ایرانی پیٹرول بلوچستان تفتان بارڈر سرحدی علاقہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایران اسرائیل جنگ ایرانی پیٹرول بلوچستان تفتان بارڈر سرحدی علاقہ اشیاء خوردونوش ایرانی پیٹرول ایران اور کی ترسیل شروع ہو کے بعد

پڑھیں:

ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے

امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔

امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔

اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔

امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔

مزید پڑھیں

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔

عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔

بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار