ایران اورآذربائیجان میں ٹھن گئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
باکو:ایران اور آزر بائیجان میں ٹھن گئی،ایکدوسرے پر الزام تراشی کی،ایران پر اسرائیلی حملوں میں آذربائیجان کے مبینہ کردار کے بارے میں قیاس آرائیوں اور الزامات نے تہران اور باکو کے درمیان حالات کو کشیدہ کر دیا ہے۔آذربائیجان کے سرکاری میڈیا نے ایران کی جانب سے عائد الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ ایران کے خلاف ڈرون حملوں کے لیے آذربائیجان کی سرزمین یا فضائی حدود استعمال کی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ آذربائیجان نے سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے ایسے بیانات کوجارحانہ پروپیگنڈا اورغلط معلومات قرار دیا ہے۔آذربائیجان کے سرکاری میڈیا نے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایرانی حکومت کی آذربائیجان مخالف پالیسیوں کے ذاتی طور پر ذمہ دار ہیں۔
آذربائیجان کے خبر رساں ادارے کیلیبر کی ویب سائٹ پرخامنہ ای اینڈ ہز وار اگینسٹ آذربائیجان کے عنوان سے ایک مضمون میں ایران کے رہنما پر الزام عائد کیا ہے گیا کہ وہ کئی سالوں سے باکو حکومت کے خلاف پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔مضمون میں کہا گیا ہے کہ خامنہ ای کا نظریاتی ماڈل جبر اور خوف پر مبنی ہے اور آذربائیجان کی کامیابی اور سیکولرازم انھیں پسند نہیں۔
ایرانی حکومت کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے ایرانی صدر مسعود پڑشکیان نے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ان سے گزارش کی تھی کہ وہ اسرائیلی ڈرونز کی جانب سے آذربائیجان کی فضائی حدود کے استعمال کی تحقیقات کریںلیکن آذربائیجان کے سرکاری میڈیا کی جانب سے اس معاملے پر کوئی ردِ عمل نہیں دیا گیاتاہم کچھ تجزیہ کار اس خاموشی کی وجہ آذربائیجان میں میڈیا پر کنٹرول کو قرار دے رہے ہیں۔
باکو میں ایران کے نئے سفیر کے ساتھ ایک ملاقات میں آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے ان الزامات کو ’مکمل طور پر بے بنیاد‘ قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ آذربائیجان کی سرزمین کبھی بھی کسی دوست اور برادر ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی۔آذربائیجان کے ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان ای سی او (اقتصادی تعاون تنظیم) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے آذربائیجان جانے والے تھے تاہم دونوں ممالک کے درمیان اس حالیہ معاملے کی وجہ سے خاصی کشیدگی پائی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آذربائیجان کے آذربائیجان کی ایران کے
پڑھیں:
امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
بھارتی ریاست کیرالہ(Kerala) سے ایک غیر معمولی اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک شخص کو سرکاری نوکری کا تقرری نامہ امتحان دینے کے 21 سال بعد جاری کیا گیا، تاہم اس وقت تک وہ عمر کی قانونی حد عبور کر چکا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عبدالمجید نے 2005 میں جونیئر عربی ٹیچر کی آسامی کے لیے امتحان دیا تھا۔ وہ اس امتحان میں کامیاب امیدواروں کی فہرست میں بھی شامل تھے، تاہم اس وقت انہیں تقرری نہیں مل سکی۔ سرکاری فہرست کی مدت تین سال تھی جو 2008 میں ختم ہو گئی، مگر اس دوران خالی آسامی کو پر نہیں کیا جا سکا۔
طویل عرصے تک معاملہ التوا میں رہنے کے بعد 24 اپریل 2026 کو اچانک عبدالمجید کو تقرری نامہ جاری کر دیا گیا۔ لیکن چونکہ اس وقت تک ان کی عمر 60 سال ہو چکی تھی، اس لیے وہ سرکاری ملازمت کے لیے قانونی طور پر اہل نہیں رہے اور ملازمت سنبھال نہیں سکے۔
یہ صورتحال نہ صرف ایک فرد کے لیے مایوسی کا باعث بنی بلکہ سرکاری نظام کی سست روی اور انتظامی تاخیر پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عبدالمجید کا کہنا ہے کہ اگر انہیں بروقت تقرری مل جاتی تو وہ برسوں پہلے اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہوتے اور ان کا کیریئر مختلف ہوتا۔
مزیدپڑھیں:فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 12 جون سے
مزید دلچسپ اور متنازع پہلو اس وقت سامنے آیا جب ان کے تعلیمی ریکارڈ میں تاریخ پیدائش 27 مئی 1966 درج ہے، جبکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی اصل تاریخ پیدائش 27 مئی 1967 ہے۔ ان کے مطابق اگر سرکاری ریکارڈ میں ایک سال کی درستگی کر دی جائے تو وہ اب بھی ملازمت کے اہل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اس حوالے سے ریاستی وزیر تعلیم اور قانونی ماہرین کو باضابطہ درخواستیں بھی جمع کروائی ہیں، جن میں انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے، جہاں صارفین کی بڑی تعداد نے سرکاری نظام میں طویل تاخیر اور انتظامی ناکامی پر تنقید کی ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے متاثرہ شخص سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔