مصنوعات سازی میں ڈیٹا کا جلد از جلد تجزیہ کرناضروری ہے، طیب ترین
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر) پاکستان میں اور دنیا بھر میں کاروباری حالات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں اور ان کا درست بروقت تجزیہ کیئے بغیر کاروبار میں طویل عرصہ جمے رہنا ممکن نہیں ہے۔ یہ بات تھل لمیٹڈ کے سی ای او اور ہاؤس آف حبیب کے وائس چیئرمین طیب ترین نے جرمن آئی ٹی کمپنی ایس اے پی کے ڈیٹا تجزیاتی نظام رائز وودھ ایس اے پی کے نفاذ کی تقریب سے خطاب میں کہی۔ طیب ترین کا کہنا تھا کہ آج تھل لمیٹڈ کے لیے ایک اہم دن ہے۔ رائز وودھ ایس اے پی کے گو لائیو ہمارے آئی ٹی نظام کو جدید بنانے کے ساتھ ساتھ ہماری ٹیم کو اہم معلومات تک بر وقت رسائی حاصل کرنے کے قابل بنائے گا۔انھوں نے کہا کہ یہ تبدیلی ہمیں تیزی سے فیصلے کرنے، حالات کے مطابق فوری ردعمل دینے، اور اپنے اسٹیک ہولڈرز کو قدر فراہم کرنے کے قابل بنائے گی۔ایس اے پی پاکستان، افغانستان، عراق اور بحرین کے منیجنگ ڈائریکٹر، ثاقب احمد نے اس موقع پر کہا کہ ہم تھل لمیٹڈ کے ایک پائیدار انٹرپرائیز بننے کے اس سفر میں شراکت دار ی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ یہ حکمت عملی انہیں مزیدبہتر، مؤثر، اور دیرپا کاروباری استحکام کی جانب گامزن کرے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈیجیٹلائزیشن میں یہ بڑی سرمایہ کاری نہ صرف تھل لمیٹڈ کے لیے ایک حکمتِ عملی پر مبنی اقدام ہے بلکہ اس کا پاکستان کی معیشت کی بہتری میں بھی اہم کردار ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایس اے پی
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔