سید عامر علی نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرلی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: (کامرس رپورٹر)کے معروف اسلامی بینک میزان بینک کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر اور نامزد چیف ایگزیکٹوآفیسر سید عامر علی نے سخت نصابی مراحل اورریسرچ کی تکمیل کے بعد بزنس ایڈمنسٹریشن میں ڈاکٹر آف فلاسفی (PhD)کی ڈگری حاصل کرلی ہے۔ یہ قابلِ ذکر سنگِ میل عبور کرکے سید عامر علی پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے پاکستان کے سب سے کم عمر نامزد چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔اس طرح انہوں نے کارپوریٹ لیڈرشپ میں اعلیٰ تعلیم اور اسٹریٹجک اسٹینڈڈرز کی ایک مثال قائم کی ہے۔ سید عامر علی کی ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ “اسلامک ڈیجیٹل بینکنگ میں ایکو سسٹم کے ذریعے ایس ایم ای فنانسنگ”کے عنوان سے ہے جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ شریعت کے ااصولوںپر مبنی مالیاتی نظام اور ڈیجیٹل انوویشنزکے امتزاج سے ابھرتی ہوئی معیشتوں، خاص طورپر پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs)کو سرمایہ تک رسائی کیسے حاصل ہوسکتی ہے۔ان کی ریسرچ جامع، اخلاقی اور ڈیجیٹل طورپر چلنے والے مالیاتی سلوشنز کو فعال کرنے کے میزان بینک کے وژن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔یہ ڈاکٹریٹ کی کوالیفکیشن ڈاکٹر عامر علی کے ممتاز تعلیمی اور پیشہ ورانہ پروفائل میں اضافہ ہے۔ سید عامر علی ایک چارٹرڈ اکائونٹنٹ(گولڈ میڈلسٹ)، سی ایف اے چارٹر ہولڈر، ایم بی اے (گولڈ میڈلسٹ)اور سافٹ ویئر انجنئیرنگ کے ساتھ ایل ایل بی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سید عامر علی
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔