ایلون مسک کو حساس سرکاری ڈیٹا تک رسائی ہے‘ واشنگٹن پوسٹ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ معروف ارب پتی ایلون مسک کی ٹیم کو حکومتی ادارے کی قیادت کے دوران امریکی وفاقی اداروں کے حساس ترین ڈیٹا تک غیر معمولی رسائی حاصل رہی۔ یہ ادارہ وزارت براہ حکومتی کفایت شعاری اقدامات کے نام سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قائم کیا تھا، جس کی قیادت خود مسک کر رہے تھے۔ اخبار کے مطابق مسک کی ٹیم نے 7اہم امریکی اداروں کے خفیہ سسٹم تک رسائی حاصل کی، جن میں محکمہ دفاع، ناسا، محکمہ محنت اور مالی صارفین کے تحفظ کا دفتر شامل ہیں۔ حاصل کردہ معلومات میں سرکاری معاہدے، تجارتی راز، اور مسک سے منسلک کمپنیوں کے خلاف دائر شکایات جیسے حساس نوعیت کے ریکارڈ شامل تھے۔ اگرچہ ان معلومات کے غلط استعمال کے شواہد فی الحال موجود نہیں، تاہم اس غیر معمولی رسائی نے صنعتی و قانونی حلقوں میں گہری تشویش پیدا کی ہے۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ صرف ناسا میں ہی مسک کی ٹیم نے 13 ہزار سے زائد سرکاری معاہدوں اور گرانٹس کی داخلی تفصیلات تک رسائی حاصل کی، جن میں سفارشات شامل ہیں۔ اسی طرح محکمہ محنت کی دستاویزات میں ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے خلاف شکایات اور ٹیم کے لیے آسان رسائی کی ہدایات بھی شامل تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔