اسپیکر قومی اسمبلی نے تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ وزیراعظم پر چھوڑ دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
تنخواہوں میں اضافے پر وزیر دفاع خواجہ آصف کی سخت تنقید کے پس منظر میں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ایک خط کے ذریعے متنازعہ تنخواہوں میں اضافے کا معاملہ وزیراعظم شہباز شریف کو سونپ دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپیکر ایاز صادق نے خط میں لکھا کہ ان کا تنخواہ میں اضافے سے کوئی تعلق نہیں، نہ ہی انہیں اس میں دلچسپی ہے۔ ’تنخواہوں میں اضافہ کرنا وفاقی کابینہ اور وزیراعظم کا اختیار ہے، میری تنخواہ نہ بڑھائی جائے، میرا کوئی مطالبہ نہیں۔‘
یہ بھی پڑھیں:
اگرچہ وزیر دفاع خواجہ آصف کا نام براہ راست ذکر نہیں کیا گیا، لیکن اسپیکر نے ان کے بیان کے تناظر میں ہی اپنا مؤقف پیش کیا، رپورٹس کے مطابق اب وزیراعظم شہباز شریف اس معاملے پر حتمی فیصلہ کریں گے۔
یاد رہے کہ جون میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں و مراعات میں اضافے کو ’مالی فضول خرچی‘ قرار دیتے ہوئے شدید مخالفت کی تھی۔
اپنے بیان میں خواجہ آصف نے اس غیر معمولی اضافے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حد سے زیادہ اخراجات کے زمرے میں آتا ہے، انہوں نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر اور ڈپٹی چیئرمین کی تنخواہوں و مراعات میں ‘پرتعیش’ اضافہ بھی مالی فضول خرچی ہے۔
مزید پڑھیں:
خواجہ آصف نے مزید کہا تھا کہ عوام کی زندگی کے حالات کو مدِنظر رکھنا ضروری ہے، قوم کی عزت اور وقار کا دار و مدار عوام کی خوشحالی پر ہے۔
اس سے قبل وفاقی حکومت نے اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں 500 فیصد اضافے کی منظوری دی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپیکر ایاز صادق تنخواہوں میں اضافے چیئرمین سینیٹ خواجہ آصف قومی اسمبلی وزیر دفاع.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیکر ایاز صادق تنخواہوں میں اضافے چیئرمین سینیٹ خواجہ ا صف قومی اسمبلی وزیر دفاع تنخواہوں میں اضافے قومی اسمبلی وزیر دفاع خواجہ آصف
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔