مستونگ میں سیکیورٹی فورسز نے 4 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا، ترجمان بلوچستان حکومت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
بلوچستان حکومت کے ترجمان نے مستونگ میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 4 دہشتگردوں کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔
ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ روز مستونگ میں ایک واقعہ پیش آیا، کچھ دیر کے لیے ایسا تاثر قائم کیا گیا کہ ریاست میں دہشتگردوں کی رٹ ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنے سیکورٹی پلان کو ری وزٹ کیا اور مستونگ میں سیکورٹی فورسز کے جوابی ردعمل میں 4 دہشتگرد مارے گئے۔
یہ بھی پڑھیے: مستونگ : مسلح افراد کا نجی بینکوں اور دفاتر پر حملہ، فائرنگ سے ایک بچہ جاں بحق، 2 دہشتگرد ہلاک
ترجمان کا کہنا تھا کہ حالیہ بجٹ میں ڈی سی سی فورم قائم کیا گیا، اس کے قیام کا مقصد ضلعی انتظامیہ کو بااختیار بنانا ہے، کسی ڈپٹی کمشنر کو پی ڈی نہیں لگایا گیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ مستونگ میں بینک سے 4 کروڑ روپے لوٹے گئے، بینکوں پر نجی سیکورٹی موجود ہوتی ہے، سرکاری املاک کیساتھ ساتھ بینکوں کی حفاظت کے لیے اقدامات اٹھارہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مستونگ میں
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔