مرد ہو یا عورت موٹر سائیکل پر بیٹھے دونوں افراد کے لیے ہیلمٹ لازمی قرار دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی دارالحکومت میں موٹر سائیکل پر سوار دونوں سواریوں کے لیے ہیلمٹ پہننا لازمی قرار دے دیا گیا ہے اور سواروں میں مرد ہو خواتین دونوں کو ہیلمٹ پہننا ہوگا۔
ترجمان اسلام آبادٹریفک پولیس کے مطابق موٹرسائیکل ڈرائیور کے پیچھے بیٹھا سوار بھی اتنا ہی خطرے میں ہوتا ہے جتنا ڈرائیور اور دونوں سواریوں کے لیے ہیلمٹ لازمی قرار دینے کا فیصلہ شہریوں کی حفاظت کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
چیف ٹریفک آفیسر(سی ٹی او) ذیشان حیدر نے کہا کہ مرد ہوں یا عورت موٹر سائیکل پر بیٹھے دونوں افراد کے لیے ہیلمٹ لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا اور اس فیصلے کا اطلاق دو ہفتے آگاہی مہم کے بعد ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پہلے شہریوں کو ڈبل ہیلمٹ کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے گا، دو ہفتوں بعد ڈبل ہیلمٹ نہ پہننے والے موٹر سائیکل سواروں پر جرمانہ عائد کیا جائے گا،
سی ٹی او ذیشان حیدر نے کہا کہ ہیلمٹ کے استعمال سے حادثے کی صورت میں قیمتی انسانی زندگیاں بچانے کی شرح میں 50فیصد اضافہ ہوگا۔
ذیشان حیدر نے کہا کہ سواری کے ہیلمٹ نہ پہننے کا جرمانہ موٹرسائیکل چلانے والے کو ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے ہیلمٹ موٹر سائیکل لازمی قرار نے کہا کہ
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔