اسلام آباد:

وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیجیٹل اور کیش لیس معیشت کے حوالے سے متعلقہ حکام کو تمام اہداف دگنا کرنے کی ہدایت کی ہے۔

کیش لیس اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے حوالے سے ہفتہ وار اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کو معیشت میں شفافیت لانے کا بنیادی ذریعہ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ شہریوں اور کاروباری اداروں کے درمیان ادائیگیوں کو آسان اور تیز تر بنانے کے لیے ڈیجیٹل نظام کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کیش لیس معیشت سے متعلق قائم کردہ کمیٹیاں تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کر کے قابلِ عمل تجاویز جلد پیش کریں۔

مزید پڑھیں : وزیراعظم اقتصادی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کیلیے آذربائیجان روانہ

اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ اجلاس میں قائم کی گئی ڈیجیٹل پیمنٹس انوویشن اینڈ ایڈوپشن کمیٹی، ڈیجیٹل پبلک انفرا اسٹرکچر کمیٹی اور گورنمنٹ پیمنٹس کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہیں، جنہوں نے معیشت کی ڈیجیٹائزیشن سے متعلق حکمت عملی پر وزیراعظم کو تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈیجیٹل ادائیگیوں کو سہل بنانے اور تاجر طبقے کو اس نظام میں شامل کرنے کے لیے حکمت عملی وضع کر رہا ہے۔ چھوٹے کاروباروں کی شمولیت کے لیے خصوصی پیکیج متعارف کرانے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔

اسی طرح ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے موبائل فون ایپلی کیشنز استعمال کرنے والوں کی تعداد 95 ملین سے بڑھا کر 120 ملین، کیو آر کوڈ استعمال کرنے والے تاجروں کی تعداد 0.

9 ملین سے 2 ملین اور مجموعی ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کو 7.5 بلین روپے سے 12 بلین روپے تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاہم وزیراعظم نے تمام اہداف کو دگنا کرنے کی ہدایت جاری کی۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ’’ڈیجیٹل نیشنل پاکستان‘‘کے تحت ڈیجیٹل معیشت کے منصوبے کا آغاز ہو چکا ہے، جبکہ اسلام آباد سٹی ایپ اب تک 1.3 ملین بار ڈاؤن لوڈ ہو چکی ہے اور اس پر 15 سروسز دستیاب ہیں۔

اس ایپ کے ذریعے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی مد میں 15.5 ارب روپے سے زائد رقم وصول کی جا چکی ہے۔ ’’ڈیجیٹل پاکستان آئی ڈی‘‘منصوبے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے، جبکہ اسلام آباد میں ای-اسٹیمپنگ کی سہولت جلد متعارف کرائی جا رہی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی دارالحکومت کے اسپتالوں، تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر، پارکس اور میٹرو بس لائنز پر وائی فائی انٹرنیٹ کی سہولت کی فراہمی کے لیے کام جاری ہے۔ وزیراعظم نے یہ سہولیات آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر وفاقی علاقوں تک توسیع دینے کی ہدایت بھی جاری کی۔

اجلاس میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

Tagsپاکستان

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان اسلام آباد اجلاس میں کی ہدایت کیش لیس کے لیے گیا کہ

پڑھیں:

آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار

آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزیرے قشم پر امریکی فوج کی کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے ’اپنے دفاع‘ کے تحت حملہ کیا، جبکہ ایران نے جواباً کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعووں کے باوجود واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔

امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے قشم جزیرے پر ’ اپنے دفاع‘ کے تحت حملے کیے، جبکہ ایران کی جانب سے کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کویت میں تعینات امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز کی ایک نئی لہر بھیجی گئی، تاہم یہ حملہ ناکام بنا دیا گیا۔

ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار سینٹکام کے مطابق امریکی فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز کو مار گرایا اور اس کارروائی میں کسی امریکی اہلکار یا فوجی اثاثے کو نقصان نہیں پہنچا۔

تازہ حملوں کی یہ اطلاعات اس وقت سامنے آئیں جب ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے اعلان کیا کہ قشم جزیرے پر رات گئے امریکی حملے کے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

سینٹکام نے بدھ کی صبح جاری بیان میں کہا تھا کہ اس نے قشم جزیرے پر واقع ایک ایرانی زمینی کنٹرول اسٹیشن پر دفاعی نوعیت کی کارروائی کی۔

دوسری جانب امریکی فوج نے پاسدارانِ انقلاب کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور خطے میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔

ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں سینٹکام نے کہا کہ پاسدارانِ انقلاب کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔

بیان میں کہا گیا، ’امریکی افواج کے خلاف ایران کے تمام حملے ناکام رہے۔ امریکی فوج ہر وقت چوکس ہے اور کسی بھی بلاجواز ایرانی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔‘

ادھر ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس کے انجن روم کو نقصان پہنچا۔

ایرانی فورس کے مطابق اس کے جواب میں ایک امریکی اسرائیلی جہاز پر بحری میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے بعد امریکی افواج نے قشم جزیرے کے جنوب میں واقع پاسدارانِ انقلاب کے ایک مواصلاتی ٹاور کو نشانہ بنایا۔

پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد اس نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ایک امریکی فضائی اڈے، امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور خطے کے ایک ملک میں موجود امریکی ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا۔

دوسری جانب امریکی فوج نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے قشم جزیرے پر دفاعی نوعیت کی کارروائی کی اور ساتھ ہی متعدد ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کیا۔

سینٹکام کے مطابق ایران نے خطے کے پڑوسی ممالک کی جانب کئی بیلسٹک میزائل داغے، تاہم کوئی بھی اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکا۔

امریکی بیان میں کہا گیا کہ کویت کی جانب فائر کیے گئے دو ایرانی میزائل راستے ہی میں گر گئے یا ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے، جبکہ بحرین کی طرف داغے گئے تین میزائلوں کو امریکی اور بحرینی فضائی دفاعی نظام نے فوری طور پر تباہ کر دیا۔

واضح رہے کہ بحرین اور کویت میں حالیہ دنوں فضائی حملے کے خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ