برطانیہ 2035ء تک دفاع پر جی ڈی پی کا 5 فیصد خرچ کریگا، کیئر اسٹارمر
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
کچھ دفاعی تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 5 فیصد کی سرخی حقیقی فوجی صلاحیت کی بجائے پہلے سے مختص بجٹ کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے۔ یہ اعلان منگل کے روز دی ہیگ میں ہونیوالے نیٹو اجلاس سے ایک دن قبل کیا گیا ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شرکت کرینگے۔ اسلام ٹائمز۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ 2035ء تک قومی دفاع پر اپنی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا 5 فیصد خرچ کرے گا۔ یہ فیصلہ نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل سامنے آیا ہے، جس کا محور عالمی تنازعات اور یورپی دفاعی خود مختاری ہے۔ برطانیہ کا یہ اقدام نیٹو کے نئے دفاعی اخراجات کے اہداف سے ہم آہنگ ہے، اگرچہ یہ کچھ دیگر ممالک، جیسے پولینڈ کی نسبت سست روی سے کیا جائے گا۔ برطانیہ نے 2035ء کی تاخیر شدہ ڈیڈ لائن کے لیے کامیابی سے مذاکرات کیے۔ نئے 5 فیصد ہدف کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ 3.
چانسلر ریچل ریوز پر کئی ہفتوں سے لیبر جماعت کے پرو-دفاع اراکین اور عسکری قیادت کی جانب سے دباؤ تھا کہ نیٹو کے معیار پر پورا اترنے کے لیے دفاعی بجٹ بڑھایا جائے۔ کچھ دفاعی تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 5 فیصد کی سرخی حقیقی فوجی صلاحیت کی بجائے پہلے سے مختص بجٹ کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے۔ یہ اعلان منگل کے روز دی ہیگ میں ہونے والے نیٹو اجلاس سے ایک دن قبل کیا گیا ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شرکت کریں گے۔ ٹرمپ ماضی میں نیٹو سے علیحدگی کی دھمکیاں دے چکے ہیں، اگر رکن ممالک اپنی شراکت نہ بڑھائیں۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 5 فیصد ہدف کی واضح کمٹمنٹ کریں۔ حکومت قومی سلامتی کی نئی حکمتِ عملی جاری کرے گی، جس میں چین سے برطانیہ کے تعلقات پر طویل انتظار شدہ جائزہ بھی شامل ہوگا۔ یہ لیبر پارٹی کے منشور کا حصہ تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کیا ہے کہ
پڑھیں:
سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
لندن، لاہور (نمائندہ خصوصی، خصوصی نامہ نگار) سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کے بیٹے انس سرور برطانیہ کے نئے وزیر تجارت مقرر ہوگئے۔ برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے انس سرور کو وزیر تجارت مقرر کر دیا ہے۔ وہ اپنی نئی تقرری کے بعد ہاؤس آف لارڈ کے ممبر بھی بن جائیں گے۔ انس سرور کو برطانیہ کے تینوں ہاؤسز کا ممبر بننے کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہو گیا ہے، وہ اس سے پہلے برطانوی سیاست میں مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ برطانیہ بھر میں پاکستانیوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔