غزہ میں صیہونی قتل عام میں برطانیہ کی سہولت کاری بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
لیبر پارٹی کے سابق لیڈر اور اب آزاد رکن پارلیمنٹ جیریمی کوربن نے ایک پارلیمانی بل پیش کیا ہے جس میں برطانیہ کے اسرائیلی جنگ میں گہرے لیکن خفیہ کردار کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ میں صیہونی فوج کی بے رحمانہ قتل عام میں برطانیہ کی سہولت کاری کا انکشاف ہوا ہے۔ غزہ میں بمباری کرنے والے اسرائیلی طیاروں کو برطانیہ میں لینڈ کرنے اور ری فیولنگ کی اجازت دی گئی۔ تحقیقاتی ویب سائٹ ڈراپ سائٹ نیوز کی جانب سے فلائٹ ڈیٹا کے تجزیے کے مطابق برطانیہ کی لیبر حکومت نے گزشتہ انتخابات کے بعد کم از کم تین اسرائیلی فضائیہ کے جنگی جہازوں کو خفیہ طور پر برطانیہ میں لینڈ کرنے کی اجازت دی ہے، جو غزہ پر بمباری میں ملوث رہے ہیں۔ فلائٹ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ ستمبر 2024ء سے جون 2025ء کے درمیان، اسرائیل کے KC-707 "رِیم" ایئر ریفیولنگ طیاروں نے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان سفر کے دوران برطانیہ میں نو مرتبہ اسٹاپ اوور کیا۔ ان میں سے آٹھ پروازیں برطانیہ میں 1 سے 3 گھنٹے تک رکیں، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ ممکنہ طور پر برطانوی زمین پر انہیں ایندھن بھرا گیا ہو۔ اگرچہ یہ طیارے تجارتی فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹابیسز میں چھپائے گئے تھے، لیکن ڈراپ سائٹ نیوز نے فلائٹ ٹرانسپونڈر ڈیٹا کا تجزیہ کرکے ان کی حرکات کو بے نقاب کر دیا۔
یہ تمام طیارے آکسفورڈ شائر میں واقع برطانیہ کے سب سے بڑے ائیربیس RAF برائز نیٹن پر اترے۔ ان میں سے ایک اسرائیلی طیارہ غزہ کے اوپر فعال طور پر کارروائیوں میں ملوث تھا، جس میں دو مبینہ جنگی جرائم بھی شامل ہیں، جیسے کہ اکتوبر 2024ء میں بیٹ لاحیہ کے ایک رہائشی کمپلیکس پر بمباری جس میں 73 افراد شہید ہوئے تھے۔ چند روز پہلے ایکٹوِسٹ گروپ "پیسٹائین ایکشن" کے دو اراکین نے RAF برائز نیٹن ائیربیس میں گھس کر دو فوجی طیاروں کو نقصان پہنچایا۔ یہ احتجاج برطانیہ کی غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں معاونت کے خلاف تھا۔ انہوں نے دو وویجر طیاروں کو نشانہ بنایا، ان کے انجنوں میں سرخ پینٹ ڈالا، اور کروبارز سے اہم پرزوں کو توڑ دیا۔ لیبر پارٹی کے سابق لیڈر اور اب آزاد رکن پارلیمنٹ جیریمی کوربن نے ایک پارلیمانی بل پیش کیا ہے جس میں برطانیہ کے اسرائیلی جنگ میں گہرے لیکن خفیہ کردار کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: برطانیہ میں میں برطانیہ برطانیہ کی
پڑھیں:
کراچی: ’را‘ کیلئے کام کرنیوالے ملزمان ریمانڈ پر جیل بھیج دیے گئے
—فائل فوٹوکراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں بھارتی خفیہ تنظیم ’را‘ کے لیے کام کرنے کے الزام میں شاہ لطیف ٹاؤن سے گرفتار 4 ملزمان کو پیش کر دیا گیا۔
عدالت نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی۔
عدالت نے چاروں ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور کیس کے تفتیشی افسر سے آئندہ سماعت پر کیس کا چالان طلب کر لیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ تفتیشی افسر 2 جولائی کو ملزمان کو پیشرفت رپورٹ کے ساتھ دوبارہ پیش کریں
تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ گرفتار چاروں ملزمان بھارتی خفیہ ایجنسی را سے تعلق رکھتے ہیں اور اسی سے تربیت یافتہ ہیں۔
کیس کے تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزمان نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر ملکی سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے، ملزمان کے قبضے سے ہینڈ گرینیڈ برآمد ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ نے قائد آباد سے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے لیے کام کرنے والے 4 دہشت گردوں کو 25 جون کو پکڑا تھا۔
ایس ایس پی ایس آئی یو شعیب میمن نے بتایا تھا کہ کراچی کے علاقے قائد آباد سے گرفتار چاروں دہشت گرد بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ایجنٹ ہیں جو 2024ء میں دہشت گردی کی ٹریننگ کے لیے سجاول کے راستے سے بھارت بھی گئے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشت گرد بھارت میں ایک کرنل سے رابطے میں تھے، ملزمان کے موبائل فونز سے ملک دشمن مواد ملا ہے۔