---فائل فوٹو 

صوبۂ پنجاب کے شہر پاکپتن میں واقع ڈسٹرکٹ اسپتال میں 20 بچوں کی اموات پر محکمۂ صحت اور کمشنر ساہیوال نے ابتدائی رپورٹس تیار کر لیں۔

محکمۂ صحت پنجاب اور  کمشنر ساہیوال کی جانب سے تیار کی گئی ابتدائی رپورٹس کے مطابق 15 بچے نجی اسپتالوں میں حالت خراب ہونے پر جبکہ پانچ بچے غیر تربیت یافتہ دائیوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے۔

ذرائع کے مطابق رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ 15 بچے نجی اسپتال میں پیدا ہوئے مگر حالت بگڑنے پر انہیں سرکاری اسپتال لایا گیا، پانچ بچوں کی ہلاکت غیر تربیت یافتہ دائیوں اور ان کےطریقۂ  کار سے ہوئی، اسپتال لائے گئے بچوں کی مائیں بھی ان کے ساتھ نہیں تھیں۔

20 بچوں کی اموات: پاکپتن کے کئی پرائیویٹ اسپتال سیل

ہیلتھ کیئر کمیشن پنجاب نے پاکپتن کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کر کے کئی پرائیوٹ اسپتال سیل کر دیے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتال میں آکسیجن دستیاب نہ ہونے کے شواہد نہیں مل سکے۔ اسپتال میں آکسیجن کے 45 سلنڈر موجود تھے، بچوں کی آمد اور علاج کے وقت کا کلینیکل آڈٹ بھی کروایا گیا ہے۔

محکمۂ صحت پنجاب اور کمشنر ساہیوال کی جانب سے تیار کی گئی ابتدائی رپورٹس وزیرِ اعلی مریم نواز کی جمعے کو پاکپتن آمد پر پیش کی جائیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ابتدائی رپورٹس کمشنر ساہیوال اسپتال میں بچوں کی

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار