Jasarat News:
2026-06-03@00:43:01 GMT

بھارت کو امریکی جنگی ہیلی کاپٹر اپاچی رواں ماہ ملیں گے

اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نئی دہلی: ہندوستانی فوج کو امریکا سے طویل انتظار کے بعد اپاچی AH-64E حملہ آور ہیلی کاپٹروں کی پہلی کھیپ ملنے والی ہے۔ 5691 کروڑ روپے کے معاہدے کے مطابق، ‘ہوا میں چھ ٹینک’ اپاچ میں سے تین 15 جولائی کے قریب پہنچیں گے۔جنگی ہیلی کاپٹر مغربی سرحد پر فوج کی صلاحیتوں کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کریں گے۔ یہ ہیلی کاپٹر مارچ 2024 میں آنے والے تھے اور فی الحال 15 ماہ کی تاخیر کا سامنا کر رہے ہیں۔ وزارت دفاع کے حکام کے مطابق بقیہ تین میں سے دوسری کھیپ کی نومبر میں آمد متوقع ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سے ٹیلی فون پر بات چیت کے ذریعے یقین دلایا کہ ہیلی کاپٹر اس سال کے اندر ہی فراہم کر دیے جائیں گے۔ملٹری روٹری ونگ فورسز جدید خدمات کی زمینی، سمندری اور فضائی کارروائیوں میں اٹوٹ کردار ادا کرتی ہیں۔ حملہ آور ہیلی کاپٹر یا تو زمینی دستوں کو قریبی فضائی مدد فراہم کرتے ہیں یا قریبی جنگی حملوں میں بکتر بند اہداف کو تباہ کرنے کے لیے ٹینک مخالف کردار میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

وہ جاسوسی مشنوں میں ہلکے ہیلی کاپٹروں کو بھی لے سکتے ہیں یا اپنے کارگو، MEDEVAC یا دیگر مشنوں کو لے جانے والے ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹروں کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ملٹی ڈومین آپریشنز کے لیے ڈیزائن کیے گئے اٹیک ہیلی کاپٹروں کی جدید ترین کنفیگریشن مختلف قسم کے آپریشنز اور کاموں میں اہم کردار ادا کرے گی۔ Apache AH-64E کو دنیا کے جدید ترین اور مہلک ملٹی رول اٹیک ہیلی کاپٹروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

بوئنگ کی طرف سے تیار کردہ، ہیلی کاپٹر فائر پاور، چستی اور جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کرتا ہے۔McDonnell Douglas (سابقہ Hughes) AH-64 Apache ایک جڑواں انجن والا روٹری ونگ ہوائی جہاز ہے جسے ایک مستحکم، انسان سے چلنے والے فضائی ہتھیاروں کے نظام کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اپنے دو پائلٹس اور جدید ترین کمپیوٹرز کے ساتھ، اپاچی بکتر بند گاڑیوں سمیت وسیع اہداف کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ منفی موسمی حالات میں دن یا رات مشن انجام دینے کے قابل ہے۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہیلی کاپٹروں ہیلی کاپٹر

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان