data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کاکہنا ہے کہ صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت مستحکم ہے اور کوئی بھی رکن اسمبلی پارٹی چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہا، اگر کسی کو تحریک عدم اعتماد لانے کا شوق ہے تو وہ ضرور لائے، حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی۔

صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اگر بجٹ منظور نہ ہوتا تو حکومت ختم ہو جاتی اور اس کا سارا الزام خود انہی پر آتا، جس کا فائدہ مخالفین کو ہوتا، پارٹی کے اندر ہی کچھ عناصر بجٹ پیش نہ کرنے کے حق میں تھے اور بعد ازاں بجٹ نہ پاس ہونے کا شور مچانے لگے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق پارٹی کے پیٹرن انچیف (عمران خان) کو جب بیرسٹر سیف نے صورتحال پر بریفنگ دی تو انہوں نے بجٹ کی منظوری پر اطمینان کا اظہار کیا، بجٹ کی منظوری کے وقت صرف دو ارکان نے ووٹ نہیں دیا اور ان کا تعلق کس کیمپ سے ہے، سب جانتے ہیں۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کے نئے ارکان کے حلف اٹھانے کے بعد سیاسی منظرنامہ مزید واضح ہوگا، اس وقت تمام ارکان تکنیکی طور پر آزاد حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ سپریم کورٹ کے پہلے فیصلے کی قانونی حیثیت اب ختم ہو چکی ہے، وہ خود کو پی ٹی آئی کا باقاعدہ رکن سمجھتے ہیں کیونکہ کاغذات نامزدگی میں انہوں نے اپنی جماعت کا نام واضح طور پر درج کیا تھا۔

وزیراعلیٰ نے سینیٹ انتخابات سے متعلق کہا کہ 21 جولائی کے انتخابات کیلئے مشاورت کا عمل شروع کیا جائے گا،گورنر ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، وہ تو بس بے تکی باتیں کرتا رہتا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اپنے کاغذات نامزدگی کی بنیاد پر عدالت سے رجوع کریں گے تاکہ مخصوص نشستوں کے حصول کیلئے قانونی حق حاصل کیا جا سکے، ساتھ ہی انہوں نے اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے پولیس، کسٹمز اور ایکسائز کے درمیان مشترکہ چیک پوسٹس کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کو خط بھیجنے کا عندیہ دیا۔

بسکٹ اسکینڈل سے متعلق وزیراعلیٰ نے وضاحت دی کہ انہوں نے ساڑھے 11 کروڑ روپے کے بسکٹ نہیں کھائے بلکہ یہ رقم وزیراعلیٰ ہاؤس اور سیکرٹریٹ کے تقریباً 400 کلاس فور ملازمین کی کھانے پینے کی مد میں خرچ ہوئی،اگر میں نے اخراجات کیے ہیں تو میں نے ڈھائی سو ارب روپے کی بچت بھی تو کی ہے۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بیوروکریسی کو کنٹرول میں رکھنا منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے اور وہ یہ کام بخوبی سرانجام دیں گے،میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ کرپشن مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے لیکن ہم نے اسے کافی حد تک کنٹرول کر لیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ 12 سال کا نہیں بلکہ اپنے 15 ماہ کے دور کا حساب دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ صوبے کی بند صنعتوں کو دوبارہ فعال کرنے کیلئے سستی بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی غفلت پر کسی سے کوئی رعایت نہیں بلاتفریق ایکشن ہوگا، وزیر محنت سندھ
  • پیپلز پارٹی کا کل مینار پاکستان جلسہ لٹک گیا، انتظامیہ نے اجازت نہیں دی
  • میرپور جلسہ: وزیراعلیٰ مریم نواز کے بڑے اعلانات، نواز شریف کے وعدوں اور آزاد کشمیر کی ترقی کا نیا روڈ میپ پیش
  • پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا