حادثوں کا شکار گاڑیوں کی مرمت کیلئے اے آئی ٹول پر کام جاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سائنس دان ایک جدید آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) ٹول تیار کر رہے ہیں جو ٹریفک حادثات کے بعد گاڑی کو پہنچنے والے نقصان کا درست اندازہ لگانے اور ضروری مرمت کے عمل کو منظم کرنے میں مدد دے گا۔
یونیورسٹی آف پورٹس ماؤتھ کے اسکول آف کمپیوٹنگ نے ایکسیڈنٹ ریپئر گروپ ABL 1 Touch اور Innovate UK کے ساتھ اشتراک کیا ہے تاکہ ایک ایسا AI سسٹم تیار کیا جا سکے جو برطانیہ کی بڑی انشورنس کمپنیوں اور گاڑی فراہم کرنے والے اداروں کو مہیا کیا جائے گا۔
ایسوسی ایشن آف برٹش انشوررز کے مطابق، سال 2024 میں برطانیہ میں 24 لاکھ گاڑی مالکان نے انشورنس کلیم دائر کیے، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 11.
یونیورسٹی کے سینٹر فار AI اینڈ ڈیٹا سائنس سے تعلق رکھنے والے پروفیسر محمد بدر کے مطابق، نیا سسٹم انشورنس انڈسٹری کے لیے ایک “تکنیکی معیار (technical benchmark)” فراہم کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اس AI سسٹم کی تیاری میں مشین لرننگ اور کمپیوٹر ویژن کو یکجا کیا جا رہا ہے، تاکہ تجربہ کار انجینیئرز کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا جا سکے اور حادثات کے بعد مرمتی فیصلوں کو خودکار اور درست بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کیا جا
پڑھیں:
شانگلہ:چھت منہدم‘6بچے‘گاڑی کھائی میں جا گرنے پر 6مسافر گلگت میں جاںبحق
شانگلہ+ گلگت (نامہ نگار+ ایجنسیاں) شانگلہ کے علاقے رحیم آباد باسی میں کچے مکان کی چھت گر گئی جس کے نتیجے میں چھ بچے جاں بحق ہوگئے ۔ریسکیو حکام کے مطابق مکان کے ملبے تلے دب کر 6 بچے‘ کوہستان کے مقام پر گاڑی کھائی میں گرنے سے 6 مسافر جاں بحق ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 4 بچیاں اور 2 بچے شامل ہیں، جن کی عمریں 4 سے 15 سال کے درمیان تھیں، ایک بچی کو زندہ نکال لیا گیا۔ گلگت بلتستان میں سکردو سے راولپنڈی جانے والی ایک مسافر گاڑی پٹن کوہستان کے علاقے میں کھائی میں گر گئی۔اس ہولناک حادثے کے نتیجے میں گاڑی میں سوار چھ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ دوسری جانب سکردو میں ہی دیوسائی روڈ کی بندش کی وجہ سے سیکڑوں ملکی و غیر ملکی سیاح شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ سڑک کا ایک حصہ پانی کے تیز بہائو میں بہہ گیا جس کے بعد سے یہ اہم راستہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو چکا ہے۔ پورے علاقے کا رابطہ بھی منقطع ہو چکا ہے جس کی وجہ سے پھنسے ہوئے لوگوں کا اپنے پیاروں سے رابطہ کرنا ناممکن ہو گیا۔ سکردو گلگت روڈ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہونے کے سبب پٹرول کی سپلائی متاثر ہوگئی۔ ہیوی مشینری کے ذریعے راستہ کھولنے کی کوششیں جاری ہیں، قلت کے باعث کئی پیٹرول پمپس بند ہوگئے۔