دنیا کی سب سے تنگ کار کا ریکارڈ: اطالوی مکینک کا انوکھا کارنامہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اٹلی کے ایک تخلیقی مکینک اور یوٹیوبر آندرے مرازی نے موٹر گاڑیوں کی دنیا میں ایک نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 1993 کی فیاٹ پانڈا کو دنیا کی سب سے تنگ کار میں تبدیل کردیا ہے۔
مرازی کو اس غیر معمولی پروجیکٹ کو مکمل کرنے میں پورے 12 ماہ کا عرصہ لگا۔ یہ منفرد گاڑی جس کی چوڑائی صرف 50 سینٹی میٹر (تقریباً 20 انچ) ہے، مکمل طور پر چلانے کے قابل ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں کار میں 99 فیصد پرزے اصل فیاٹ پانڈا کے ہی استعمال کیے گئے ہیں۔ کار میں صرف ایک ڈرائیور کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اور اس میں صرف ایک ہیڈلائٹ نصب کی گئی ہے جو رات کے وقت ڈرائیونگ کو ممکن بناتی ہے۔
یہ کار دیکھنے میں ایسے لگتی ہے جیسے کسی جدید مصنوعی ذہانت کے ذریعے ڈیزائن کی گئی ہو، لیکن درحقیقت یہ ایک نوجوان مکینک کی محنت، لگن اور تخلیقی صلاحیتوں کا شاہکار ہے۔ مرازی کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے سے دنیا کی سب سے تنگ کار بنانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔
اس منفرد ایجاد نے نہ صرف موٹر انڈسٹری بلکہ یوٹیوب پر بھی تہلکہ مچا دیا ہے، جہاں مرازی کے چینل پر اس پروجیکٹ کی تفصیلات کو بے پناہ پذیرائی مل رہی ہے۔ کار کے ڈیزائن اور تعمیر کے مراحل کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں کس قدر محنت اور مہارت شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ کار نہ صرف ایک ریکارڈ ہے بلکہ یہ ثابت کرتا ہے کہ تخلیقی سوچ اور مستقل مزاجی سے کسی بھی عام چیز کو غیر معمولی بنا دیا جا سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز اس غیر معمولی کارنامے کو سرکاری طور پر تسلیم کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ کے وژنری اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔ ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔ رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔