کراچی(نیوز ڈیسک)پاکستان میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی فروخت کے لیے مشہور جیگوار نے اب اپنی الیکٹرک سکوٹرز کی رینج میں اضافہ کر دیا ہے۔ کمپنی نے تین نئے الیکٹرک سکوٹر ماڈلز Miso، Bolt، اور MI متعارف کروائے ہیں۔

جیگوار نے اس سے قبل روایتی موٹر سائیکلوں، جیسے کہ CD70 اور CG125، میں پٹرول انجن کی جگہ بیٹریاں لگا کر اور پچھلے پہیوں میں موٹرز فٹ کر کے الیکٹرک موٹر سائیکلوں کا تجربہ کیا تھا۔ اب، الیکٹرک سکوٹرز میں ان کا تازہ ترین اقدام شہروں میں عملی اور موثر الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے مطالبے کو اجاگر کرتا ہے۔
MS جیگوار M1 (ٹاپ-اسپیک ماڈل)

MI جیگوار کا ٹاپ ٹیر سکوٹر ہے۔ تمام ماڈلز میں، اس ماڈل میں سب سے بڑی بیٹری اور موٹر کنفیگریشن ہے۔ یہ شہری علاقوں کے لیے موزوں ہے، اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی زیادہ سے زیادہ رفتار شہری سڑکوں کے لیے کافی ہے۔

خصوصیات اور قیمت

قیمت: 198,000 روپے، بیٹری: 72V 32Ah گرافین بیٹریاں، موٹر: 1200W BLDC موٹر، وارنٹی: 24 ماہ موٹر اور 18 ماہ بیٹری، چارجنگ کا وقت: 4 گھنٹے، زیادہ سے زیادہ رفتار: 60 کلومیٹر فی گھنٹہ، ایک چارج پر رینج: 90 کلومیٹر، بریکس: فرنٹ ڈسک، ریئر ڈرم، رمز: فرنٹ 12 انچ
خصوصیات: ڈیجیٹل میٹر، الائے ویلز، USB چارجنگ پورٹ، اینٹی تھیفٹ الارم، ایل ای ڈی ہیڈلائٹس، ریموٹ اسٹارٹ

MS جیگوار بولٹ (مڈ-ٹیر آپشن)

بولٹ ان درمیانے درجے کے صارفین کو نشانہ بناتا ہے جو لاگت اور رینج کے درمیان توازن چاہتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ رفتار M1 سے 10 کلومیٹر فی گھنٹہ کم ہے، لیکن رینج M1 جیسی ہے۔ تاہم، رمز M1 کے مقابلے میں 2 انچ چھوٹے ہیں۔

اس کی قیمت 169,000 روپے رکھی گئی ہے، 60V 32Ah گرافین بیٹریاں، 1000W BLDC موٹر لگائی گئی ہے، وارنٹی: 24 ماہ موٹر اور 18 ماہ بیٹری، چارجنگ کا وقت: 7 گھنٹے
زیادہ سے زیادہ رفتار: 50 کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ ایک چارج پر 80 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، بریکس: فرنٹ ڈسک، ریئر ڈرم، ٹائر: فرنٹ 10 انچ لگائے گئے ہیں۔

خصوصیات: پارکنگ موڈ، الائے ویلز، اینٹی تھیفٹ سسٹم، USB چارجنگ پورٹ، ایل ای ڈی ہیڈلائٹس، ریموٹ اسٹارٹ

MS جیگوار میزو (انٹری-لیول ماڈل)

میزو کو ایک انٹری-لیول سکوٹر کے طور پر پیش کیا گیا ہے، 45 کلومیٹر فی گھنٹہ کی زیادہ سے زیادہ رفتار کم ہے۔ اگر 45 کلومیٹر فی گھنٹہ کی زیادہ سے زیادہ رفتار آپ کے لیے بہت کم ہے تو بولٹ یا M1 ایک بہتر آپشن ہوں گے۔

اس اسکوٹی کی قیمت 153,000 روپے مقرر کی گئی ہے، 60V 28Ah گرافین بیٹریاں، 800W BLDC موٹر ہے ، وارنٹی: 24 ماہ موٹر اور 18 ماہ بیٹری، چارجنگ کا وقت: 5-6 گھنٹے
زیادہ سے زیادہ رفتار: 45 کلومیٹر فی گھنٹہ اور ایک چارج پر 70 کلومیٹر طے کرتی ہے، بریکس: فرنٹ ڈسک، ریئر ڈرم، ٹائر فرنٹ 10 انچ ہیں۔

خصوصیات: ڈیجیٹل میٹر، ایل ای ڈی ہیڈلائٹس، USB چارجنگ پورٹ، ریموٹ اسٹارٹ۔
جیگوار کا الیکٹرک سکوٹر مارکیٹ میں داخلہ پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ای وی مارکیٹ میں مقابلے اور اختراع کو تحریک دے گا۔
مزیدپڑھیں:پاکستان میں سونا مزید سستا،فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: زیادہ سے زیادہ رفتار کلومیٹر فی گھنٹہ الیکٹرک سکوٹر ایک چارج پر کے لیے

پڑھیں:

میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا

چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔

پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگی

بی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدف

دانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔

2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ

بی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاری

دانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔

بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔

گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی

ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز

متعلقہ مضامین

  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار