پہلی بار حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ ایک ساتھ ہے، تو لوگوں کو تکلیف ہے، محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ جس طرح خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کو مار بھگایا ہے اسی طرح کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف بھی وفاق اور صوبے مل کر بھرپور کارروائی کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ محرم الحرام میں امن و امان کا کریڈٹ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جاتا ہے، ملک بھر میں سکیورٹی کے بہترین انتظامات کئے گئے ہیں۔ سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ جس طرح خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کا مار بھگایا ہے اسی طرح کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف بھی وفاق اور صوبے مل کر بھرپور کارروائی کریں گے۔
میڈیا سے گفتگو کے موقع پر صحافی نے ان سے سوال کیا کہ کیا صدر مملکت آصف علی زرداری کو اُن کے عہدے سے ہٹایا جا رہا ہے۔؟ جس پر محسن نقوی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ 2 دن مزید سیاست نہ کریں اور سوشل میڈیا کی افواہوں پر دھیان نہ دیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام سوشل میڈیا کی خبروں میں بالکل نہ جائیں، میرے خیال میں لوگوں کو تکلیف ہے کہ یہ سارے اکٹھے ہیں، تو اس لیے افواہیں پھیلائی جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلی دفعہ سیاست دان، حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ ساری اکٹھی ہے تو لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے اسی لیے وہ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں لیکن میری درخواست ہے کہ 2 دن سیاسی باتوں سے پرہیز کیا جائے۔ محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ بیانات پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے، سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیزی برداشت نہیں کی جائے گی۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک میں امن و امان برقرار رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے، فتنہ الہندوستان کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے فورسز چوکنا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے حکومتی اقدامات اور سکیورٹی اداروں کی شبانہ روز محنت سے عاشورہ پُرامن طور پر گزرے گا۔ محسن نقوی نے کہا کہ ملک بھر میں 2763 جلوس پرامن طور پر رواں دواں ہیں، سکھر میں 9 محرم الحرام کے مرکزی قدیمی جلوس میں تقریبا 10 لاکھ افراد شریک ہیں۔ جلوسوں کی مانیٹرنگ کے لیے مرکزی کنٹرول روم کے ساتھ ساتھ صوبائی سطح پر بھی کنٹرول رومز فعال ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محسن نقوی نے وفاقی وزیر نے کہا کہ
پڑھیں:
حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔
پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے، بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے، بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔
مزید :