لاہور؛ 6 لاکھ روپے ڈکیتی کا ڈراپ سین، قبرستان میں چھپائی گئی رقم بھی برآمد
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
لاہور:
تھانہ مغلپورہ کی حدود میں گزشتہ روز گن پوائنٹ پر 6 لاکھ روپے ڈکیتی کا ڈراپ سین ہوگیا، 15 پر کال کرنے والا ہی واردات کا ماسٹر مائنڈ نکلا جس پر ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے 6 لاکھ روپے کی رقم خرد برد کرنے کے لیے ڈکیتی کا جھوٹا ڈرامہ رچایا۔
ایس ایچ او محمد عرفان سخاوت ملزم وقاص پھلوں کے گودام میں کام کرتا تھا مالک نے 6 لاکھ روپے بینک میں جمع کروانے کے لیے دیے تھے، ملزم وقاص نے پلاننگ کے تحت رقم کو قبرستان میں چُھپا دیا اور 15 پر جھوٹی کال کر کے روڈ رابری کا ڈرامہ کیا۔
ایس پی سِول لائنز چوہدری اثر علی کا کہنا تھا کہ مغلپورہ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے واردات کے ملزم کو 24 گھنٹے سے پہلے گرفتار کیا۔ ملزم سے 6لاکھ نقدی رقم جو کہ قبرستان میں چھپائی تھی برآمد کرلی، ملزم وقاص پر مقدمہ درج کر کے ونگ انویسٹیگیشن کے حوالے کر دیا گیا۔
ایس پی سِول لائنز چوہدری اثر علی نے ایس ایچ او مغلپورہ اور ٹیم کے لیے تعریفی اسناد کا اعلان کیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔