یوم عاشور پر ملک بھر میں مجالس عزا، جلوس برآمد
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
فائل فوٹو
نواسہ رسول امام حسین کی کربلا میں یزیدی فوج کے ہاتھوں شہادت کا دن، یوم عاشور پر ملک بھر میں مجالس عزا، جلوس برآمد ہورہے ہیں۔
لاہور میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نثار حویلی اندرون موچی گیٹ سے برآمد ہوا، جلوس آج شام کربلا گامے شاہ پہنچ کر ختم ہوگا۔
کراچی میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس صبح 10 بجے نشتر پارک سے برآمد ہوگا۔ اور مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینیاں ایرانیان کھارادر پر ختم ہوگا۔
کوئٹہ میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس علمدار روڈ سے برآمد ہوگا۔ اس موقع پر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند جبکہ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد رہے گی۔
پشاور میں شب عاشور کے تمام جلوس اختتام پذیر ہوگئے۔ پشاور میں شب عاشور کے مجموعی طور پر 16 جلوس برآمد ہوئے۔
روہڑی میں نو محرم کا تاریخی نو ڈھال کا جلوس روایتی راستوں سے ہوتا ہوا کربلا میدان پہنچ گیا، آج ظہرین کے بعد شہدا قبرستان کے لیے روانہ ہوں گے۔ ملتان میں 11 بجے استاد شاگرد کے قدیمی تعزیوں سمیت 25 سے زائد جلوس برآمد ہوں گے۔
گوجرانوالہ میں آج مرکزی جلوس امام بارگاہ گلستان معرفت سے برآمد ہوگا۔ مٹھی میں یوم عاشورہ کا جلوس صبح دس بجے برآمد ہوگا۔
میرپور آزاد کشمیر میں مرکزی جلوس صبح 11 بجے مرکزی امام بارگاہ بیت الحزن سے برآمد ہوگا۔
یوم عاشور پر بھی سیکیورٹی کے سخت انتظاما ت کیے گئے ہیں اور کئی مقامات پر موبائل فون سروس متاثر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سے برا مد ہوگا میں یوم عاشور جلوس برا مد مرکزی جلوس
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔