بی جے پی ہندی کو مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، ایم کے اسٹالن
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
شیو سینا لیڈر نے کہا کہ ہندی کے نفاذ کے خلاف انکے موقف کا مطلب ہے کہ وہ نہ تو ہندی بولیں گے اور نہ ہی کسی کو ہندی بولنے دینگے، لیکن مہاراشٹر میں ہمارا موقف ایسا نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ تین زبانوں کی پالیسی کی مخالفت کرنے والے تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن نے شیو سینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے اور مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے کے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہونے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ایم کے اسٹالن اس پالیسی کو بی جے پی کی "ہندی مسلط کرنے" کی کوشش قرار دیتے ہیں اور اس کے خلاف طویل عرصے سے آواز اٹھا رہے ہیں۔ ممبئی میں "وائس آف مراٹھی" کے نام سے ایک ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں تین زبانوں کی پالیسی کو نافذ کرنے کے مہاراشٹر حکومت کے حکم کو واپس لینے کا جشن منایا گیا۔ ادھو اور راج ٹھاکرے دونوں نے اس ریلی میں شرکت کی اور تقریباً 19 سال بعد پہلی بار ایک ساتھ اسٹیج شیئر کیا۔ انہوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور کہا کہ اب ان کے درمیان فاصلہ ختم ہوگیا ہے۔
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کے اسٹالن طویل عرصے سے تین زبانوں کی پالیسی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس پالیسی کے تحت طلبہ کے لئے تین زبانیں سیکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ان کی مادری زبان، دوسری ہندوستانی زبان اور ایک غیر ملکی زبان۔ فی الحال تمل ناڈو میں دو زبانوں کی پالیسی (تمل اور انگریزی) نافذ ہے۔ اسٹالن نے الزام لگایا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت اس پالیسی کو بدل کر ہندی کو مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ممبئی میں ٹھاکرے برادران کی "وائس آف مراٹھی" ریلی کے بعد اسٹالن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ زبان کے حقوق کی لڑائی اب ریاستی حدود کو پار کر چکی ہے اور مہاراشٹر میں ایک تحریک کے طور پر پھیل رہی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ڈی ایم کے اور تمل ناڈو کے لوگوں نے نسل در نسل ہندی نافذ کرنے کی مخالفت کی ہے، اب یہ تحریک مہاراشٹر میں بھی ایک عوامی تحریک بن چکی ہے۔
اس دوران رکن پارلیمنٹ اور شیو سینا کے لیڈر سنجے راؤت نے کہا کہ ہفتہ کو منعقد ریلی کے بعد مہایوتی کے لیڈران بوکھلاہٹ کے شکار ہیں، اب انہیں رونا پڑے گا۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہ ریلی کے بعد پورے ملک میں ہندی کو لازمی قرار دینے کے خلاف ماحول بنا ہے۔ راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے کی ریلی کے بعد کئی ریاستوں کے لیڈران نے کہا کہ انہیں مرکز کے ہندی کو لازمی قرار دینے کے فیصلے کے خلاف لڑنے کی طاقت ملی ہے۔ ہندی کے نفاذ کے خلاف ان کے موقف کا مطلب ہے کہ وہ نہ تو ہندی بولیں گے اور نہ ہی کسی کو ہندی بولنے دیں گے، لیکن مہاراشٹر میں ہمارا موقف ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہندی بولتے ہیں، ہمارا موقف ہے کہ پرائمری اسکولوں میں ہندی کے لئے سختی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری لڑائی صرف پرائمری تعلیم میں ہندی کو مسلط کرنے کے خلاف ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: زبانوں کی پالیسی مہاراشٹر میں ریلی کے بعد نے کہا کہ تمل ناڈو انہوں نے کے خلاف ہندی کو
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔