ڈاکٹر شاہد ایم شاہد؛ مخلص طیب اور منفرد ادیب
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
ادب جب تک ادیب کی رُوح میں سرایت نہ کر جائے قارئین کے دِل و دماغ کو متاثر نہیں کر سکتا۔ بہت کم ایسے ادیب ہوتے ہیں جنہیں قدرت نے لکھنے کے فن کے ساتھ ساتھ شخصیت کا بھی ویسا ہی تحفہ عطا کیا ہوتا ہے جو نہ صرف ان کے فن بلکہ ان کی ذات کو بھی انسانیت کی عظمت اور خدمت کے چار چاند لگا دیتا ہے۔ ایسے ہی ایک منفرد لب و لہجے کے ادیب سے میری واقفیت گذشتہ کئی سالوں پہلے ان کی تحریروں کے ذریعے ہوئی اور چند سال قبل راولپنڈی میں ان سے میری پہلی بالمشافہ ملاقات ہوئی۔ تاحال اب تک ان کے ساتھ خلوص، محبت، علم، احترام اور قلم کا رشتہ قائم ہے۔
جہاں ان کی تحریروں میں نفاست اور سحرانگیزی پائی جاتی ہے۔ وہیں ان کی شخصیت بھی ان کی تحریروں کا پرتو ہے۔ وہ جس طرح اپنے علم و تجربے کی روشنی میں تحریر کو عام فہم بنا کر قارئین کی معاونت کرتے ہیں، اسی طرح اپنی عملی زندگی میں بھی اپنے اندازِ گفتگو اور درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوکر لوگوں کو علم کی روشنی سے منور کر رہے ہیں۔ آج کے اس مضمون میں ہم ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کی ادبی اور تخلیقی خدمات پر روشنی ڈالیں گے۔
ڈاکٹر شاہد ایم شاہد معروف مصنف، فلسفیانہ سوچ کے حامل، قومی سطح پر نمایاں کالم نگار، مبصر، مضمون نگار اور استاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نفیس انسان جیسی خوبیوں کے مالک ہیں۔ ان کی تحریروں میں انسانیت، سماجی بھلائی اور فلاح و بہبود کے گہرے نقوش کی جھلک پائی جاتی ہے۔ شعبۂ طب کے حوالے سے بھی ان کی تحریریں قارئین کی توجہ کا مرکز بنی ہیں۔ ادب صرف الفاظ کا کھیل نہیں ہے بلکہ یہ رُوح کی آواز، مشاہدے کی شدت اور خدمتِ خلق کی مخفی قوت کا ارتقاء بھی ہے۔ ایسے ادیب بہت کم پیدا ہوتے ہیں جو قلم کے ساتھ کردار کی بلندی پرواز بھی رکھتے ہوں۔ ڈاکٹرشاہد ایسی ہی ایک منفرد اور ہمہ جہت شخصیت ہیں جو نہ صرف اُردو ادب میں نمایاں مقام رکھتے ہیں بلکہ درس و تدریس، انسان دوستی اور سماجی شعور میں بھی اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر شاہد مسیح کا تعلق فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے ایک دیہی علاقے چک نمبر 77 رب لوہکے دیوی والا سے ہے۔ وہ 25 مارچ 1979ء کو سموئیل مسیح اور نذیراں سموئیل کے ہاں پیدا ہوئے۔ آٹھ بہن بھائیوں میں وہ سب سے بڑے ہیں، جنہوں نے زندگی کے ابتدائی چیلینجز کے باوجود تعلیمی اور ادبی دُنیا میں اپنا مقام بنایا ہے۔ اُنہوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری اسکول 77 رب سے حاصل کی جب کہ میٹرک گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول کھرڑیانوالہ فیصل آباد بورڈ سے پاس کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں انہوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے اُردو میں ماسٹرز اور بی ایڈ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ تعلیم کے ساتھ ان کی وابستگی وقت کے ساتھ ایک عظیم مشن میں ڈھل گئی ہے۔
درس و تدریس سے وابستگی: ڈاکٹر شاہد کا تدریسی سفر 2015ء میں سینٹ پال ہائی اسکول واہ کینٹ سے شروع ہوا، جہاں وہ بچوں کو صرف نصاب نہیں پڑھاتے بلکہ ان کی کردارسازی، شعور اور انسانیت سے جڑت کا سبق بھی دیتے ہیں۔ ان کا اندازِتدریس ایسا ہے جو طالب علم کے دِل و دماغ کو متاثر کرتا ہے۔
ادبی خدمات اور تحریری سفر: ڈاکٹر شاہد نے اپنے ادبی سفر کا آغاز 2008ء میں ’’روزنامہ آفتاب‘‘ (کوئٹہ/اسلام آباد) سے کیا۔ پھر رفتہ رفتہ دیگر جرائد و رسائل سے جڑ گئے۔ ماہ نامہ معالج کراچی، ستون حق لاہور اور اُردو ادب کی کئی ویب سائٹس پر ان کی تحریریں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ ’’مکالمہ‘‘ اور ’’ہم سب‘‘ پر ان کے بلاگز خاص توجہ حاصل کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں کا مرکزی محور انسانیت، فلاح عامہ، سماجی اصلاح اور شعور کی بیداری ہے۔ لیکن خصوصاً شعبہ طب سے متعلق ان کی تحریریں ذوق وشوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ وہ طبی موضوعات، پھلوں کی افادیت اور عالمی طبی ایام کو عام فہم انداز میں پیش کر کے قاری کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔
شائع شدہ کتب: موصوف کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کی اب تک پانچ کتب شائع ہوچکی ہیں۔ ان شائع شدہ کتب کے نام مندرجہ ذیل ہیں:
:1 بکھرے خواب، اجلے موتی (2019ء)
2: آؤ زندگی بچائیں (2020ء)
3: گوہرافشاں (2022ء)
4: الفاظ و افکار (2023ء)
:5 ابرگوہر (2024ء)
زیراشاعت کتب: پھلوں کی افادیت، پس پردہ، صحرا میں پھول اور نقوشِ زرنگار ہیں۔ ان کتابوں میں مختلف موضوعات پر مبنی مضامین، تجزیے، اور تحریریں شامل ہیں جو قاری کو نہ صرف علم فراہم کرتی ہیں بلکہ قومی اور بین الاقوامی سوچ پر بھی متحرک کرتی ہیں۔
ادبی اعزازات و اعترافات: ڈاکٹر شاہد کو مختلف ادبی تنظیموں کی جانب سے متعدد تعریفی خطوط، سرٹیفکیٹس اور ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں ’’آئزک ٹیلی ویژن لاہور‘‘ نے انہیں ’’بیسٹ رائٹر اینڈ کالمسٹ ایوارڈ‘‘ سے نوازا۔ مزید برآں، ’’فروغِ سخن‘‘ واہ کینٹ برانچ کی جانب سے ’’اعترافِ برملا‘‘ جیسا معزز اعزاز بھی ان کے حصے میں آیا ہے۔
راہ نمائی و متاثر کن شخصیات: ڈاکٹر شاہد کی فکری نشوونما میں کئی علمی و روحانی شخصیات کا اثر شامل ہے۔ ان مشاہیر میں پروفیسر ڈاکٹر پریا تابیتا، آصف عمران، پروفیسر جیکب پال، منظور راہی، آرتھر برکی آرتھر، پروفیسر ونسینٹ پیس عصیم، ڈاکٹر شفقت حیات، نذیر قیصر، ڈاکٹر اعجاز رازق، ڈاکٹر جاوید مہر اور دیگر کئی اہم شخصیات کے نام شامل ہیں۔ ان شخصیات کی صحبت نے ان کی تحریروں میں فکری گہرائی اور وسعت خیال پیدا کیا ہے۔
نثرنگاری کے تقاضے: ڈاکٹر شاہد کے مطابق نثرنگاری ایک باقاعدہ فن ہے جس میں مسلسل مطالعہ، مشاہدہ، تحقیق اور تربیت کی ضرورت ہے۔ مضمون، فیچر، افسانہ، اور کالم نگاری جیسے نثری فنون کا مطالعہ، تاریخی کتب سے واقفیت اور موجودہ صحافت سے رابطہ ایک نثر نگار کو بہتر بناتے ہیں۔
مسیحی نثرنگار اور قومی سطح پر پذیرائی کی کمی: ڈاکٹر شاہد کا کہنا ہے کہ مسیحی نثر نگار قومی سطح پر اس لیے نمایاں نہیں ہوپارہے کیوںکہ مطالعے میں دل چسپی کی کمی، اخبارات و جرائد سے عدم وابستگی، عملی تربیت کا فقدان، احساسِ کم تری، قومی فورمز پر شرکت سے گریز، تخلیقی تربیت کا فقدان اور نمائندہ شخصیات کی طرف سے راہ نمائی کی کمی اہم پہلوؤں کی نشان دہی کی طرف اشارہ ہے۔ یہ تمام پہلو ایک سنجیدہ فکری بحث کا تقاضا کرتے ہیں تاکہ مذہبی اقلیتی نثر نگاروں کی صلاحیتوں کو قومی دھارے میں جگہ مل سکے۔
ازدواجی سفر: ڈاکٹر شاہد کی ازدواجی زندگی کا آغاز 11 اگست 2007ء کو ہوا۔ ان کی شریک حیات صبا شاہد بھی درس و تدریس سے منسلک ہیں۔ خُدا نے انہیں تین بچے عطا کیے ہیں۔ رائن میتھیو، یشوع شاہد اورجمائمہ شاہد۔ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد علم، ادب، خدمت اور انسانیت کے ہم آہنگ امتزاج کا نام ہے۔ ان کی تحریریں نہ صرف قاری بلکہ سماج کو بھی بہتر بنانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہیں۔ آنے والے وقتوں میں وہ نہ صرف اُردو ادب بلکہ فکری اور سماجی بیداری کے میدان میں مزید قیمتی خدمات انجام دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
نوجوانی نسل کو کامیابی کے لیے تلقین: نوجوان نسل کی کام یابی کے لیے بنیادی مفروضہ محنت ہے، جو شخص محنت اور جذبہ سے بھرپور ہے۔ وہ پہاڑوں کا سینہ چیر سکتا ہے۔ فلک کی پرواز کرسکتا ہے۔ مقامی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر نام پیدا کرسکتا ہے۔ زندگی کو خوشیوں کا گہوارہ بنا سکتا ہے۔ قلم کے ذریعے محبت، امن اور بھائی چارے کی فضا پیدا کر سکتا ہے۔ وطن کا نام روشن کر سکتا ہے۔ بات صرف کام اور محنت سے عبارت ہے۔ نئی نسل جب تک محنت، ایمان داری، لگن اور شوق کا مظاہرہ نہیں کرے گی اس وقت تک اس کے لیے عظمت کا دروازہ نہیں کھولے گا۔
نئی نسل کے ادیب: عصرحاضر میں نئی نسل کے ادباء اور شعراء کو معاشرے کی زہرناکیوں کو بیان کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ہمارا معاشرہ جو بے راہ روی کی ڈگر پر گام زن ہے وہ اپنی اصل رُوح کی طرف واپس آسکے۔ ایک مرتبہ پھر سے اخلاقی اقدار پروان چڑھ سکیں۔ آداب زندگی مسائل سے بچا سکیں۔ کھوئی ہوئی ثقافت واپس آسکے۔ یقیناً ایک ادیب اس ضمن میں طبیب جیسا کردار ادا کر سکتا ہے، کیوںکہ جو اخلاقی امراض ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ انہیں ختم کرنے کے لیے جب تک رُوح پرور ادب پیش نہ کیا جائے۔ اس وقت تک اذہان و قلوب میں مثبت خیالات کے پھول نہیں کھل سکتے ہیں۔ تعلیم و تربیت قوموں کی کایا پلٹ دیتے ہیں۔ اگر مناسب وقت اور ماحول میں تبدیلی کی بانسری بجائی جائے تو لوگوں کو مسحور ہونے کا موقع ملے گا۔
اُردو زبان کی افادیت: اُردو زبان ہمارے معاشرے میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کی شرینی، تروتازگی، برتاؤ، آثاروکفیات اس قدر دل کش ہے کہ دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔ یہ زبان اپنے اندر نت نئے مکاشفے اور وسعت کے خزانے رکھتی ہے۔ اگر رُوح و قلب میں اسے پنپنے کا موقع دیا جائے اور قومی سطح پر لاگو کردی جائے۔ سارا نصاب قومی زبان میں مرتب کیا جائے تو دُنیا میں اس سے بہتر اظہار کی کوئی دوسری زبان نہیں ہے۔ انسان اپنے احساسات و جذبات کو بہتر انداز سے عوام الناس تک پہنچا سکتا ہے۔ تقریباً 6 ہزار سے زائد زبانوں میں اسے منفرد اعزاز حاصل ہے کہ یہ پیشہ ورانہ زندگی کو کس حد تک مثالی بنا سکتی ہے۔ اس سے وابستگی کا ثبوت دے کر اقوام عالم تک اسے عام کیا جا سکتا ہے۔
ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں کام یابی: حالات ہمیشہ سے مشکل رہے ہیں۔ فقط ضرورت اس بات کی ہے کہ حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے۔ کام یابی کے لیے سر توڑ کوششیں کی جائیں۔ بھوک اور پیاس سہہ کر پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت حاصل کی جائے۔ ایسا اعزاز ایک منفرد سوچ رکھ کر ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اقبال کے اس شعر سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
زندگی میں جب تک خواب نہیں دیکھے جاتے ہیں اس وقت تک تعبیر کا موسم نہیں آتا ہے۔ بڑا انسان بننے کے لیے بڑے خواب دیکھنا پڑتے ہیں۔ جب تک زندگی میں مشکلات سے لڑا نہ جائے، اس وقت تک اُمید کی کرن نظر نہیں آتی ہے۔ یہ ڈیجیٹل زمانہ ہے۔ جب تک اس دُور کی وہ تمام سکلز کو بروئے کار نہیں لایا جاتا ہے۔ اس وقت تک کام یابی حاصل نہیں کی جاسکتی ہے۔ دُنیا کے ساتھ لڑا نہیں جا سکتا ہے۔ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا نہیں جاسکتا ہے۔ دُنیا میں وہی شخص کام یاب ہے جو وقت کے ساتھ ہاتھ ملا لیتا ہے۔ وہ کسی بھی مقام پر ناکام نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ جدید تقاضوں کی روشنی میں آگے بڑھنے کا فن سیکھ لیتا ہے۔
ادیب کا بنیادی کردار: ایک ادیب معاشرے کی مجموعی صورت حال پر قلم فرسائی کر سکتا ہے۔ ان نکات کو زیربحث لاسکتا ہے جو معاشرے کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کر سکتے ہیں۔ ایک مثبت اور تعمیری سوچ کے ذریعے لوگوں کے اندر تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ انہیں ان تمام حقائق سے آگاہ کیا جاسکتا ہے جن کی وجہ سے معاشرے میں لاقانونیت ہے، بے راہ روی ہے، شرم ناک واقعات رونما ہوتے ہیں۔ اخلاقی اقدار کی کمی ہے۔ اپنی کھوئے ہوئے مقام کو حاصل کرنے کے لیے ٹھوس حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ یقیناً ایک ادیب کی کوشش سے معاشرے کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسکولز سے لے کر کالجز تک، کالجز سے لے کر یونیورسٹیز تک ایک ضابطہ اخلاق بنا دیا جائے، تاکہ طلبہ و طالبات اس ضابطہ اخلاق پر عمل پیرا ہوکر زندگی کو بہتر سے بہتر بناتے جائیں، کیوںکہ وقت زندگی کا سب سے بہترین خزانہ ہے۔ اگر ا سے ضائع کردیا جائے تو پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر شاہد ایم شاہد ان کی تحریروں ان کی تحریریں کر سکتا ہے جا سکتا ہے زندگی میں اس وقت تک کام یابی کرتے ہیں کے ساتھ کیا جا کی کمی نہیں ا کے لیے بھی ان
پڑھیں:
کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
مراد راس صاحب سابق صوبائی وزیر ہیں، لاہور سے 2 بار رکن اسمبلی رہے۔ پہلے تحریک انصاف سے تعلق تھا، انہی کے دور میں صوبائی وزارت ملی۔ اب تحریک استحکام پاکستان میں شامل ہیں۔ ان کے بارے میں عمومی تاثر یہی تھا کہ پڑھے لکھے آدمی ہیں، نام کےساتھ ڈاکٹر بھی لگتا ہے، معلوم نہیں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں یا پی ایچ ڈی۔
بہرحال ان کے حالیہ ٹوئٹ نے ہر ایک کو حیران کر دیا۔ موصوف نے ٹوئٹ کیا، ‘لاہور ان عید کی چھٹیوں میں بہت پرسکون تھا، خاص کر ٹریفک بہت کم تھی۔ یہ آؤٹ سائیڈرز ہیں جنہوں نےلاہور تباہ کیا ہے‘۔
بات سادہ ہے مگر غلط ہے، بلکہ بہت غلط ہے۔ نرم سے نرم الفاظ میں اس ٹوئٹ کو غیر ذمہ دارانہ، افسوسناک اور تکلیف دہ کہا جا سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ ٹوئٹ کرنے والا شخص پڑھا لکھا نہیں، اسےدنیا کا قطعی علم نہیں، کسی بھی بڑے بین الاقوامی شہر کا تو شاید اس نے نام بھی نہیں سنا۔ سب سےبڑھ کر یہ کہ اسے لاہور کی ہسٹری کا بھی کچھ نہیں پتا۔
یہ بھی پڑھیں: بڑے شہر نگل جاتے ہیں
خاکسار معروف معنوں میں لاہوری نہیں، آبائی شہر احمدپورشرقیہ، ضلع بہاولپور ہے۔ تاہم میں 31،32 برسوں سے لاہور میں مقیم ہوں، میرے بچے یہیں پیدا ہوئے، یہیں پر پلے بڑھے ہیں، الحمدللہ۔ میں کوئی 10، 12 برسوں سےہر عید لاہور ہی میں کرتا ہوں۔ اپنے آپ کو لاہوری تصور کرتا ہوں، اس لیے کہ اس شہر نے مجھے بے پناہ محبت، عزت دی۔ جو تھوڑی بہت پہچان ہے، وہ بھی اسی شہر کی مرہون منت ہے۔ لاہور کی سب سے خوبصورت بات یہاں کے مکین یعنی لاہوری ہیں۔ جتنی اوپن نیس، کشادگی اور کھلا ڈلا پن میں نے لاہوریوں میں دیکھا، اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ باہر سے آنے والوں کو یہ باہیں پھیلا کر قبول کرتے اور اپنے دل میں سمو لیتےہیں۔
ایسے میں بہت افسوسناک امر ہے کہ ڈاکٹر مراد راس جیسے لوگ جو گجرات میں پیدا ہونے کی وجہ سے گجراتی شناخت بھی رکھتے ہیں، پرانےلاہوریے نہیں ، اپنے ایک نفرت انگیز ، متعصبانہ ٹوئٹ کی وجہ سے پورے لاہور شہر کے مکینوں کی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ مراد راس کا یہ ٹوئٹ لاہور اور لاہوریوں کی ترجمانی نہیں کرتا۔
مزید پڑھیے: نریندر مودی صحافیوں سے کیوں خوفزدہ ہیں؟
چلیں بات شروع ہوئی ہے تو ویسے ہی اس کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں کہ لاہور کو وہ لاہور بنایا کس نے ہے جس پر اس کی دنیا بھر میں دھوم ہے۔ سب سےبڑا سہرا تو مغلوں کے سر جاتا ہے جو سمرقند اور کابل سے آئے تھے۔ مقبرہ جہانگیر، کامران کی بارہ دری، شالیمار باغ، مسجد وزیر خان وغیرہ کس نے بنائے؟باہر سے آنے والے مغلوں نے ۔انارکلی بازار کا نام کس کے نام پر ہے؟ ایک ایسی لڑکی کے نام پر جو اس شہر کی اصل باشندہ بھی نہیں تھی۔ لاہور کا مال روڈ، جی پی او، ہائی کورٹ، شہر کا سب سے حسین سرسبز علاقہ ماڈل ٹاؤن، یہ سب ’باہر والوں‘ نے بنائے۔ یہ سب باہر سے آئے اوراس شہر کو اپنے خون پسینے سے تعمیر کر گئے۔ لاہور کے کھانوں، کلچر میں بہت بڑا حصہ کشمیریوں کا ہے۔ یہ کشمیر سے لاہور اور امرتسر میں آ کر آباد ہوئے۔ تقسیم کے بعد امرتسری(امبرسری) کشمیری مسلمان بھی لاہور آ گئے اور آج امبرسریوں کےکھابے ملک بھر میں مشہور ہیں۔
اب ذرا دنیا کو دیکھیں۔
یورپ کے سب سے اہم شہر لندن کا میئر آج صادق خان ہے، پاکستانی نژاد، جنوبی لندن کے ایک بس ڈرائیور کا بیٹا۔ لندن والے اس پر فخر کرتے ہیں کیونکہ ان کا شہر ہمیشہ سے باہر سے آنے والوں کا گھر رہا ہے۔ رومن آئے، نارمن آئے، فرانسیسی آئے، یہودی آئے، ہندوستانی آئے، پاکستانی آئے، ہر آنے والے نے اس شہر میں کچھ جوڑا۔ اگر لندن نے کسی موڑ پر یہ سوچ لیا ہوتا کہ ’باہر والوں نے ہمیں خراب کر دیا‘ تو آج وہ ایک گمنام صوبائی قصبہ ہوتا، دنیا کا مالیاتی مرکز نہیں۔
نیویارک کو دنیا سٹی آف امیگرنٹس کہتی ہے۔ اب تو اس کا میئر ظہران ممدانی بھی ایک امیگرنٹ ہی ہے۔ وہاں ایلس آئی لینڈ پر ایک میوزیم ہے جو ان لاکھوں تارکین وطن کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جو یورپ، ایشیا، افریقہ سے جہاز پر سوار ہو کر آئے اور امریکا کو امریکا بنایا۔ انہیں شرمندگی نہیں دلائی گئی، ان کی قربانی کو سنہری حروف میں لکھا گیا۔ نیویارک کی وہ عمارتیں جنہیں آج دنیا دیکھتی ہے، ان کی ایک ایک اینٹ کے پیچھے کسی ’باہر والے‘ کا پسینہ ہے۔
دبئی کی مثال اور بھی چونکا دینے والی ہے۔ وہاں اصل اماراتی شہری آبادی کا صرف 10 سے 15 فیصد ہیں۔ 85 سے 90 فیصد لوگ ’باہر والے‘ ہیں، پاکستانی، ہندوستانی، فلپینی، بنگلہ دیشی، یورپی۔ دبئی نے انہیں دھتکارا نہیں، خوش آمدید کہا۔ نتیجہ سامنے ہے، ریت کے ایک ٹیلے پر کھڑا ہونے والا شہر آج دنیا کا سب سے چمکدار شہر ہے۔ اگر عرب امارات کے بادشاہوں نے بھی یہ سوچا ہوتا کہ باہر والے ہمیں خراب کریں گے تو دبئی آج وہ ترقی یافتہ دبئی نہ ہوتا۔
واپس لاہور آتے ہیں۔
آج لاہور میں جو کاروبار ہے، جو محنت ہے، جو تعمیر ہے، اس میں گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، جھنگ، ڈیرہ غازی خان سے آنے والوں کا حصہ اتنا ہی ہے جتنا کسی نسل در نسل لاہوری کا۔ وہ مزدور جو ڈیفنس کی کوٹھیاں بناتا ہے، وہ ریڑھی والا جو گلبرگ کو پھل فروخت کرتا ہے، وہ درزی جو اقبال ٹاؤن، ٹاؤن شپ میں سلائی کرتا ہے، یہ سب ’باہر والے‘ ہیں۔ انہیں نکال دیں تو لاہور کی رونق ایک دن میں ختم ہو جائے۔
ایک بات اور۔ لاہور کا ٹریفک اور آلودگی عید پر اس لیے کم ہوئی کہ ’باہر والے‘ اپنے گھروں کو گئے۔ یعنی اصل مسئلہ آنے والوں کا نہیں، شہر کی ناقص منصوبہ بندی کا ہے۔ وہ منصوبہ بندی جو انہی ’اندر والے‘ حکمرانوں کی دین ہے جو دہائیوں سے لاہور پر راج کرتے آئے ہیں۔
آخری بات، مراد راس صاحب خود گجرات میں پیدا ہوئے، تعلیم امریکا میں حاصل کی، ان کی امریکی شہریت کی بات بھی چلتی رہی ہے۔ لاہور کی نشست سے سیاست کی۔ تو پھر وہ ’اندر والے‘ کیسے اور گجرات سے آنے والا مزدور ’باہر والا‘ کیسے؟
مزید پڑھیں: کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی
شہر اینٹوں سے نہیں، لوگوں سے بنتے ہیں۔ اور لوگ ہر طرف سے آتے ہیں۔ یہی کسی شہر کی اصل دولت ہے۔ درحقیقت اہل دانش کہتےہیں کہ ترقی ہی وہ گلو یا گوند ہے جو باہر سےلوگوں کو، سرمایے کو اور اہل ہنر کو کھینچتی ہے۔ ترقی دراصل وہ گریوٹی ہے جو اپنی کشش اور قوت سے باہروالوں کو اندر لاتی ہے اور ان کی وجہ سے وہ شہر جگمگاتا ہے۔ جس شہر میں باہر سے لوگ جانا بند کر جائیں، وہ کسی کمھلائے ہوئے پھول کی طرح ہوجاتا ہے۔ پھر اسے زوال سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کاش مراد راس جیسے لوگ قوت بینا رکھتے، دل کی آنکھیں ہی کھول کر جینا سیکھ لیتے۔ تب ایسی دل آزاری والے ٹوئٹ ہرگز نہ لکھے جاتے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
آؤٹ سائیڈرز احمد پور شرقیہ لاہور لاہور کس نے بنایا لاہور کے اندر والے باہر والے لندن کا میئر مراد راس نیویارک کا میئر