اپنے ایک بیان میں گیڈعون سعر کا کہنا تھا کہ گولان ہائٹس پر اسرائیل کی عملداری گزشتہ 40 سال سے ہے۔ اسلئے مستقبل میں گولان کا علاقہ کسی بھی امن معاہدے کے تحت اسرائیل کا حصہ ہی رہے گا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل کے وزیر خارجہ "گیڈعون سعر" نے کہا کہ ہم لبنان اور شام کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔ تاہم شام کے ساتھ تعلقات بحال ہونے کی صورت میں بھی گولان ہائٹس پر اپنا قبضہ برقرار رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مواقع پیدا ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اسرائیل، شام اور لبنان کے ساتھ امن تعلقات کی بحال کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ تاہم ان تعلقات میں وسعت کے ساتھ ہم اپنے بنیادی مفادات اور سلامتی کو بھی برقرار رکھیں گے۔ گیڈعون سعر نے کہا کہ گولان ہائٹس پر اسرائیل کی عملداری گزشتہ 40 سال سے ہے۔ اس لئے مستقبل میں گولان کا علاقہ کسی بھی امن معاہدے کے تحت اسرائیل کا حصہ ہی رہے گا۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اسرائیل ایک جانب تو مسلمان و عرب ریاستوں کو ابراہیم معاہدے کے ذریعے مذاکرات کی ٹیبل پر لاتا ہے اور امن کی بات کرتا ہے، تاہم دوسری جانب یہی اسرائیل غزہ کی چھوٹی سی پٹی میں 56 ہزار سے زائد نہتے فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے۔ اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی منظم نسل کشی رُکنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ ایسے میں اگر عرب و مسلمان ریاستیں، اسرائیل سے کوئی خیر کی توقع رکھتے ہیں تو یہ اندھوں کے شہر میں آئینے بیچنے کے مترادف ہے۔   

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے ساتھ

پڑھیں:

طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ  کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم