data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بانی پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت جوظلم ہورہا ہے اس سے بہتر ہے قید میں ساری زندگی کاٹ لوں۔ان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ بانی نے کہا ہے کہ ان لوگوں سے بات کی جائے جن کے پاس اصل طاقت ہے اور جن سے امریکی صدر ٹرمپ بھی بات کررہے ہیں۔اسلام آباد کی مقامی عدالت کے باہر گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ حکومت میں ڈرے ہوئے اور خوفزدہ لوگ بیٹھے ہیں، بانی نے کہا ہے کہ ان لوگوں سے بات کی جائے جن کے پاس اصل طاقت ہے اور جن سے امریکی صدر ٹرمپ بھی بات کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے دو باتیں کہی ہیں، ایک تو یہ کہ پاکستان میں جو اس وقت ظلم ہورہا ہے اس سے بہتر ہے کہ میں قید میں ساری زندگی کاٹ لوں، کیونکہ عمران خان سے کہا جاتا ہے کہ صرف اپنی ذات کی بات کرو، اپنی رہائی کی بات کرو، آپ چپ رہنا سیاست جیسے چل رہی ہے اس میں مداخلت نہیں کرو گے، 9 مئی کو قبول کرو اس پر معافی مانگو اور 9 مئی میں سی سی ٹی وی فوٹیج کی بات مت کرو تو رہا کردیں گے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ اس ظلم کے نظام کے خلاف محرم کے بعد تحریک کا آغاز کریں، جب عمران خان تحریک کی بات کرتے ہیں تو حکومت مذاکرات کی بات شروع کردیتی ہے، مگر ان سے کیا بات کی جائے، جیسے کہ عمران خان نے کہا ہے۔علیمہ خان نے کہا کہ جج عمران خان کے کیس ہی نہیں سن رہے، ہر حربہ استعمال ہورہا ہے کہ عمران خان کے کیسز نہ سنے جائیں،ان کو پتا ہے کہ یہ کیسز اتنے احمقانہ ہیں کہ کوئی کیس سننے کی جرات ہی نہیں کررہا، ان کو پتہ ہے کہ ان کیسز میں کچھ نہیں ہے اور اگر انہوں نے عمران خان کے خلاف فیصلہ دیا تو یہ ایک جرم ہوگا جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔علیمہ خان نے کہا کہ بانی کو خیبرپختونخوا حکومت نے نہیں بلکہ پورے سسٹم نے مائنس کردیا ہے، عمران خان نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم اس مشکل وقت میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں، مجھے یقین ہے پاکستان کے اندر اچھی تبدیلی آئے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ ہورہا ہے کی بات

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر