غزل
تجھے میں سوچ کے مصرع تراش لیتا ہوں
بڑے بڑوں سے بھی اچھا تراش لیتا ہوں
یہ فیض عشقِ علی سے مجھے نصیب ہوا
سفر کٹھن بھی ہو رستہ تراش لیتا ہوں
اسی لیے تو ہمیشہ یہ ٹوٹ جاتی ہے
میں زندگی کو زیادہ تراش لیتا ہوں
نہیں رہا وہ میسر تو دل جلانے کو
میں اپنے دوست کا لہجہ تراش لیتا ہوں
تو میرے ساتھ نہیں ہوگا سچ تو ہے لیکن
یہ جان کر بھی میں نقشہ تراش لیتا ہوں
میں تجھ سا کوئی تراشوں یہ میرے بس میں نہیں
کبھی کبھی ترا سایہ تراش لیتا ہوں
بگاڑ دیتا ہوں اس کو میں اپنے ہاتھوں سے
کبھی جو تیرے علاوہ تراش لیتا ہوں
مریضِ عشق ہوں، صحرانوردی کام مرا
نہ ہو بھی صحرا تو صحرا تراش لیتا ہوں
(عبدالرحیم دائم۔ ساہیوال)
غزل
لمحہ لمحہ، بکھر گیا تھا میں
وقت تھا اور گزر گیا تھا میں
زندگی دھوپ میں گزاری تھی
شام ہونے پہ، ڈر گیا تھا میں
مجھ کو پہچان ہی نہیں پایا
بعد مدت کے گھر گیا تھا میں
موت ہنس کر گلے لگا لیتا
روزِ محشر سے ڈر گیا تھا میں
مرتے مرتے تجھی سے مانگا ہے
کب کسی اور در گیا تھا میں
عزتِ نفس بیچ کھائی تھی
اس ندامت سے مر گیا تھا میں
(ندیم بریدہؔ۔سرگودھا )
غزل
غالب کے غیب سے نہ گلِ آفتاب سے
مصرع ہوا ہے تیرے امڈتے شباب سے
ماں کے اٹھے ہیں ہاتھ مرے واسطے حضور
تقدیر حل نکالے گی خود ہی کتاب سے
یہ آگ ہے تو خوب جلائے گی شہر کو
شبنم اٹھا کے لایا ہوں تازہ گلاب سے
آنسو گرا تو اس پہ اثر کچھ نہیں ہوا
مٹتی نہیں ہے تیرگی ٹوٹے شہاب سے
دو چار کہکشاؤں پہ قدرت نہیں تری
اک راستہ تو ہو گا پرے اس حجاب سے
طوفان آ کے جا بھی چکا گھر بھی لٹ گیا
خطرہ نہیں ہے کوئی مجھے سیلِ آب سے
عالم خدا کا وہم و گماں سے بہت ہے دور
کیوں ڈھونڈتے پھرے ہو تم اس کو نصاب سے
اشرف کہا ہے مجھ کو تو کاتب ہیں کس لیے
ادنیٰ کریں گے جرح بھل کس حساب سے
(رضوان مقیم۔فیصل آباد )
غزل
یہ دل کا روگ، غمِ دو جہاں ضروری ہے
غزل کی فکر میں کیا کیا یہاں ضروری ہے
برا ہی کیا ہے اگر ہوں میں بدگماں تم سے
کہ ایسے دور میں ایسا گماں ضروری ہے
مگر نہیں یہ محبت کا قاعدہ ہرگز
میں جانتا ہوں کہ فکر زیاں ضروری ہے
کوئی سنے نہ سنے، بات حق پرستی کی
جہاں ہو غیر ضروری وہاں ضروری ہے
سوائے دل نہیں جائے غمِ بتاں کوئی
ہو ایک ساتھ مکین و مکاں ضروری ہے
تمہارے غم کی ردا ہے تو غم نہیں کوئی
ہمارے سر پہ یہ اک آسماں ضروری ہے
(نوید اقبال۔ رسالپور نوشہرہ)
غزل
یاد جب بھی تمہاری آتی ہے
میری صورت سنور سی جاتی ہے
روز اس کو مناتا ہوں لیکن
زندگی روز روٹھ جاتی ہے
روشنی اب نصیب ہے میرا
شاعری راستہ دکھاتی ہے
سوچتا ہوں اکیلا بیٹھ کے میں
میری ماں غم کہاں چھپاتی ہے؟
اس کی یادوں کے گیت گاتا ہوں
اور تنہائی ساتھ گاتی ہے
پیرہن میں اتار آیا ہوں
پھر وہ خوشبو کہاں سے آتی ہے
سوکھ جاتا ہے پھول ڈالی پر
مجھ سے ملنے کہاں وہ آتی ہے
ہم محبت میں ہارے لوگوں کو
وقت سے پہلے موت آتی ہے
بھوکے بیٹے جو دیکھے یاد آیا
شاعری گھر کہاں چلاتی ہے
(عون شاہ۔ ساہیوال)
غزل
پوچھ مت کس قدر فریبی ہے
اس کی ہر اک نظر فریبی ہے
جھوٹ سے اس کو سخت نفرت ہے
فطرتاً ، خود مگر فریبی ہے
دیکھ تو کتنا خوبصورت ہے
خوبصورت ہے پر فریبی ہے
پیار کرتا ہوں میں اسے یارو
کیا ہوا، وہ اگر فریبی ہے
نفسا نفسی کے دور میں دانش
اب تو ہر اک بشر فریبی ہے
(دانش راج۔ پاک پتن)
غزل
خواب تھے خواہشیں تھیں چند تھے ارمان میاں
کھو گیا ہے مرا سب قیمتی سامان میاں
بانٹ سکتا نہیں دکھ درد اگر اوروں کے
پھر تو اِک بوجھ ہے دھرتی پہ یہ انسان میاں
تم محبت میں اداکاری بھی کر لیتے ہو
سو تمہیں ہوگا نہیں کوئی بھی نقصان میاں
میں تو اک درد کا تاجر ہوں چلا جاؤں گا
پھر وفاؤں کا نظر آئے گا بحران میاں
اُن کی آنکھوں سے سبھی رند پِیے جاتے ہیں
اور ساقی پہ لگے گا سبھی بہتان میاں
جب نظر آئیں انا کے تجھے منفی پہلو
تب سمجھنا ترا کامل ہُوا ایمان میاں
میں لڑکپن میں جو سنجیدہ غزل کہتا ہوں
یہ بھی حالات کی تلخی کا ہے احسان میاں
اِس میںگھٹ گھٹ کے کسی روز تُو مر جائے گا
توڑنا ہوگا تجھے سوچ کا زندان میاں
رو کے سجدے میں گری ایک طوائف لوگو
جب کیا حفظ جواں بیٹی نے قرآن میاں
ہم وہ گُل ہیں جو کیاری میں پڑے رہتے ہیں
اپنی قسمت میں نہیں کوئی بھی گلدان میاں
(علی رضا رضی۔ عارف والا)
غزل
شہر کا موسم ایسا بدلا
ہر اک شخص کا چہرہ بدلا
رخ تو بدلتے دیکھے ہی تھے
پر اس نے تو شجرہ بدلا
سب کچھ بدلا بدلا سا ہے
جب سے تیرا لہجہ بدلا
جس دن اس نے مجھ کو دیکھا
ہر دن اور ہر لمحہ بدلا
کون آیا ہے گھر پر میرے
میرے گھر کا نقشہ بدلا
چال ہے اس کی بدلی بدلی
جونہی اس کا عہدہ بدلا
تیرے ہجر کا دکھ ایسا تھا
لگتا ہوں نا بدلا بدلا
وقت نے کروٹ بدلی عاقلؔ
میں بھی رفتہ رفتہ بدلا
( عدنان عاقل۔ ساہیوال)
غزل
سرودِ باد میں تحلیل انجمن اُس کی
مرے ضمیر پہ موقوف ہے تھکن اُس کی
صدا کا روپ بدلتی ہوئی صداؤں میں
پکارتی ہے مجھے آج بھی لگن اُس کی
وہ بزمِ ہجر کی شمعیں بجھا گیا چپ سے
صبا میں گم رہی کچھ دیر تک کرن اُس کی
سرابِ وصل میں رکھی تھی کچھ کرن اُس نے
مری نگاہ نے دیکھی فقط پھبن اُس کی
کسی صدف میں چھپے آنسوؤں کی صورت ہے
مرے شعور پہ اتری ہوئی تھکن اُس کی
میں زخم زخم تمنّا ہوں اے سخن پرداز
مرے نصاب میں محفوظ ہے چھبن اُس کی
احدؔ کی ریت پہ تحریر اک نمو کی لَے
مرے سخن میں مکمل سنے گی دھن اُس کی
(زبیر احد۔فیصل اآباد )
غزل
تو نہ کہتا تھا کہ سب خط ہیں سنبھالے میں نے
راکھ کے ڈھیر سے کیا خواب نکالے میں نے
مجھ سے دکھ بانٹنے کی یار جسارت کر لے
تجھ سے مانگے نہیں، صدیوں کے نوالے میں نے
راستے کرب کے تھے، لوگ بھی پتھر جیسے
پھر بھی امید کے جگنو کئی پالے میں نے
بھول جاؤں نہ کہیں یار سراپا تیرا
ایک کاغذ پہ ترے نقش بنا لے میں نے
دل کی دیوار گری ٹوٹ گئے خواب ترے
اشک بہنے دیے بس لفظ نکالے میں نے
کتنے خوابوں کے دریچوں کو ہے بند کیا
یاد کی دھوپ سے ہیں خواب ہٹالے میں نے
تیری آنکھوں میں چھپے درد کو پہچان لیا
کھول کے رات کی تنہائی کے تالے میں نے
کچھ مقامات پہ خاموش رہا، ضبط کیا
کچھ مقامات پہ لکھے ہیں مقالے میں نے
جا تجھے بخش دیا خون سروہی ؔاپنا
کر دیا آج تجھے رب کے حوالے میں نے
(خالدسروہی ۔جدہ، سعودی عرب)
غزل
اپنی اس ہار سے نفرت ہے مجھے
پیٹھ پہ وار سے نفرت ہے مجھے
جو فسانے کو ادھورا چھوڑے
ایسے کردار سے نفرت ہے مجھے
اے مرے زیست کے مغموم شجر
تیرے ہر بار سے نفرت ہے مجھے
میں کہ کرتا ہوں محبّت گل سے
اس لیے خار سے نفرت ہے مجھے
بخت میں اس کی شفا کوئی نہیں
دلِ بیمار سے نفرت ہے مجھے
کون کہتا ہے کہ منصور ہوں میں؟
رسن و دار سے نفرت ہے مجھے
وہ کہ ہوتا ہے عدو سے بڑھ کر
دوست غدّار سے نفرت ہے مجھے
(محبوب الرّحمان۔ سینے،میاندم،س)
سنڈے میگزین کے شاعری کے صفحے پر اشاعت کے لیے آپ اپنا کلام، اپنے شہر کے نام اورتصویر کے ساتھ ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کرسکتے ہیں۔ موزوں اور معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔
انچارج صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘
روزنامہ ایکسپریس، 5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، کراچی
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سے نفرت ہے مجھے گیا تھا میں ضروری ہے فریبی ہے ہوں میں ا تی ہے
پڑھیں:
جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
اسلام ٹائمز: اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ تحریر: سید محمد
کسی پرانے جوئے خانے کی ایک کہاوت مشہور ہے "تم اس وقت تک حقیقتاً نہیں پھنستے جب تک تمہیں یہ احساس نہ ہو جائے کہ باہر نکلنے کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔" مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی بساط پر اسرائیل یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ ظاہری بیانیے کو ایک طرف رکھیں تو ایک واضح حقیقت سامنے آتی ہے: اسرائیل ایران کی ایٹمی صلاحیت یا میزائل پروگرام سے کم اور امریکی انخلا کے محض امکان سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ یہ خوف کوئی معمولی تشویش نہیں بلکہ ایک ایسی وحشت ہے، جو اسرائیلی حکمتِ عملی کے ہر پہلو کو تشکیل دے رہی ہے۔
اسرائیل ہر اس راستے کو سبوتاژ کرتا دکھائی دیتا ہے، جو واشنگٹن کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکے۔ یہاں جنگ کا مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اتحادی کو اس حد تک اندر کھینچ لینا ہے کہ وہ خود جنگ کا قیدی بن جائے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں شریک رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس حد تک شریک ہو جائے کہ بعد میں الگ نہ ہوسکے۔ یہ حکمتِ عملی ایک نفسیاتی اور سیاسی جال کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ابتدا ہی سے اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف دھکیلا اور ٹرمپ اپنی طاقت اور امریکی بالادستی کے تصور میں اس قدر گرفتار رہا کہ اسے واپسی کا راستہ دکھائی نہ دیا۔
ایران اور مزاحمتی محاذ کی استقامت نے امریکی عسکری برتری کے اُس طلسم کو چیلنج کر دیا، جسے دہائیوں سے ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا۔ اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع عسکری اتحاد بھی خطے میں پیدا ہونے والی نئی بے یقینی کو روک نہ سکے، جبکہ امریکی دفاعی چھتری اور اڈوں کی محدودیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگئی۔ اسی میدان میں اہداف کا مسلسل سکڑنا بھی صورتِ حال کا مظہر تھا۔ ایران میں رجیم تبدیلی جیسے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا معرکہ بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے، دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے جیسے محدود اہداف تک سمٹ آیا، جبکہ امریکی دھمکیاں بھی بتدریج ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئیں۔
اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ دوسری طرف سفارتی اخراج کا راستہ تھا، مگر یہاں بھی مسئلہ یہ تھا کہ اسرائیل جس صف بندی کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے، وہی امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے لیے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی تھی۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستیں اپنی معیشتوں، توانائی کی تنصیبات اور سرمایہ کاری کے مراکز کے باعث براہِ راست خطرات سے دوچار ہوسکتی تھیں۔ اسی لیے وہ ایسے راستوں کی تلاش میں تھیں، جو ضروری نہیں کہ اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ آج اگر امریکہ اپنے مفادات کے لیے واپس چلا جاتا ہے تو اسرائیل تنہا رہ جاتا ہے، لیکن اگر پورا امریکی وقار، افواج اور سیاسی سرمایہ اس جنگ سے جڑ جائے تو واشنگٹن کے لیے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
روایتی جنگوں کا مقصد دشمن کو شکست دینا ہوتا ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، جس کا نشانہ دشمن نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا اتحادی یعنی امریکہ ہے۔ لبنان کا محاذ بھی اب صرف میدانِ جنگ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سفارتی عمل کو متاثر کرنے کا ایک مؤثر آلہ بن چکا ہے۔ جب بھی مذاکرات یا کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، لبنان دوبارہ مرکزِ توجہ بن جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ یا سست کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ جاتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ خطے کے اہم معاملات اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کے بغیر بھی طے ہوسکتے ہیں اور یہی وہ تاثر ہے، جسے اسرائیل ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔
بعض ریاستوں کے لیے مستقل بحران خود ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ جاری کشیدگی اتحادیوں کو متحد اور سکیورٹی خدشات کو زندہ رکھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے فوری امن یا جامع سیاسی تصفیہ شاید اتنا مفید نہیں جتنا ایک ایسا کنٹرولڈ بحران جو مسلسل مغربی حمایت اور علاقائی توجہ کو اس کی طرف کھینچے رکھے۔ یہ تمام عوامل امریکہ کو ایک غیر معمولی اسٹریٹجک دباؤ کے دائرے میں دھکیل چکے ہیں۔ ایک طرف ایران کی ایسی مزاحمت ہے، جو کسی حتمی فوجی حل کو ناممکن بناتی ہے، دوسری طرف اسرائیل کی خواہش ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر بحران میں جکڑا رہے، جبکہ تیسری طرف علاقائی اتحادی کشیدگی میں کمی چاہیتے ہیں تاکہ ان کی معیشتیں اور داخلی استحکام محفوظ رہ سکیں۔ نتیجتاً امریکہ ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا ہے، جہاں آگے بڑھنا بھی خطرناک ہے، پیچھے ہٹنا بھی مشکل اور جمود بھی اتحادیوں کے اعتماد کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ بعض اوقات ان کی سب سے بڑی کامیابی مخالف اتحاد کے اندر موجود تضادات، کمزوریوں اور متصادم مفادات کو بے نقاب کرنے اور اس کے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک ڈھانچے میں دراڑیں نمایاں کرنے میں ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقت سے نارملائزیشن فریم ورک کو شدید دھچکا پہنچنے کے باوجود، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن جیسے ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور واضح سیاسی صف بندی کے لیے دباؤ بڑھانا بھی قابلِ توجہ ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک سے ایک ایسے بحران میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ عسکری، معاشی اور سیاسی نتائج کا بوجھ بھی انہیں خود اٹھانا پڑ سکتا ہے۔