اسمبلی میں کرسیاں مارنا اور مائیک اکھاڑنا احتجاج نہیں، قانون کو راستہ بنانا چاہیے، اعظم نذیر تارڑ WhatsAppFacebookTwitter 0 7 July, 2025 سب نیوز

اسلام آباد:وفاقی وزیر قانون اور انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ احتجاج کرنا اپوزیشن کا حق ہے، لیکن اسمبلی میں کرسیاں مارنا اور مائیک اکھاڑنا احتجاج نہیں، اس کے لیے قانون کو اپنا راستہ بنانا چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق سول سروس اکیڈمی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اسپیکر کے اختیارات لا محدود ہیں، وہ ہاؤس کے سربراہ ہیں، ان کے پاس اختیارات وہی ہیں جو گھر کے بڑے کے پاس ہوتے ہیں۔

وزیر قانون نے کہا کہ اسمبلی کے ممبران نے حلف لیا ہے کہ وہ آئین کے مطابق اپنے فرائض اور کار ہائے منصبی انجام دیں گے، اگر آپ اس حلف کی پامالی کرتے ہیں تو اسپیکر کے پاس اختیارات ہیں کہ کسی بھی ممبر کو معطل کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے 26 ارکان کے ڈی سیٹ کرنے کے بارے میں چیف الیکشن کمشنر کو ریفرنس بھیجا جا سکتا ہے، اسپیکر اس کارروائی کا آغاز کرنے سے پہلے اپنا سربراہی رول کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں گے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بد قسمتی سے ملک میں چند سالوں سے نفرت میں اضافہ ہورہا آئین کا آرٹیکل 36 بھی سب کو یک جا کرتا ہے، ہمیں مل کر معاشرے کی تعمیر کرنی ہے تاکہ ہمارا سسٹم درست ہو ۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ ہم سب پاکستانی ہں، پاکستان کو ہم روز دیکھتے ہیں، ہمیں بھٹہ مزدور کے گندگی میں کھلتے بچوں کو دیکھنا ہے، اس اکیڈمی سے طلبہ نے ایک مشن لے کر نکلنا ہے، پاکستان کو اس وقت محبتیں بانٹنے والوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 36 کا مقصد سب کو یکجا کرنا ہے، اس ملک کو ہم سب ریل کی طرح مل کر چلاتے ہیں، بدقسمتی سے ہماری گاڑی دوڑ میں پیچھے رہ گئی، ہمیں اس سسٹم کو درست کرنا ہے، ہمیں مل کر معاشرے کی تعمیر کے لیے سوچنا ہے۔

اعظم نذیر نے کہا کہ چند سالوں میں معاشرے میں نفرت میں اضافہ ہوا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر رمیش کمار نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں اقلیتوں کے بجائے نان مسلم کا لفظ ہے، سرکاری نوکریوں میں کوٹہ 5 فیصد ہے اور مقابلے کے امتحان کی عمر بڑھا کر ستائیس سال کرنی چاہیے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایف بی آر کا مصنوعی ذہانت پر مبنی کسٹمز کلیئرنس اور رسک مینجمنٹ سسٹم متعارف ایف بی آر کا مصنوعی ذہانت پر مبنی کسٹمز کلیئرنس اور رسک مینجمنٹ سسٹم متعارف الزامات بے بنیاد ہیں، پی ٹی آئی کے کئی رہنما بھی چیف الیکشن کمشنر سے ملتے رہے، اعلامیہ چوہدری کاشف نواز رندھاوا کا خواب پورا ،چاروں بیٹے حرم نبوی میں قرآن کی تعلیم حاصل کریں گے ایران پر حملے، امریکا اور اسرائیل کا احتساب ہونا چاہئے: ایرانی وزیر خارجہ سانحہ لیاری: سندھ حکومت کا لواحقین کو فی کس 10 لاکھ روپے دینے کا اعلان پاکستانی خاتون وکیل شازیہ کاسی یواین میں خواتین اوربچوں کے حقوق کے ادارے کی مرکزی صدر مقرر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اعظم نذیر تارڑ

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن