Jasarat News:
2026-07-24@16:03:17 GMT

حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا ملن پہلی بار؟؟

اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر آصف زرداری کو منصب صدارت سے ہٹانے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پہلی بار حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اکٹھی ہے تو کچھ لوگوں کو تکلیف ہے، سوشل میڈیا کی خبروں پر دھیان نہ دیں، سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ پہلی بار اکھٹی ہے یہ کیا کہہ دیا وزیر داخلہ نے، کیا انہوں نے تسلیم کر لیا کہ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل نہ تھی موجودہ حکومت میں شامل دونوں جماعتوں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی تو یہ کہتے نہیں تھکتے کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کا انتخاب تھے اور بہت غلط انتخاب تھے، 2018 کے الیکشن میں فوج نے انہیں دھاندلی کے ذریعے جتوایا تھا، اب محسن نقوی صاحب کا یہ کہنا کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا ملن پہلی مرتبہ ہوا ہے کئی پہلوؤں سے محل نظر ہے، پہلی بات تو یہ کہ وزیر داخلہ کو ’’حکومت‘‘ کے بجائے لفظ ’’سیاست‘‘ دان استعمال کرنا چاہیے تھا حکومت تو پاکستان میں سدا سے اسٹیبلشمنٹ کی ہی تھی اور جانے کب تک رہے گی، کبھی کبھار حکومت میں سیاست دانوں کو بھی شامل کر لیا جاتا ہے اس دفعہ البتہ ایک جوہری فرق واقع ہوا ہے اور وہ یہ کہ پہلے وزرائے اعظم صرف ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے تھے، موجودہ وزیراعظم باقاعدہ ڈنڈوت کیے ہوئے ہیں اور مسلسل اسی حالت میں رہتے ہیں، جب سے وہ وزیراعظم بنے ہیں ان تمام کاموں کا کریڈٹ جنہیں وہ اچھا سمجھتے ہیں خود کو بعد میں پہلے آرمی چیف کو دیتے ہیں، ان کے بیانات اور تقریروں کا ریکارڈ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے، معلوم ہوتا ہے علامہ اقبال کا یہ شعر صرف وہی ٹھیک طرح سمجھ پائے ہیں۔
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
حتیٰ کہ اب ان کے وزیر بھی ان کے نقش قدم پر چل نکلے ہیں بلکہ شاید ان سے بھی آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں، وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران – اسرائیل جنگ بندی کے حوالے سے کہا کہ اس کے پیچھے بھی ’’وردی‘‘ ہے، سیز فائر پر ہر پاکستانی کو فخر کرنا چاہیے، لیجیے شہباز شریف تو ملکی امور کا سہرا فوج کے سر باندھتے ہیں ان کے وزیر با تدبیر نے بین الاقوامی امور کا کریڈٹ بھی پاک فوج کو دے دیا، ظاہر ہے پاکستانیوں کو سیز فائر کرانے پر فخر ہوگا تو پاک فوج پر ہی ہوگا، امریکی فوج کی تو ویسے بھی جنگ شروع یا بند کرانے کی ہمت نہیں ہو سکتی البتہ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے مشکل کھڑی ہو گئی ہے کیونکہ وہ اس جنگ بندی کا مکمل کریڈٹ خود لیتے ہیں کسی اور خصوصاً امریکی فوج کا تو نام بھی نہیں لیتے پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف پرانے سیاستدان ہیں انہیں پتا ہے وزارت پکی رکھنے کے لیے کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں، انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اسٹیبلشمنٹ کا اہم کردار ہوتا ہے، جو اب باضابطہ طور پر تسلیم شدہ ہے، اس کی سب سے بڑی مثال تو امریکا خود ہے، اندرونی حالات، معیشت سمیت تمام شعبوں میں ان کا کردار ہے، دنیا بھر میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو کب اور کہاں باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا ہے ہمیں تو اس کا پتا نہیں ہاں پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ ممالک میں اس کی مداخلت سے سب آشنا ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی تنخواہوں میں بہت بھاری اضافے پر ملک کے مختلف حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی تھی، حیران کن طور پر اس میں سب سے بلند آواز وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی تھی، صرف اپوزیشن کی جانب سے احتجاج ہوتا تو حسب معمول اس پر کان نہ دھرے جاتے لیکن جب اس صریح نا انصافی پر حکومتی حلقوں کی جانب سے بھی شور اٹھا تو مجبوراً وزیراعظم نے اس مسئلے کو حل کرنے کے حوالے سے رپورٹ طلب کر لی ہے، ممکن ہے خواجہ آصف کو سردار ایاز صادق سے کوئی پرانا حساب چکتا کرنا ہو اس لیے وہ پھر بھی چپ نہ ہوئے، ان کے چپ نہ ہونے پر اسپیکر نے وزیراعظم شہباز شریف کے نام خط لکھ دیا، خط میں تنخواہ میں اضافے سے متعلق وزیر دفاع کی تنقید کو بلا جواز قرار دیا اور اضافے کو وزیراعظم کی صوابدید پر چھوڑ دیا اور کہا کہ شہباز شریف چاہیں گے تو وہ اضافی تنخواہ لیں گے ورنہ پرانی تنخواہ ہی لیتے رہیں گے، پاکستان کے شدید ترین مالی بحران کے باوجود انہوں نے واضح کر دیا کہ وہ اس اضافہ شدہ تنخواہ کو چھوڑنا نہیں چاہتے، بس اتنی علاج رکھی کہ وزیراعظم شہباز شریف کی صوابدید کا ذکر کر دیا، حالانکہ تنخواہ کو ڈیڑھ لاکھ سے ساڑھے 21 لاکھ روپے تک بڑھانے میں وزیراعظم اور کابینہ کا کوئی کردار ہی نہیں، قومی اسمبلی کی بزنس ہاؤس فنانس کمیٹی کے اجلاس میں جس کی صدارت خود اسپیکر ایاز صادق کر رہے تھے یہ غیر منصفانہ، ظالمانہ بھاری اضافہ منظور کیا گیا تھا، کچھ عرصے بعد معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے گا وزیر دفاع خواجہ آصف سے بھی معاملات طے ہو جائیں گے اور یہ بھاری اضافہ کبھی واپس نہیں لیا جائے گا، واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے جس کے اسپیکر سردار ایاز صادق ہیں نئے بجٹ میں پاکستانی عوام کے لیے کم از کم تنخواہ 37 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی ہے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ تو کم از کم تنخواہ ہے ستم ظریفی تو یہی ہے کہ حکومت کی مقرر کردہ ماہانہ تنخواہ بھی لوگوں کو ادا نہیں کی جا رہی، پاکستان کے لاکھوں نوجوان 20 ہزار ، 25 ہزار اور 30 ہزار روپے ماہانہ تنخواہوں پر کام کرنے کے لیے مجبور ہیں اور یہ ان پڑھ افراد نہیں، پڑھے لکھے لوگوں کی بات ہو رہی ہے، یہ اسمبلی، اس کے ارکان اور اسپیکر عوام کو کم از کم ماہانہ تنخواہ دلانے کے لیے کچھ نہیں کرتے اور اپنی تنخواہ ظالمانہ حد تک بڑھانے میں انہیں شرم نہیں آتی، انہوں نے 37 ہزار روپے تنخواہ منظور کی ہے کیا ان میں سے کوئی اس رقم سے ایک چھوٹے گھرانے کا ایک ماہ کا بجٹ بناکر دکھا سکتا ہے۔
مالی بحران کا یہ حال ہے کہ آئی ایم ایف کے آگے ناک رگڑنی پڑ رہی ہے لیکن اخراجات کم کرنے کے بجائے فراخ دلی کے ساتھ داد و دہش کا سلسلہ جاری ہے۔ وفاقی وزارت خزانہ نے وزارت کے افسران و ملازمین کو مالی سال -25 2024 کے اختتام تک 29 کروڑ 30 لاکھ 29 ہزار روپے اعزازی تنخواہوں کی مد میں ادا کیے دستاویزات کے مطابق گریڈ 17 تا 22 کے 450 سے زائد افسران کو گزشتہ مالی سال میں بنیادی تنخواہ کے 150 فی صد ایگزیکٹو الاؤنس کی مد میں 26 کروڑ 18 لاکھ 17 ہزار روپے، گریڈ 20 تا 22 کے 20 سے زائد افسران کو ٹرانسپورٹ مونا ٹائزیشن الائونس کی مد میں تین چار بنیادی تنخواہوں کے مساوی 29 کروڑ 30 لاکھ 29 ہزار روپے دیے گئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اور اسٹیبلشمنٹ اسٹیبلشمنٹ کا وزیر داخلہ شہباز شریف وزیر دفاع ایاز صادق ہزار روپے انہوں نے کرنے کے کے لیے سے بھی

پڑھیں:

قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے

قدیم چینی انجینیئرنگ کا ایک نادر شاہکار ایک بار پھر دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ قدیم چینی انجینیئر کی جانب سے بنایا گیا ایسا پزل ’تالا‘ جس نے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا ہے، 2 ہزار سال سے زیادہ پرانی شاندار انجینیئرنگ کا یہ شاہکار ایسا ہے کہ اسے کھولنے کے لیے محض تالا ہی نہیں ذہانت اور بڑا دماغ بھی چاہیے۔

چینی پزل تالا اپنی پیچیدہ ساخت اور غیر معمولی سیکیورٹی نظام کی بدولت سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے، جہاں صارفین اس کی انجینیئرنگ اور ڈیزائن کو حیرت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

This ancient Chinese lock is to hard to unlock pic.twitter.com/8xcgM5BR94

— TrendSphere360 (@BraveSoulsSpace) July 23, 2026

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں پیتل کی رنگت والے قدیم تالے کو ایک خاص شکل کی چابی کے ذریعے کھولتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں واضح ہے کہ صرف درست چابی ہونا کافی نہیں بلکہ تالے کو کھولنے کے لیے مخصوص ترتیب، مہارت اور میکانیکی سمجھ اور بڑا دماغ بھی ضروری ہے۔

صرف چابی نہیں، درست طریقہ بھی ضروری

یہ تالاعام تالوں کی طرح صرف چابی گھمانے سے نہیں کھلتا بلکہ ایک مکمل پزل کی صورت میں تیار کیا گیا ہے۔ اسے کھولنے کے لیے ‘T’ یا ‘L’ نما چابی کو مخصوص سلاٹس میں داخل کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بشام میں چینی انجینیئرز پر حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، وزیر داخلہ نے تفصیلات سامنے رکھ دیں

پھر اسے پوشیدہ راستوں کے اندر مختلف زاویوں سے سلائیڈ اور موڑا جاتا ہے۔ تمام مراحل درست ترتیب سے مکمل ہونے کے بعد ہی تالے کا شیکل آزاد ہوتا ہے اورتالاکھلتا ہے۔ یہی پیچیدہ طریقہ کار اسے روایتی تالوں سے منفرد بناتا ہے اور اس کی سیکیورٹی کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔

قدیم انجینیئرنگ کا منفرد نمونہ

تاریخی حوالوں کے مطابق ان تالوں کو ‘کمپلیکس پزل لاکس’، ‘یوکیوو لاکس’، ‘چائنیز پیڈ لاکس’ یا ‘میز لاکس’ بھی کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دو ہزار سال سے زیادہ پرانی چینی انجینیئرنگ اور دھات سازی کی اعلیٰ مثالیں ہیں۔

عام پن ٹمبلر یا مغربی تالوں کے برعکس ان میں پوشیدہ کی ہولز، سلائیڈنگ بارز، اسپرنگز، ملٹی اسٹیج رکاوٹیں اور پیچیدہ اندرونی راستے بنائے جاتے تھے، جنہیں عبور کرنے کے لیے نہ صرف درست چابی بلکہ اس کے استعمال کی مکمل ترتیب جاننا بھی ضروری ہوتا تھا۔

مختلف اقسام اور منفرد چابیاں

ماہرین نے ان قدیم تالوں کو کئی اقسام میں تقسیم کیا ہے، جن میں اضافی رکاوٹ والے تالے، میز لاکس، دو حصوں والے تالے اور پوشیدہ کی ہول والے تالے شامل ہیں۔

ان تالوں کی چابیاں بھی عام چابیوں سے مختلف ہوتی تھیں۔ انہیں مخصوص موڑ، کٹاؤ، نوچوں اور منفرد ساخت کے ساتھ تیار کیا جاتا تھا تاکہ وہ صرف متعلقہ تالے کے اندرونی میکانزم کے مطابق ہی حرکت کر سکیں۔

مزید پڑھیں:فِلنگ اور امپلانٹس کا دور ختم ہونے والا ہے؟ سائنسدان انسانی دانت دوبارہ اگانے کے نزدیک

بعض ڈیزائن قدیم ثقافتی اثرات، خصوصاً بڑے لوہے کے تالوں پر ممکنہ عربی اثرات سے متاثر تھے، تاہم چینی کاریگروں نے انہیں پزل نما انداز دے کر منفرد شناخت فراہم کی۔

صرف سیکیورٹی نہیں، ذہنی تربیت بھی

یہ تالے قیمتی اشیا، صندوقوں، دروازوں اور دیگر سامان کی حفاظت کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ ان کی پیچیدگی کی وجہ سے اگر کسی شخص کے پاس چابی بھی موجود ہوتی تو بھی وہ درست طریقہ کار جانے بغیرتالا نہیں کھول سکتا تھا، جس سے چوری کے امکانات کم ہو جاتے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تالوں کا مقصد صرف حفاظت فراہم کرنا نہیں تھا بلکہ یہ میکانیکی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور تخلیقی ذہن کی تربیت کا ذریعہ بھی تھے، بالکل اسی طرح جیسے آج کے جدید پزل باکسز۔

تحریری ریکارڈ کم، دلچسپی زیادہ

تاریخی ماہرین کے مطابق ان میں سے بیشتر تالے عام لوہار تیار کرتے تھے اور اس دور میں انہیں کسی مخصوص برانڈ یا نام سے منسوب نہیں کیا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے ان کی تیاری کے طریقہ کار اور تکنیکی تفصیلات پر تحریری مواد نہایت محدود ہے، جس نے آج بھی انہیں ایک پراسرار حیثیت دے رکھی ہے۔

جدید انجینیئرنگ کے لیے بھی دلچسپی کا باعث

سائنسی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ ان قدیم تالوں کا ڈھانچہ موجودہ دور کے بیشتر تالوں سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ اگرچہ ان کی ساخت نسبتاً سادہ دکھائی دیتی ہے، لیکن ان کے اندر موجود میکانزم آج کے انجینیئرز کے لیے بھی تحقیق اور دلچسپی کا موضوع ہے۔

مزید پڑھیں:ہواوے کا نئی اسمارٹ فون چِپ لانچ کرنے کا اعلان، اینویڈیا اور ایپل سے مقابلہ مزید تیز

ماہرین کے مطابق یہ قدیم چینی پزل لاکس اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ صنعتی دور سے کئی صدیوں پہلے بھی انجینیئرنگ، دھات سازی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں غیر معمولی مہارت موجود تھی۔

قدیم چین میں ایسے پزل تالے نہ صرف قیمتی سامان کی حفاظت کے لیے استعمال ہوتے تھے بلکہ انہیں ذہانت، مہارت اور فنی تخلیق کا مظہر بھی سمجھا جاتا تھا۔

آج سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ہزاروں سال پرانی انجینیئرنگ بھی جدید دور کے انسان کو حیران اور متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ان تالوں کی پیچیدہ ساخت اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ قدیم تہذیبوں کی سائنسی اور فنی مہارت اپنے وقت سے کہیں آگے تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایکس پیٹل چینی تالا سماجی رابطے شاندار انجینیئرنگ۔ صرف چابی قدیم انجینیئرنگ منفرد نمونہ ویب سائٹ ویڈیو

متعلقہ مضامین

  • سیاروں، ستاروں اور چاند کی حدیں دھندلا گئیں، ماہرین نے پہلی بار نظام شمسی سے باہر چاند دریافت کر لیا
  • قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے
  • سرکاری ملازمتوں کا شاندار موقع! ماہانہ تنخواہ 1 لاکھ سے 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہوگی؟
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف