Jasarat News:
2026-06-03@06:43:25 GMT

حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا ملن پہلی بار؟؟

اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر آصف زرداری کو منصب صدارت سے ہٹانے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پہلی بار حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اکٹھی ہے تو کچھ لوگوں کو تکلیف ہے، سوشل میڈیا کی خبروں پر دھیان نہ دیں، سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ پہلی بار اکھٹی ہے یہ کیا کہہ دیا وزیر داخلہ نے، کیا انہوں نے تسلیم کر لیا کہ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل نہ تھی موجودہ حکومت میں شامل دونوں جماعتوں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی تو یہ کہتے نہیں تھکتے کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کا انتخاب تھے اور بہت غلط انتخاب تھے، 2018 کے الیکشن میں فوج نے انہیں دھاندلی کے ذریعے جتوایا تھا، اب محسن نقوی صاحب کا یہ کہنا کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا ملن پہلی مرتبہ ہوا ہے کئی پہلوؤں سے محل نظر ہے، پہلی بات تو یہ کہ وزیر داخلہ کو ’’حکومت‘‘ کے بجائے لفظ ’’سیاست‘‘ دان استعمال کرنا چاہیے تھا حکومت تو پاکستان میں سدا سے اسٹیبلشمنٹ کی ہی تھی اور جانے کب تک رہے گی، کبھی کبھار حکومت میں سیاست دانوں کو بھی شامل کر لیا جاتا ہے اس دفعہ البتہ ایک جوہری فرق واقع ہوا ہے اور وہ یہ کہ پہلے وزرائے اعظم صرف ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے تھے، موجودہ وزیراعظم باقاعدہ ڈنڈوت کیے ہوئے ہیں اور مسلسل اسی حالت میں رہتے ہیں، جب سے وہ وزیراعظم بنے ہیں ان تمام کاموں کا کریڈٹ جنہیں وہ اچھا سمجھتے ہیں خود کو بعد میں پہلے آرمی چیف کو دیتے ہیں، ان کے بیانات اور تقریروں کا ریکارڈ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے، معلوم ہوتا ہے علامہ اقبال کا یہ شعر صرف وہی ٹھیک طرح سمجھ پائے ہیں۔
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
حتیٰ کہ اب ان کے وزیر بھی ان کے نقش قدم پر چل نکلے ہیں بلکہ شاید ان سے بھی آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں، وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران – اسرائیل جنگ بندی کے حوالے سے کہا کہ اس کے پیچھے بھی ’’وردی‘‘ ہے، سیز فائر پر ہر پاکستانی کو فخر کرنا چاہیے، لیجیے شہباز شریف تو ملکی امور کا سہرا فوج کے سر باندھتے ہیں ان کے وزیر با تدبیر نے بین الاقوامی امور کا کریڈٹ بھی پاک فوج کو دے دیا، ظاہر ہے پاکستانیوں کو سیز فائر کرانے پر فخر ہوگا تو پاک فوج پر ہی ہوگا، امریکی فوج کی تو ویسے بھی جنگ شروع یا بند کرانے کی ہمت نہیں ہو سکتی البتہ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے مشکل کھڑی ہو گئی ہے کیونکہ وہ اس جنگ بندی کا مکمل کریڈٹ خود لیتے ہیں کسی اور خصوصاً امریکی فوج کا تو نام بھی نہیں لیتے پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف پرانے سیاستدان ہیں انہیں پتا ہے وزارت پکی رکھنے کے لیے کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں، انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اسٹیبلشمنٹ کا اہم کردار ہوتا ہے، جو اب باضابطہ طور پر تسلیم شدہ ہے، اس کی سب سے بڑی مثال تو امریکا خود ہے، اندرونی حالات، معیشت سمیت تمام شعبوں میں ان کا کردار ہے، دنیا بھر میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو کب اور کہاں باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا ہے ہمیں تو اس کا پتا نہیں ہاں پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ ممالک میں اس کی مداخلت سے سب آشنا ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی تنخواہوں میں بہت بھاری اضافے پر ملک کے مختلف حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی تھی، حیران کن طور پر اس میں سب سے بلند آواز وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی تھی، صرف اپوزیشن کی جانب سے احتجاج ہوتا تو حسب معمول اس پر کان نہ دھرے جاتے لیکن جب اس صریح نا انصافی پر حکومتی حلقوں کی جانب سے بھی شور اٹھا تو مجبوراً وزیراعظم نے اس مسئلے کو حل کرنے کے حوالے سے رپورٹ طلب کر لی ہے، ممکن ہے خواجہ آصف کو سردار ایاز صادق سے کوئی پرانا حساب چکتا کرنا ہو اس لیے وہ پھر بھی چپ نہ ہوئے، ان کے چپ نہ ہونے پر اسپیکر نے وزیراعظم شہباز شریف کے نام خط لکھ دیا، خط میں تنخواہ میں اضافے سے متعلق وزیر دفاع کی تنقید کو بلا جواز قرار دیا اور اضافے کو وزیراعظم کی صوابدید پر چھوڑ دیا اور کہا کہ شہباز شریف چاہیں گے تو وہ اضافی تنخواہ لیں گے ورنہ پرانی تنخواہ ہی لیتے رہیں گے، پاکستان کے شدید ترین مالی بحران کے باوجود انہوں نے واضح کر دیا کہ وہ اس اضافہ شدہ تنخواہ کو چھوڑنا نہیں چاہتے، بس اتنی علاج رکھی کہ وزیراعظم شہباز شریف کی صوابدید کا ذکر کر دیا، حالانکہ تنخواہ کو ڈیڑھ لاکھ سے ساڑھے 21 لاکھ روپے تک بڑھانے میں وزیراعظم اور کابینہ کا کوئی کردار ہی نہیں، قومی اسمبلی کی بزنس ہاؤس فنانس کمیٹی کے اجلاس میں جس کی صدارت خود اسپیکر ایاز صادق کر رہے تھے یہ غیر منصفانہ، ظالمانہ بھاری اضافہ منظور کیا گیا تھا، کچھ عرصے بعد معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے گا وزیر دفاع خواجہ آصف سے بھی معاملات طے ہو جائیں گے اور یہ بھاری اضافہ کبھی واپس نہیں لیا جائے گا، واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے جس کے اسپیکر سردار ایاز صادق ہیں نئے بجٹ میں پاکستانی عوام کے لیے کم از کم تنخواہ 37 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی ہے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ تو کم از کم تنخواہ ہے ستم ظریفی تو یہی ہے کہ حکومت کی مقرر کردہ ماہانہ تنخواہ بھی لوگوں کو ادا نہیں کی جا رہی، پاکستان کے لاکھوں نوجوان 20 ہزار ، 25 ہزار اور 30 ہزار روپے ماہانہ تنخواہوں پر کام کرنے کے لیے مجبور ہیں اور یہ ان پڑھ افراد نہیں، پڑھے لکھے لوگوں کی بات ہو رہی ہے، یہ اسمبلی، اس کے ارکان اور اسپیکر عوام کو کم از کم ماہانہ تنخواہ دلانے کے لیے کچھ نہیں کرتے اور اپنی تنخواہ ظالمانہ حد تک بڑھانے میں انہیں شرم نہیں آتی، انہوں نے 37 ہزار روپے تنخواہ منظور کی ہے کیا ان میں سے کوئی اس رقم سے ایک چھوٹے گھرانے کا ایک ماہ کا بجٹ بناکر دکھا سکتا ہے۔
مالی بحران کا یہ حال ہے کہ آئی ایم ایف کے آگے ناک رگڑنی پڑ رہی ہے لیکن اخراجات کم کرنے کے بجائے فراخ دلی کے ساتھ داد و دہش کا سلسلہ جاری ہے۔ وفاقی وزارت خزانہ نے وزارت کے افسران و ملازمین کو مالی سال -25 2024 کے اختتام تک 29 کروڑ 30 لاکھ 29 ہزار روپے اعزازی تنخواہوں کی مد میں ادا کیے دستاویزات کے مطابق گریڈ 17 تا 22 کے 450 سے زائد افسران کو گزشتہ مالی سال میں بنیادی تنخواہ کے 150 فی صد ایگزیکٹو الاؤنس کی مد میں 26 کروڑ 18 لاکھ 17 ہزار روپے، گریڈ 20 تا 22 کے 20 سے زائد افسران کو ٹرانسپورٹ مونا ٹائزیشن الائونس کی مد میں تین چار بنیادی تنخواہوں کے مساوی 29 کروڑ 30 لاکھ 29 ہزار روپے دیے گئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اور اسٹیبلشمنٹ اسٹیبلشمنٹ کا وزیر داخلہ شہباز شریف وزیر دفاع ایاز صادق ہزار روپے انہوں نے کرنے کے کے لیے سے بھی

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ