متنازع پیکا ایکٹ کیس، حکومت نے عدالت میں جواب جمع کرادیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ میں متنازع پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 کے خلاف کیس میں حکومت کی جانب سے عدالت میں تحریری جواب جمع کروا
دیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس انعام امین منہاس نے متنازع پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 کو کالعدم قرار دینے کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔درخواستیں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، اینکرز، اور اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔حکومت کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تحریری جواب جمع کرایا گیا جبکہ سرکاری وکیل نے بتایا کہ درخواست میں صوبائی حکومتوں کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔PFUJ کے وکیل یاسر امان نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے 2016 کے پیکا ایکٹ اور 2025 کے ترمیمی ایکٹ کے درمیان فرق واضح کیا اور بتایا کہ ترمیمی ایکٹ میں سوشل میڈیا کمپلینٹ کونسل کو بھی شامل کیا گیا ہے۔جسٹس انعام امین منہاس نے وکیل کو ہدایت کی کہ دلائل کے ساتھ ساتھ کوڈ آف کنڈکٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کی بھی وضاحت کریں تاکہ کیس کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔بعد ازاں عدالت نے سماعت ملتوی کر دی۔ آئندہ سماعت پر بھی PFUJ کے وکیل یاسر امان دلائل جاری رکھیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائیکورٹ ترمیمی ایکٹ
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔