ہائیکورٹس میں مستقل چیف جسٹسز کی تعیناتی، نوٹیفکیشن جاری کردیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
وفاقی وزارت قانون نے جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں کی روشنی میں 4 ہائیکورٹس میں مستقل چیف جسٹسز کی تعیناتی کے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیے۔
یہ بھی پڑھیں: 5 ماہ کے تنازعات کے بعد جسٹس سرفراز ڈوگر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بن گئے
جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائیکورٹ، جسٹس عتیق شاہ پشاور ہائیکورٹ، جسٹس جنید غفار سندھ ہائیکورٹ اور جسٹس روزی خان کو بلوچستان ہائیکورٹ کا مستقل چیف جسٹس تعینات کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: جوڈیشل کمیشن نے چاروں ہائیکورٹس کے مستقل چیف جسٹس صاحبان کے ناموں کی منظوری دے دی
جوڈیشل کمیشن نے یکم جولائی کو ان تقرریوں کی منظوری دی تھی۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی حلف برداری منگل 8 جولائی کو ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چیف جسٹس حضرات کا نوٹیفیکیشن ہائیکورٹ چیف جسٹس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ہائیکورٹ چیف جسٹس مستقل چیف جسٹس
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔