جون 2025 میں ترسیلات زر 3.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، مالی سال کے دوران 26.6 فیصد اضافہ ریکارڈ۔

یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف کا ہدف عبور، اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 5 ارب ڈالر کا تاریخی اضافہ

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق جون 2025 کے دوران بیرون ملک مقیم کارکنوں کی جانب سے 3.4 ارب ڈالر کی ترسیلات زر پاکستان آئیں۔

رپورٹ کے مطابق جون میں ترسیلات زر میں سالانہ بنیاد پر 7.

9 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مالی سال 2024-25 کے دوران مجموعی طور پر 38.3 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ گزشتہ مالی سال 2023-24 میں یہ رقم 30.3 ارب ڈالر تھی۔

اس طرح رواں مالی سال میں ترسیلات زر میں 26.6 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی حکومت کے قرضے ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں انکشاف

جون 2025 کے دوران سب سے زیادہ ترسیلات زر سعودی عرب سے 823.2 ملین ڈالر موصول ہوئیں، اس کے بعد متحدہ عرب امارات سے 717.2 ملین ڈالر، برطانیہ سے 537.6 ملین ڈالر اور امریکا سے 281.2 ملین ڈالر موصول ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ترسیلات زر ملین ڈالر ارب ڈالر مالی سال کے دوران

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ