data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستانی معیشت کے لیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ایک خوش آئند خبر سامنے آئی ہے، جس نے معاشی محاذ پر مثبت امکانات روشن کر دیے ہیں۔

مالی سال 2025 کے دوران وطن واپس بھیجی جانے والی ترسیلات زر نے تمام سابقہ ریکارڈز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 38.

3 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح عبور کر لی ہے۔

گزشتہ مالی سال 2024 میں ترسیلات زر کا حجم 30.3 ارب ڈالر تھا، جس سے موازنہ کیا جائے تو رواں برس ان میں 8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، یعنی 26.6 فیصد کی زبردست بہتری دیکھی گئی ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کو زرمبادلہ کے ذخائر، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور معاشی دباؤ جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔

اس کارکردگی میں سب سے اہم کردار سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے ادا کیا، جہاں سے 9.3 ارب ڈالر کی ترسیلات وطن واپس بھجوائی گئیں۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات کا نمبر رہا، جہاں سے 7.8 ارب ڈالر، جبکہ برطانیہ اور یورپی یونین کے مختلف ممالک سے بالترتیب 5.9 اور 4.5 ارب ڈالر کی رقم پاکستان منتقل کی گئی۔

امریکا میں مقیم پاکستانیوں نے بھی 3.7 ارب ڈالر کی ترسیلات بھجوا کر اپنی وابستگی کا بھرپور ثبوت دیا۔

ان مثبت نتائج کے پیچھے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے متعارف کرائے گئے کئی اہم اصلاحاتی اقدامات کارفرما رہے۔ بالخصوص پاکستان ریمی ٹینس انیشیٹوو (PRI) پروگرام نے ترسیلات کے عمل کو محفوظ، تیز تر اور آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس پروگرام کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ترسیلات پر فیس میں رعایت، ڈیجیٹل بینکاری نظام کی اپ گریڈیشن اور بیداری مہمات نے غیر رسمی ذرائع سے رقم بھیجنے کے رجحان کو کم کر کے قانونی ذرائع کی طرف راغب کیا۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں بینکاری نظام کی جدید کاری، کرنسی کی شرح مبادلہ میں بہتری اور ترسیلات پر دی جانے والی سہولیات نے سمندر پار پاکستانیوں کا اعتماد بحال کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پہلے کی نسبت زیادہ محفوظ، منظم اور تیز ذرائع سے اپنی محنت کی کمائی وطن بھیجنے لگے ہیں۔

صرف جون 2025 کے مہینے میں ہی 3.4 ارب ڈالر کی ترسیلات وطن واپس آئی ہیں، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 7.9 فیصد زیادہ ہیں۔ اس ماہ بھی سعودی عرب سے سب سے زیادہ یعنی 823.2 ملین ڈالر موصول ہوئے، جبکہ متحدہ عرب امارات سے 717.2 ملین ڈالر، برطانیہ سے 537.6 ملین ڈالر اور امریکہ سے 281.2 ملین ڈالر بھیجے گئے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مقیم پاکستانیوں ارب ڈالر کی ملین ڈالر

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے
  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے قائم مقام وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • سونا مزید سستا، فی تولہ قیمت میں کتنی بڑی کمی ریکارڈ ہوئی؟
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی