کہوٹہ: سرکاری اسپتال میں خواتین کی نامناسب ویڈیوز بنانے کا مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
فائل فوٹو
کہوٹہ کے سرکاری اسپتال میں خواتین کی نامناسب ویڈیوز بنائے جانے پر نیشنل سائبر کرائم ایجنسی نے مقدمہ درج کر لیا۔
نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے حکام کے مطابق نامناسب ویڈیوز بنانے کا واقعہ ایکسرے ڈیپارٹمنٹ میں پیش آیا۔ اس حوالے سے 2 ملازمین کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان سے موبائل فون اور قابلِ اعتراض مواد برآمد کر لیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس معاملے پر اسپتال کی انتظامیہ کا مؤقف بھی سامنے آیا ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق گرفتار ملازمین کو معطل کر کے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، یہ انکوائری کمیٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کی سربراہی میں کام کرے گی۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق انکوائری کمیٹی 7 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔