بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے آئندہ عام انتخابات کے سلسلے میں تمام تیاریاں دسمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ انتخابات آئندہ رمضان سے قبل منعقد کیے جا سکتے ہیں۔

چیف ایڈوائزر کے پریس سیکریٹری شفیق الاسلام نے میڈیا بریفنگ میں یہ معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے کہاکہ آج قریباً 2 گھنٹے طویل اجلاس میں انتخابی تیاریوں سے متعلق امور پر غور کیا گیا، اور چیف ایڈوائزر نے کئی اہم ہدایات جاری کیں۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: دسمبر میں الیکشن کا مطالبہ کرنے والی ’بی این پی‘ کے زیراہتمام ریلی کا انعقاد

شفیق الاسلام کے مطابق پہلی ہدایت امن و امان سے متعلق تھی، جس میں کہا گیا کہ تمام سیکیورٹی سے وابستہ تیاریاں دسمبر سے قبل مکمل ہونی چاہییں۔

انہوں نے بتایا کہ محمد یونس نے پولیس، بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) اور کوسٹ گارڈ سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں میں 17 ہزار نئے اہلکاروں کی بھرتی اور تربیت کا عمل انتخابات سے پہلے مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور آئندہ مہینوں میں قانون کے سخت نفاذ پر بھی زور دیا۔

شفیق الاسلام کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے کہاکہ اگر انتخابی عملے کی کمی ہو تو فوراً بھرتی کا آغاز کریں اور ان کی مناسب تربیت یقینی بنائی جائے۔ اور یہ تمام انتظامات دسمبر سے قبل مکمل ہونے چاہییں۔

محمد یونس نے کہاکہ ماضی میں ہونے والے انتخابات اکثر محض دکھاوے کے لیے ہوتے تھے، لہٰذا اس بار ایک اصل انتخاب منعقد کرنے کے لیے بہتر تربیت اور مکمل تیاری کی ضرورت ہے۔ واضح ذمہ داریاں تفویض کی جائیں اور اگر ضرورت ہو تو فرضی انتخابات (ماک پولنگ) بھی منعقد کی جائیں۔

محمد یونس نے ووٹرز کو انتخابی عمل سے آگاہ کرنے کے لیے ویڈیو مواد تیار کرنے کی ہدایت دی۔ اور کہاکہ یہ مواد ٹیلی وژن اور سوشل میڈیا پر نشر کیا جائے اور ایمرجنسی رابطہ نمبرز کو عام کیا جائے تاکہ ووٹرز بوقتِ ضرورت براہِ راست کنٹرول روم سے رابطہ کرسکیں۔

چیف ایڈوائزر نے خواتین ووٹرز کے حقِ رائے دہی کے تحفظ پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ آدھے ووٹرز خواتین ہیں، کسی کو بھی ان کے ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے خواتین اہلکاروں اور عملے کی مناسب تعیناتی کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی دی۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں اگلے سال عام انتخابات کروادیں گے، محمد یونس کی مارکو روبیو سے ٹیلی فونک گفتگو

نئے ووٹرز کے لیے خصوصی انتظامات کی ہدایت دیتے ہوئے محمد یونس نے کہاکہ لوگوں نے گزشتہ 16 سال میں کوئی مناسب انتخاب نہیں دیکھا۔ ان کی یادوں میں صرف تشدد اور دھاندلی ہے۔ اس بار ووٹرز کا تجربہ مثبت ہونا چاہیے۔ ایسا تجربہ جو فخر اور دیرپا یاد بن جائے، خاص طور پر ان کے لیے جو پہلی بار ووٹ ڈالیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اعلیٰ سطح اجلاس بنگلہ دیش تیاریاں چیف ایڈوائزر عام انتخابات محمد یونس مناسب تربیت وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اعلی سطح اجلاس بنگلہ دیش تیاریاں چیف ایڈوائزر عام انتخابات محمد یونس مناسب تربیت وی نیوز چیف ایڈوائزر محمد یونس نے بنگلہ دیش کی ہدایت انہوں نے نے کہاکہ کے لیے

پڑھیں:

میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا

چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔

پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگی

بی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدف

دانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔

2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ

بی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاری

دانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔

بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔

گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی

ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز

متعلقہ مضامین

  • پی ڈی ایم اے پنجاب کا شدید بارشوں کا الرٹ، اربن فلڈنگ کا خدشہ
  • آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟
  • سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم